Sunday , August 19 2018
Home / Top Stories / تحفظات کو حق بجانب قرار دینے کیلئے حکومت کی کوشش

تحفظات کو حق بجانب قرار دینے کیلئے حکومت کی کوشش

مواد کی تیاری کیلئے بی سی اور سماجی بھلائی کے ادارہ مصروف

وزیر اعظم سے ملاقات کرنے کا ارادہ
حیدرآباد۔ 22 فبروری (سیاست نیوز) اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات کی پیش قیاسی کے دوران کے سی آر حکومت کے لیے مسلم اور ایس ٹی تحفظات کا مسئلہ گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ مرکز کی جانب سے تحفظات میں اضافے پر اعتراضات کے بعد حکومت قانونی اور دستوری راستے سے مرکز کو اضافی تحفظات کے حق میں راضی کرنے کی تیاریوں میں ہے۔ بی سی ویلفیر اور سوشل ویلفیر کے اعلی عہدیدار ماہرین قانون سے مشاورت کرتے ہوئے مسلم اور ایس ٹی تحفظات کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے مواد کی تیاری میں جٹ گئے ہیں تاکہ جلد سے جلد مرکز کو روانہ کرتے ہوئے صدر جمہوریہ کی منظوری حاصل کی جائے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر رائو اس بات پر مایوس ہیں کہ مرکز نے جائز وجوہات کے بغیر ہی تلنگانہ حکومت کے بل کو واپس کردیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بل کی واپسی سے قبل تلنگانہ حکومت کے عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے درکار تفصیلات حاصل کی جاتیں۔ مرکز نے تلنگانہ حکومت کو وضاحت کا موقع دیئے بغیر ہی دونوں تحفظات میں اضافہ کو غیر دستوری قرار دے دیا۔ اس طرح ریاستی حکومت نے تحفظات کی فراہمی کے لیے جو ہوم ورک کیا تھا اس پر پانی پھیردیا۔ مرکز کے اعتراضات کے بعد تلنگانہ حکومت کو پھر ایک بار نئے سرے سے تحفظات کو حق بجانب قرار دینے کے لیے مواد روانہ کرنا پڑے گا۔ اس سلسلہ میں بی سی کمیشن کی رپورٹ سے مدد حاصل کی جائے گی جس نے تحفظات کی فراہمی کے حق میں حکومت کو سفارش کی تھی۔ دستور کی رو سے تحفظات کی فراہمی کے لیے بی سی کمیشن کی سفارشات ناگزیر ہیں جو کسی بھی طبقے کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لیتے ہوئے سفارش کرنے کا مجاز ہے۔

مرکزی حکومت سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کو بل مسترد کیے جانے کی امید نہیں تھی۔ انہیں وزیراعظم نریندر مودی کے اس مثبت ردعمل پر بھروسہ تھا جس میں انہوں نے بقول کے سی آر تحفظات کی منظوری کا وعدہ کیا تھا۔ چیف منسٹر اس یقین کا شکار رہیں کہ مودی انہیں مایوس نہیں کریں گے کیوں کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر ٹی آر ایس مرکز کی تائید کی تھی۔ حال ہی میں طلاق ثلاثہ بل کی لوک سبھا میں پیشکشی کے موقع پر حکومت کو مشکلات سے بچانے کے لیے ٹی آر ایس نے بل کی مخالفت کے بجائے مباحث میں حصہ نہیں لیا۔ اس طرح غیر جانبدارانہ رویہ کے ذریعہ ٹی آر ایس نے طلاق ثلاثہ بل پر بالواسطہ مرکز کی تائید کی۔ بجٹ سیشن کے آغاز پر ٹی آر ایس کے پارلیمانی لیڈر جتیندر ریڈی اور کے سی آر کی دختر کویتا نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی مسائل کی بنیاد پر مرکز کی تائید کررہی ہے۔ اہم معاملات میں مرکز کی کھل کر تائید کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نے تحفظات بل کو واپس کرنے کی اجازت دی جس سے کے سی آر مایوس ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ تحفظات کے سلسلہ میں وزیراعظم سے خصوصی ملاقات کی جائے۔ پارٹی کے بعض گوشے انہیں تحفظات کے سلسلہ میں کل جماعتی وفد کے ساتھ وزیراعظم سے نمائندگی کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ اپوزیشن بالخصوص کانگریس کو اس مسئلہ پر سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقع نہ رہے۔ حال ہی میں دانتوں کے علاج کے سلسلہ میں چیف منسٹر ایک ہفتے تک نئی دہلی میں قیام پذیر رہے۔ اس دوران انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی کوشش کی لیکن وزیراعظم کے دفتر سے ملاقات کا وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ چیف منسٹر کی حیدرآباد واپسی تک وزیراعظم بیرون ملک کے دورے سے واپس ہوچکے تھے اس کے باوجود انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس ملاقات میںکے سی آر اس بات کی کوشش کرتے کہ وزیراعظم کو مسلم اور ایس ٹی تحفظات کے حق میں فیصلہ کرنے پر راضی کیا جائے۔ ایسے وقت جبکہ حکومت کی بعض حلیف جماعتوں میں باغیانہ تیور اختیار کرلیے ہیں، ٹی آر ایس مرکز سے قربت حاصل کرتے ہوئے ریاست کو درپیش مسائل خاص طور پر فنڈس کے حصول کی خواہاں ہے۔ پارٹی کے بعض قائدین کا احساس ہے کہ تحفظات کے سلسلہ میں چیف منسٹر کو بہت پہلے ہی وزیراعظم سے دوبارہ نمائندگی کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے وزیراعظم کے تیقن پر جو بھروسہ کیا وہ نقصاندہ ثابت ہوا۔ پارٹی کے ایک سینئر قائد نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات اور گزشتہ 4 برسوں کی حکومت کارکردگی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم کے تیقن پر بھروسہ کرنا ممکن نہیں۔ دراصل مرکز کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح ٹی آر ایس کو آئندہ عام انتخابات تک اپنی حلیف جماعتوں میں شامل کیا جائے۔ کے سی آر نے جب باقاعدہ این ڈی اے میں شمولیت سے انکار کیا اور مسائل کی بنیاد پر تائید کا تیقن دیا تو وزیراعظم نے جواب میں ریاست کو اطلاع دیئے بغیر ہی تحفظات بل کو واپس لوٹادیا۔
وزیراعظم چاہتے تھے کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے سہارے بی جے پی کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے حیدرآباد کے اپنے دورے کے موقع پر پارٹی کیڈر کو ٹی آر ایس سے اتحاد کی مساعی کرنے کا مشورہ دیا تھا اس کے علاوہ بی جے پی کیڈر کو ٹی آر ایس حکومت کے خلاف جدوجہد اور بیان بازی سے گریز کی ہدایت دی گئی تھی۔ ٹی آر ایس کو قریب کرنے کے لیے بی جے پی صدر امیت شاہ نے اپنا دورۂ تلنگانہ بھی منسوخ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلم اور ایس ٹی تحفظات بل کی واپسی کا تعلق بی جے پی۔ٹی آر ایس سیاسی تعلقات پر منحصر ہے۔ اب فیصلہ ٹی آر ایس کو کرنا ہے کہ کیا تحفظات کی منظوری کے لیے وہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی سے دوستی کرلے گی؟ اسی دوران چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق کے سی آر نہیں چاہتے کہ ان پر فرقہ پرست جماعت کے ساتھ دوستی کا لیبل لگے لہٰذا وہ آئندہ انتخابات میں تنہا مقابلہ کرنے کے حق میں ہیں۔ پارٹی کی جانب سے کیے گئے مختلف سروے کی بنیاد پر اگر وسط مدتی انتخابات ہوتے ہیں تب بھی تلنگانہ میں بی جے پی کے لیے کوئی خاص مظاہرے کی گنجائش نہیں۔ چیف منسٹر مطمئن ہیں کہ بعض طبقات کی ناراضگی کے باوجود ان کی پارٹی بآسانی دوبارہ اقتدار حاصل کرسکتی ہے۔ انہیں مخالف حکومت ووٹ کی تقسیم پر مکمل بھروسہ ہے۔ کانگریس، تلگودیشم، بی جے پی، کودنڈارام اور بائیں بازو جماعتوں کے اتحاد کے درمیان مخالفت حکومت ووٹ تقسیم ہوجائیں گے اور ٹی آر ایس بآسانی اکثریت حاصل کرلے گی۔ 2014ء کی طرح نتائج کے بعد چھوٹی جماعتوں کی تائید اور اپوزیشن ارکان کو انحراف پر اکساتے ہوئے اپنی عددی طاقت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اگر چیف منسٹر وسط مدتی انتخابات کے حق میں ہیں تو وہ تحفظات کی منظوری کے لیے دہلی کا دورہ کریں گے۔ اس کا انحصار ماہرین قانون کی رائے پر رہے گا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسلم اور ایس ٹی تحفظات کو علیحدہ طور پر بھی مرکز کو روانہ کیا جائے تو منظوری ممکن نہیں۔ کیوں کہ بی جے پی کی پالیسی میں یہ شامل ہے کہ تحفظات کا فیصد 50 سے عبور سے نہ کیا جائے۔ بی جے پی بنیادی طور پر اعلی طبقات کے مفادات کی محافظ ہے لہٰذا اس سے تحفظات میں اضافے کی توقع کرنا فضول ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف منسٹر تحفظات کی منظوری کے لیے کب اور کس طرح سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ انہیں سپریم کورٹ سے رجوع ہونے میں اس لیے بھی دشواری ہوگی کیوں کہ ریاست کا 4 فیصد تحفظات کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ 12 فیصد کا مطالبہ 4 فیصد کو نقصان پہنچادے۔

