Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تحفظات پر مؤثر عمل آوری تک بی سی طبقات کی ترقی ناممکن

تحفظات پر مؤثر عمل آوری تک بی سی طبقات کی ترقی ناممکن

کمیشن فار بیاک ورڈ کلاس کو اختیارات دینے کا مطالبہ : جسٹس وی ایشور آیاچیرمین کا بیان

کمیشن فار بیاک ورڈ کلاس کو اختیارات دینے کا مطالبہ : جسٹس وی ایشور آیاچیرمین کا بیان
حیدرآباد ۔ 11 اپریل (سیاست نیوز) چیرمین نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس جسٹس وی ایشورآیا نے کہا کہ بی سی طبقات کی ترقی اس وقت ہی ممکن ہے تاوقتیکہ تحفظات پر مؤثر عمل آوری میں کمیشن کو مکمل اختیارات نہ دیئے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار آج انہوں نے یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں کمیشن فار بیاک ورڈ کلاس کی عدم موجودگی کے نتیجہ میں قومی سطح پر پسماندہ طبقات کی فہرست میں مختلف طبقات کی شمولیت کا جائزہ لینے کی غرض سے نیشنل کمیشن کی جانب سے عوامی سماعت کے دوران دیگر بی سی طبقات اور مسلمانوں کو مرکز کے بی سی ای زمرہ کے تحت شامل کرنے کے سلسلہ میں پیش کی گئی نمائندگیاں غیراطمینان بخش اور مایوس کن رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح کا او بی سی سرٹیفکیٹ مرکزی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور مرکزی سطح کا او بی سی سرٹیفکیٹ ریاستی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس لئے تحفظات سے متعلق مکمل تفصیلات کی قومی سطح پر پسماندہ طبقات کی فہرست میں شمولیت انتہائی لازمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی سی ای زمرہ کے تحت سماجی، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر جن (14) مسلم طبقات کو تحفظات فراہم کئے گئے مسلم تحفظات کا مسئلہ سپریم کورٹ میں زیردوران ہے اور سپریم کورٹ نے تاہم مسلم تحفظات کے مسئلہ کو 3 مرتبہ مسترد کردیا ہے اور مذکورہ مسئلہ زیرغور ہے۔ اگر سپریم کورٹ اس کا فیصلہ دے تو نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ تحفظات پر عمل آوری کے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کروائے گئے ہمہ مقصدی سروے میں مکمل تفصیلات حاصل کی گئیں جس کے ذریعہ پسماندہ طبقات کی فہرست عنقریب سامنے آئے گی۔ اس موقع پر پرنسپل سکریٹری بی سی ویلفیر حکومت تلنگانہ مسٹر ٹی رادھا، کمیشن ارکان ایس کے کارؤنتھن، ڈاکٹر شکیل الزماں انصاری بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT