Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تحفظات مسلمانوں کا حق ‘ حصول کیلئے متحدہ جدوجہد ضروری

تحفظات مسلمانوں کا حق ‘ حصول کیلئے متحدہ جدوجہد ضروری

’ سیاست ‘ کی تحریک پر مسلمانوں کا رد عمل حوصلہ افزا ۔ جدوجہد حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ۔ورنگل میں گول میز کانفرنس ‘عامر علی خاں کا خطاب

ورنگل /13 ستمبر ( سیاست نیوز ) مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات کے وعدہ کی یاد دہانی کیلئے ادارہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک نہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف ہے اور نہ کسی سیاسی جماعت کی تائید میں ہے ۔ یہ تحریک مسلمانوں کی تحریک ہے اور اس کا مقصد وعدہ کی تکیل کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے کیا ۔ جناب عامر علی خاں سٹی پیلس فنکشن ہال ایل بی نگر ورنگل میں منعقدہ راونڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے روزنامہ سیاست کی 12 فیصد مسلم تحفظات کے لئے شروع کردہ تحریک پر مسلمانوں کے ردعمل پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کی یہ تحریک کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی کسی جماعت کی تائید میں ہے، بلکہ مسلمانوں سے جو وعدہ کیا گیا تھا، اس کو پورا کرنے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں، رضاکارانہ اور فلاحی تنظیموں کے سرکردہ شخصیتوں کے علاوہ نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ انھوں نے کہا کہ روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ یہ تحریک تمام مسلمانوں کی تحریک ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لہذا ہم تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے مسلمانوں سے کئے گئے وعدہ کو پورا کرنے متحدہ طورپر مطالبہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کا حصول مسلمانوں کا حق ہے، جس کو حاصل کرنے کے لئے تمام مسلمان اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائیں اور پانچ تا دس افراد پر مشتمل وفد تحصیلدار، آر ڈی او اور کلکٹر کے علاوہ منتخب عوامی نمائندوں کو یادداشت پیش کریں۔ انھوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کانگریس ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے مسلمانوں کو پانچ فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم چار فیصد مسلم تحفظات حاصل ہوئے، لہذا چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کو بھی اپنا وعدہ نبھانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ روزنامہ سیاست نے مسلم مفادات کے تحفظ کیلئے ہمیشہ خود کو پیش پیش رکھا، کئی فلاحی اسکیمات پر عمل کر رہا ہے اور حکومتی اسکیمات سے استفادہ کے معاملے میں مسلمانوں کی رہبری کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دس سال کی جدوجہد کے بعد محکمہ پولیس میں 940 مسلم نوجوانوں کو ملازمت حاصل ہوئی ہے۔ جناب عامر علی خاں نے کہا کہ مسلمانوں کو بی سی تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کا حق صرف بی سی کمیشن کو ہے، لیکن حکومت نے سدھیر کمیٹی تشکیل دی ہے، جو مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کی مجاز نہیں ہے۔ حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے سنجیدہ ہے تو وہ تمام قوانین و اختیارات رکھنے والی بی سی کمیشن تشکیل دے۔ سربراہ مسلم امپاورمنٹ جناب عارض محمد نے مسلم تحفظات کی فراہمی کیلئے دستور اور قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 50 فیصد سے زائد تحفظات نہ بڑھانے سپریم کورٹ کا حوالہ دے کر گمراہ کیا جا رہا ہے، جبکہ اس حکم کے ساتھ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کسی کو تحفظات دینے کیلئے ہم جامع رپورٹ پیش کریں تو سپریم کورٹ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس کیلئے بی سی کمیشن مسلمانوں اور دیگر طبقات کی پسماندگی کا تقابلی ڈاٹا پیش کرے تو مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن اس کے لئے تمام مسلمانوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ صدر شانتی سنگم ڈاکٹر انیس صدیقی نے مسلم تحفظات کی تحریک کو وقت کا تقاضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سیاسی، سماجی، نظریاتی اور مسلکی وابستگی سے بالاتر ہوکر مسلم مفاد کیلئے روزنامہ سیاست کی تحریک کو کامیاب بنانا چاہئے۔        ( باقی سلسلہ صفحہ 6 پر )

TOPPOPULARRECENT