کاش حکومت پہلے سے تیاری کرتی
مرکز کی جانب سے مسلم اور بی سی تحفظات بل واپس کیے جانے کے بعد ٹی آر ایس حکومت ہوش میں آئی ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو بخوبی اندازہ تھا کہ مرکز بل کو استفسارات کے ساتھ واپس کرے گا۔ لہٰذا اسے جواب داخل کرنے کی تیاری بہت پہلے سے کرنی چاہئے تھی۔ روزنامہ سیاست نے جب تحفظات کے حق میں تحریک کا آغاز کیا تھا اس وقت حکومت کو تجویز پیش کی گئی تھی کہ وہ بل کی منظوری کے وقت ایس سی اور بی سی طبقات سے مسلمانوں کی پسماندگی کا تقابلی جائزہ رپورٹ میں شامل کرے۔ اگر مرکز کو بل کی روانگی کے وقت مسلمانوں کی پسماندگی کا دیگر طبقات کے ساتھ تقابلی جائزہ پیش کیا جاتا تو شاید مرکز کسی استفسار کے موقف میں نہ ہوتا۔ اس کے لیے حکومت کو کسی محنت کی ضرورت اس لیے بھی نہیں تھی کیوں کہ سچر کمیٹی اور سدھیر کمیشن کی رپورٹ میں مسلمانوں کی دیگر طبقات سے زیادہ پسماندگی کا تقابلی جائزہ اعداد و شمار کے ساتھ موجود ہے۔ اب جبکہ حکومت کے مختلف محکمہ جات نے مل کر مرکز کے اعتراضات کا جواب تیار کرنے کا کام شروع کیا ہے ظاہر ہے اس کے لیے وقت لگ جائے گا اور مرکز کو جواب داخل کرنے میں تاخیر سے تحفظات کا بل پھر ایک بار مرکز میں معرض التوا کا شکار ہوسکتا ہے۔ جس وقت مرکز کو تحفظات کا بل روانہ کیا گیا تھا حکومت کو بھی یقین تھا کہ اسے مرکز سے منظور کرانا آسان نہیں۔ ماہرین قانون نے تجویز پیش کی تھی کہ بل کی روانگی کے ساتھ ہی سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری کی جائے لیکن مرکز نے ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی اور 10 ماہ تک بل کو زیر التوا رکھا۔ اب جبکہ محکمہ جات بی سی ویلفیر اور سوشل ویلفیر کی جانب سے مرکز کے اعتراضات کا جواب تیار کیا جارہا ہے۔ لہٰذا تیاری میں  ماہرین قانون کی شمولیت سے وقت لگے گا۔ اگر حکومت پہلے ہی سے اعتراضات کا جواب بھی تیار رکھتی تو اسے فوری روانہ کیا جاسکتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق عہدیدار مرکز کو روانہ کی جانے والی رپورٹ تیار کرنے کے بعد چیف منسٹر کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے اسے منظوری دیں گے۔ مرکز کے اعتراضات کا جواب دینے کے لیے بی سی کمیشن کے علاوہ سدھیر کمیشن کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں جس میں تحفظات کی فراہمی سے متعلق ماہرین موجود ہیں۔
TOPPOPULARRECENT