Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / تحفظات کیلئے مسلمانوں کی ریکارڈ نمائندگی، حکومت پر دباؤ

تحفظات کیلئے مسلمانوں کی ریکارڈ نمائندگی، حکومت پر دباؤ

’سیاست‘ کی مہم کا اعتراف۔ کمیشن اضلاع کے دورہ کے حق میں، بی سی تنظیموں کی اکثریت مسلم تحفظات کی حامی
حیدرآباد۔/20ڈسمبر، ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے مسئلہ پر مسلمانوں نے بی سی کمیشن سے نمائندگی کے سلسلہ میں جس جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اس سے حکومت خود بھی حیرت میں ہے۔ ایک طرف بی سی کمیشن 52000 سے زائد نمائندگیوں سے مطمئن ہے تو دوسری طرف حکومت کو اس بات پر حیرت ہے کہ ریاست کے دوردراز علاقوں سے پہنچ کر مسلمانوں نے مسلم تحفظات کے حق میں کمیشن سے نمائندگی کی۔ اب تک قائم کردہ کمیشنوں میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی کمیشن کو اس قدر زائد نمائندگیاں موصول ہوئیں۔ سابق میں کمیشنوں نے عوامی سماعت کیلئے اضلاع کا دورہ کیا تھا اس کے باوجود اس قدر بڑی تعداد میں نمائندگیاں وصول نہیں ہوئیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ کمیشن کی جانب سے حیدرآباد میں 6 روزہ عوامی سماعت میں ہزاروں افراد کی شرکت سے تحفظات کے مسئلہ پر ٹی آر ایس حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بڑی تعداد میں پسماندہ طبقات کی تنظیموں نے بھی کمیشن سے رجوع ہوکر اپنے موقف کو پیش کیا لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ بی سی تنظیموں کی اکثریت نے مسلم تحفظات کی تائید کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ طبقات کیلئے موجودہ تحفظات کے فیصد میں بھی اضافہ کیا جانا چاہیئے۔ کمیشن نے بی سی تنظیموں پر واضح کردیا کہ بی سی تحفظات کو متاثر کئے بغیر ہی مسلمانوں کو تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی سفارش کی جائے گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو کمیشن کی 6روزہ عوامی سماعت کے بارے میں جب تفصیلات کا علم ہوا تو بتایا جاتا ہے کہ وہ خود بھی یہ جان کر حیرت میں پڑ گئے کہ ہزاروں کی تعداد میں نمائندگیاں داخل کی گئیں جو تحفظات کے حصول کیلئے مسلمانوں میں شعور بیداری کا واضح ثبوت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن نے دیگر پسماندہ طبقات کی صورتحال کا جائزہ لینے اور مسلمانوں کی پسماندگی کی حقیقی معلومات کیلئے اضلاع کے دورہ کا منصوبہ بنایا ہے تاہم ابھی تک دورہ کے پروگرام کو قطعیت نہیں دی گئی۔ کمیشن کا اجلاس جلد منعقد ہوگا جس میں دورہ اور آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی۔ کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو نے تحفظات کے مسئلہ پر روزنامہ سیاست کی جانب سے داخل کردہ تقریباً 50ہزار نمائندگیوں پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس قدر بڑی تعداد میں لوگ اخبار کی مہم سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ تمام نمائندگیوں کا کمیشن جائزہ لے رہا ہے اور حقیقی تعداد کے بارے میں بہت جلد تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ روز نامہ ’سیاست‘ کی جانب سے  نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خاں نے35000 ای میل جوابات اور 10000 تحریری نمائندگیاں کمیشن کے حوالے کیں ۔ صدرنشین اور ارکان نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ریاست کے دوردراز علاقوں اور چھوٹے مواضعات میں بھی ’سیاست‘ کی مہم کا اثر دیکھا گیا اور وہاں سے مسلمان وفود کی شکل میں کمیشن سے رجوع ہوئے۔ 6 دن کی سماعت کے دوران موصولہ تمام نمائندگیوں کو علحدہ کرنے کا کام جاری ہے۔ ابتدائی اندازہ کے مطابق کمیشن کے دفتر میں 10ہزار سے زائد فارمس حاصل کئے گئے تھے اس کے علاوہ بھی انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے فارمس داخل کئے گئے۔ کمیشن کے صدرنشین نے کہا کہ ایک نمائندگی کے ساتھ وفد کی آمد کے باعث کمیشن ہر نمائندگی کی سماعت کیلئے مناسب وقت نہ دے سکا۔ کمیشن کے دفتر میں چھ دن میں 2377 ٹوکن جاری کئے گئے تھے جبکہ کئی افراد نے بغیر ٹوکن کے بھی کمیشن سے نمائندگی کی۔ عوامی نمائندوں اور سیاسی قائدین نے راست طور پر کمیشن کو یادداشت حوالے کی اور انہوں نے ٹوکن یا حلف نامہ کی تکمیل نہیںکی۔ کمیشن کی جانب سے حلف نامہ کے ساتھ موصول ہونے والی اور دیگر نمائندگیوں کو علحدہ کرنے کا کام جاری ہے۔ سماعت کی تکمیل کے بعد بھی کئی تنظیموں نے صدرنشین سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی یادداشت پیش کی۔ تلگودیشم کے رکن راجیہ سبھا ٹی دیویندر گوڑ کی سرپرستی میں چلنے والے ادارہ بی سی سنٹر فار امپاورمنٹ کے ایک وفد نے آج صدرنشین بی سی کمیشن سے ملاقات کی اور انہیں یادداشت پیش کی۔ سنٹر کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ وہ مسلمانوں کو تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے مخالف نہیں ہیں تاہم وہ چاہتے ہیں کہ کمیشن کا کوئی بھی فیصلہ بی سی طبقات کے مفادات کو متاثر نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی آبادی 52 فیصد ہے لہذا ان کے تحفظات میں بھی اضافہ کیا جانا چاہیئے۔ بی سی قائدین نے کمیشن پر زور دیا کہ اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے پسماندہ طبقات کی صورتحال کا بھی جائزہ لے۔ بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کی تنظیم نے بھی صدرنشین سے ملاقات کی اور تحفظات کے مسئلہ پر اپنے دلائل پیش کئے۔ کمیشن کو انٹرنیٹ پر جو نمائندگیاں موصول ہوئی ہیں ان کی حقیقی تعداد کا علم نہیں ہوسکا کیونکہ کمیشن نے ابھی ان نمائندگیوں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کا کام شروع نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف اضلاع سے مسلم تنظیموں کی جانب سے نمائندگیاں بذریعہ ڈاک بھی موصول ہورہی ہیں۔ اس طرح 6 روزہ عوامی سماعت کے بعد کمیشن نے نمائندگیوں کا جائزہ لینے اور آئندہ لائحہ عمل کو طئے کرنے میں مصروف ہوچکا ہے۔ کمیشن کا یہ احساس ہے کہ صرف سدھیر کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر سفارشات پیش کرنا مسلم تحفظات کے حق میں بہتر نہیں ہوگا لہذا وہ سابق میں عدالتوں کے فیصلوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بعض اضلاع کا دورہ کرنے کے حق میں ہیں تاہم اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ حکومت کرے گی۔ اسی دوران کمیشن کو حکومت نے دفتر کی جگہ فراہم کردی ہے لیکن انہیں بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جن میں اسٹاف، کمپیوٹرس، انٹرنیٹ اور دیگر سہولتیں شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن کے لئے صرف 4 رکنی اسٹاف الاٹ کیا گیا جن میں 2 اٹینڈرس ہیں۔ کمیشن نے کم سے کم 10 رکنی اسٹاف کے الاٹمنٹ کی خواہش کی ہے اس کے علاوہ کمپیوٹرس، آپریٹرس اور رپورٹ کی تیاری میں مدد کیلئے بعض ماہرین کی خدمات کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی گئی۔بتایا جاتا ہے کہ کمیشن اپنی کارکردگی کو آگے بڑھانے کیلئے مختلف شعبوں کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر غور کررہا ہے تاہم اس کیلئے حکومت کی منظوری  ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT