Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تحفظات مسئلہ پر کانگریس کے الزامات مسترد

تحفظات مسئلہ پر کانگریس کے الزامات مسترد

ترقی کی اسکیمات میں کے سی آر کی نئی تاریخ ، ٹی آر ایس اقلیتی قائدین کا بیان
حیدرآباد ۔ 10۔اکتوبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کانگریس کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ ملک میں چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی بہبود اور ان کی ترقی کی اسکیمات کے ذریعہ ایک تاریخ بنائی ہے۔ کسی بھی ریاست میں اقلیتی بہبود کیلئے اس قدر بجٹ مختص نہیں کیا گیا اور نہ ہی منفرد اسکیمات موجود ہیں۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں سے تحفظات کے فراہمی کا جو وعدہ کیا ہے ، اس پر بہرصورت عمل کیا جائے گا ۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین ارشد علی خاں اور صوفی سلطان شطاری نے قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر کے بیان پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ محمد علی شبیر تعمیری تجاویز کے بجائے حکومت پر تنقیدوں کے ذریعہ اپنی بوکھلاہٹ ثابت کر رہے ہیں۔ حکومت کی اسکیمات پر تنقید اور تحفظات کی فراہمی پر شبہات کا اظہار دراصل مسلمانوں سے دشمنی کے مترادف ہے۔ اقلیتی قائدین نے کہا کہ چیف منسٹر نے کسی قانونی رکاوٹ کے بغیر تحفظات فراہم کرنے کیلئے سدھیر کمیشن آف انکوائری قائم کیا۔ کمیشن کی رپورٹ کے بعد بی سی کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا گیا۔ ارشد علی خاں اور صوفی سلطان شطاری نے محمد علی شبیر سے سوال کیا کہ کیا وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار پی ایس کرشنن سے رپورٹ حاصل نہیں کی تھی؟ جس طرح کانگریس نے ریٹائرڈ عہدیدار سے رپورٹ حاصل کی ، اسی طرح ٹی آر ایس حکومت نے سدھیر کمیشن قائم کیا ، جس میں ماہرین کو شامل کیا گیا۔ اقلیتی قائدین نے کہا کہ بی سی کمیشن کی سفارش کے بغیر تحفظات کی فراہمی ممکن نہیں ہے لہذا کے سی آر نے کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا ہے اور ان کی سنجیدگی پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ قائدین نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں جس طرح صرف ایک عہدیدار سے رپورٹ حاصل کرنے کے نتیجہ میں عدالت نے تحفظات کو کالعدم کردیا تھا، اسی تجربہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت نے سدھیر کمیشن آف انکوائری قائم کیا۔ اقلیتی قائدین نے محمد علی شبیر اور دیگر کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ تنقیدوں کے بجائے تحفظات کی فراہمی میں حکومت کو تعمیری تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ خود کو تحفظات کا نام نہاد چمپین قرار دینے والے محمد علی شبیر کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کی بھلائی کیلئے نہ صرف حکومت سے تعاون کریں بلکہ بی سی کمیشن سے رجوع ہوکر کانگریس دور حکومت کی تفصیلات پیش کریں۔ ان قائدین نے کہا کہ سپریم کورٹ میں تحفظات کے مقدمہ کے سلسلہ میں حکومت نے نامور وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT