Monday , December 11 2017
Home / مضامین / تحفظات: مسلمانوں کے صبر کا امتحان گجرات، راجستھان، ہریانہ اور اے پی میں لوٹ مار، تشددکا بازار گرم

تحفظات: مسلمانوں کے صبر کا امتحان گجرات، راجستھان، ہریانہ اور اے پی میں لوٹ مار، تشددکا بازار گرم

محمد نعیم وجاہت

ہندوستان بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور ہمارے ملک کی یہ خوبی ہے کہ یہاں کئی مذاہب بولنے والے اور کئی تہذیبوں کی نمائندگی کرنے والے لوگ رہتے اور بستے ہیں اور ہر کسی کو دستور نے جمہوری انداز میں اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے کا حق دیا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ فی الوقت پرامن اور جمہوری انداز میں احتجاج کے حق کا استعمال صرف بیچارے مسلمانوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ مسلمانوں کا ہر احتجاج انتہائی پرامن ہوتا ہے۔ 6 ماہ قبل مسلم تحفظات کے روح رواں نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کی قیادت میں 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک کا پرامن آغاز ہوا جس کی تمام سیاسی و سماجی تنظیموں نے بھرپور تائید کی۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہونے کی وجہ سے تحریک پرامن رہنے کے ساتھ مکمل کامیاب بھی ہے۔ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں یہ تحریک انقلابی رُخ اختیار کرگئی۔ تحصیلداروں، آر ڈی اوز اور کلکٹر کے ساتھ ساتھ عوامی منتخب نمائندوں میں سرپنچ سے ڈپٹی چیف منسٹرس، وزراء، ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ کو مسلمانوں کی جانب سے تحریری یادداشتیں پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی نمائندگیاں کی گئیں۔ اضلاع عادل آباد سے نلگنڈہ تک سیاست سے بالاتر ہوکر مسلمانوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنے اور مسلمانوں میں شعور بیدار کرنے کے لئے ریالیاں، اجلاس، کارنر میٹنگس، گول میز کانفرنس، بھوک ہڑتال کا اہتمام کرتے ہوئے وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے حکومت سے مطالبہ کیا گیا۔ لیکن کسی بھی ریالی یا جلسے میں تشدد کا معمولی واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔ کسی بس یا گاڑی کو سنگباری کا نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی سرکاری و خانگی املاک کو کسی طرح نقصان پہنچایا گیا۔ 12 فیصد مسلم تحریک میں امن و امان کا پورا پورا خیال رکھا گیا۔ جناب عامر علی خاں کی قیادت میں چلائی جارہی 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک نے سارے ہندوستان کو یہ پیغام دیا کہ پرامن تحریک ایسی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس گجرات میں پٹیلوں، راجستھان میں گجروں، ہریانہ میں جاٹوں، آندھراپردیش میں کاپوؤں نے تحفظات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے جس طرح سے احتجاجی مظاہرے کئے اُس سے ملک کی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔

ان احتجاجی مظاہروں میں زبردست جانی، مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ خواتین کی عصمتوں کو تار تار کرتے ہوئے ساری دنیا میں ہندوستان کو شرمسار کیا گیا۔ ہریانہ میں جاٹوں کا احتجاج تشدد، لوٹ مار کی بدترین مثال بن گیا ہے جس میں 34 ہزار کروڑ روپئے کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا، 30 سے زائد جانیں ضائع ہوئیں اور سرکاری و خانگی جائیدادوں کو چُن چُن کر نشانہ بنایا گیا۔ صرف شمالی ریلوے کو 200 کروڑ کے نقصانات برداشت کرنے پڑے۔ اس طرح گجرات میں ہاردک پٹیل کی قیادت میں پٹیلوں نے تحفظات کے لئے پرتشدد احتجاج کیا جس میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے، سرکاری و خانگی املاک کو نشانہ بناتے ہوئے 25 ہزار کروڑ روپئے کے نقصانات کئے گئے۔ کچھ عرصہ قبل راجستھان میں گجروں نے تحفظات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے تشدد میں تبدیل ہوگیا جس میں صرف ریلوے کو یومیہ 15 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا۔ دوسری طرف آندھراپردیش میں تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے کاپوؤں نے تباہی مچادی، ٹرینوں کو نذر آتش کردیا، سرکاری و خانگی املاک کو نقصان پہنچایا گیا جس سے حکومت کو 650 تا 1000 کروڑ روپئے کے نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔ اے بی سی ڈی زمرہ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے مادیگا ریزرویشن پوراٹا سمیتی نے بھی ریاست کی تقسیم سے قبل آندھراپردیش میں بڑی تباہی مچائی۔ سرکاری املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کی دوسری بڑی اکثریت اور سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں نے تحفظات کے لئے جمہوری انداز میں پرامن احتجاج کا جو راستہ اختیار کیا ہے اس کی ہندوستان بھر میں مثال نہیں ملتی۔ یہ تحریک ابھی تک نہ ہی پرتشدد ہوئی اور نہ ہی سرکاری و خانگی کو املاک کسی قسم کا نقصان پہنچا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان ہندوستان میں سب سے زیادہ امن پسند شہری ہیں جن کا دستور پر اٹوٹ ایقان ہے۔ اس کے باوجود ملک میں مسلمانوں سے ناانصافی کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ اگر اس طرح کی ناانصافی گجروں، جاٹوں، پٹیلوں اور کاپوؤں کے ساتھ کی جاتی تو شاید وہ ہتھیار اُٹھالیتے۔ ملک کے موجودہ حالات پر اردو کا یہ محاورہ صادق آتا ہے ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘۔
آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد علیحدہ تلنگانہ ریاست میں منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات 2014 ء میں ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوںکو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ سربراہ ٹی آر ایس کے چندرشیکھر راؤ نے شاد نگر میں منعقدہ ایک جلسہ عام میں اقتدار حاصل ہونے کے اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا جس پر تلنگانہ کے مسلمانوں نے غور کیا۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کے ثمرآور نتائج کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد ٹی آر ایس کو ا قتدار حوالہ کرنے میں کلیدی رول ادا کیا۔ 14 ماہ تک روزنامہ سیاست نے 12 فیصد مسلم تحفظات کا انتظار کیا۔ حکومت کی جانب سے 1.30 لاکھ سرکاری ملازمتوں میں تقررات کرنے کا اعلان کرنے کے بعد مسلم نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے لئے حکومت پر جمہوری انداز میں احتجاج کرتے ہوئے دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

تحریک کی ذمہ داری قبول کرنے والے جناب عامر علی خان نے اضلاع کے دورے کا آغاز کرنے سے قبل یہ اعلان کردیا کہ یہ مسلمانوں کی تحریک ہے اور مسلمانوں کے لئے چلائی جارہی ہے، ان کے کوئی سیاسی عزائم بھی نہیں ہیں۔ اس اعلان کا مسلمانوں میں مثبت پیغام پہنچا۔ تمام قائدین جماعتی وابستگی اور مذہبی رہنما مسلکی اعتبار سے بالاتر ہوکر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے۔ اس تحریک نے مسلمانوں کو متحد کرنے میں گرانقدر رول ادا کیا یہاں تک کہ حکمراں ٹی آر ایس قائدین نے بھی تحریک میں حصہ لیا۔ ضلع میدک کے دو گرام پنچایتوں اور سنگاریڈی میونسپلٹی کے اجلاسوں میں 12 فیصد مسلم قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت کو روانہ کی گئی۔ سارے تلنگانہ میں سرکاری ایمپلائیز اور عوامی منتخب نمائندوں میں 2600 تحریری نمائندگیاں کی گئیں۔ سنگاریڈی کلکٹریٹ میں ایک ہی دن میں 40 سے زائد نمائندگیاں کلکٹر کو سونپی گئی۔ نرمل میں ریاستی وزیر اندرا کرن ریڈی کو سب سے پہلے یادداشت پیش کی گئی۔ عادل آباد میں تاریخی ریالی منظم کی گئی جس میں 8 تا 10 ہزار مسلمان شامل تھے۔ مسلم تحفظات پر سب سے پہلے نظام آباد میں جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا تو دوسری راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے لئے ورنگل پلیٹ فارم بنا۔ ضلع میدک میں 8 جلسے منعقد کئے گئے۔ 4 جلسے اور ایک بھوک ہڑتال منظم کرتے ہوئے ضلع نظام آباد دوسرے نمبر پر رہا۔ نلگنڈہ میں سب سے بڑے جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا۔ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں مسلم تحفظات کی تحریک میں شدت پیدا ہوجانے اور انٹلی جنس کی رپورٹ وصول ہونے کے بعد سرکاری سطح پر ہلچل پیدا ہوگئی۔ گزشتہ اسمبلی سیشن میں 12 فیصد تحفظات کا مسئلہ وقفہ سوالات میں شامل ہوگیا۔ اپوزیشن ارکان کو معطل کرنے کے باعث یہ مسئلہ موضوع بننے سے قاصر رہا۔ مسلمانوں کے بڑھتے دباؤ پر کریم نگر میں چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے مسلم تحفظات پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے حیدرآباد میں منعقدہ ’صحافت سے ملاقات‘ پروگرام میں ریاستی وزیر ہریش راؤ نے ظہیرآباد کے جلسہ عام اور چیف منسٹر کی دختر رکن پارلیمنٹ مسز کویتا نے نظام آباد میں مسلم تحفظات پر ردعمل کا اظہار کیا۔ روزنامہ سیاست کی تحریک اور عامر علی خاں کے دوروں پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک کو جماعت اسلامی، جمعیت العلماء کے علاوہ سماجی اور مذہبی تنظیموں کی بھرپور تائید حاصل ہے جس کی وجہ سے یہ مہم تحریک میں تبدیل ہوگئی۔ 12 فیصد تحفظات کی اِس تحریک کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ یہ پرامن طور پر جاری ہے اور جمہوری انداز میں چلائی جارہی ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ پرامن تحریک پر تلنگانہ حکومت کی ٹال مٹول پالیسی سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اُن میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ پرتشدد احتجاج کرنے پر جاٹوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ گجروں کو راجستھان میں تحفظات فراہم کرنے کے وعدے کئے گئے۔ گجرات میں پٹیلوں کو تحفظات فراہم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔ کاپوؤں کو بی سی طبقات میں شامل کرنے کے لئے بی سی کمیشن تشکیل دے دیا گیا۔ تلنگانہ میں پرامن احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے کم از کم بی سی کمیشن تشکیل دینے کے بجائے سدھیر کمیشن کی میعاد میں بار بار توسیع کرتے ہوئے مسلمانوں کے صبر کا امتحان لیا جارہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے اور پرامن مسلم تحفظات تحریک تشدد کا رُخ اختیار کرتی ہے تو اس کی ساری ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT