Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تحفظات کے بغیر بے روزگار مسلم نوجوانوںکا مستقبل داؤ پر

تحفظات کے بغیر بے روزگار مسلم نوجوانوںکا مستقبل داؤ پر

سرکاری ملازمتوں کیلئے غفلت سے بیدار ہونا ضروری‘  کریم نگر میں مشاورتی اجلاس ‘ جناب عامر علی خان کا خطاب

حیدرآباد /19 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) آزادی کے بعد سے آج تک مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس سلسلے میں جسٹس سیچر کمیٹی اور ڈاکٹر رنگاناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات میں واضح کردیا گیا ہے ۔ چنانچہ قانونی حیثیت کے حامل بی سی کمیشن کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیمی شعبہ اور ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جاسکتے ہیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ انتخابات کے دوران مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور مختلف رکاوٹوں اور قانون کا حوالہ دیتے ہوئے سدھیر کمیشن آف انکوائری قائم کی جس کی کوئی قانونی حیثیت ہی نہیں ہے ۔ اسی لئے بہت ہی سوچ و فکر اور دوراندیشی کے ساتھ بحیثیت نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اس تصور کے تحت کہ کل اللہ تعالیٰکہیں مجھ سے یہ سوال نہ کر بیٹھے کہ میں نے تجھے بہت سارے وسائل ، اختیارات اور مواقع فراہم کئے تھے آخر تم نے امت مسلمہ کیلئے کیا کیا ؟ اس جواب دہی کے احساس کے ساتھ میں نے مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات کے حصول کیلئے ہر ممکنہ جدوجہد اور عوامی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کا آغاز کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کریم نگر میں مسلم بہبود کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ مشاورتی اجلاس و لائحہ عمل کو خطاب کرتے ہوئے کیا  جس کی صدارت سینئیر صحافی و صدر مسلم بہبود کمیٹی کریم نگر جناب سید محی الدین نے کی ۔ جناب عامر علی خان نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہم جدوجہد نہ کریں گے تو ہمیں تحفظات حاصل نہیں ہوں گے ۔ کے سی آر نے اسمبلی میں قرارداد منظور کرنے اور مرکز کو روانہ کرنے کی بات کہی ہے ۔ سدھیر کمیشن کی تحقیقات کی مکمل عمل آوری کے بعد نویں شیڈیول کے تحت تحفظات دینے کی کوشش کریں گے ۔ جبکہ تحفظات کے سلسلے میں مسلمانوں کا مکمل ڈاٹا نہ پیش کرنے پر 4 فیصد تحفظات حاصل ہے ۔ یہ معاملہ ابھی بھی سپریم کورٹ میں لٹکا ہوا ہے ۔ جناب عامر علی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بی سی کمیشن قائم کریں تاکہ صحیح طریقہ پر مسلمانوں کے ساتھ انصاف ہوسکے اور مسلمانوں کے اعداد و شمار اور معاشی ، تعلیمی ، پسماندگی کا جائز ہ لے کرسفارش کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ سے زائد جائیدادوں پر تقررات کا اعلامیہ جاری ہوچکا ہے ۔ اب بھی اگر ہم غفلت کی نیند سے بیدار نہ ہوئے تو آئندہ شائد 20 برس تک سرکاری ملازمتوں کا موقع مل نہیں پائے گا ۔ اس وقت 40 سال کی عمر تک پہونچ جانے والے تعلیم یافتہ بے روزگاروں کا مستقبل داؤ پر لگاہوا ہے ۔ مسلمانوں کے کچھ خاندانوں کی اولاد خلیجی ممالک میں برسر روزگار ہیں ۔ اس کی وجہ ان کی مالی صورتحال کچھ بہتر ہے لیکن اب خلیج میں بھی غیر یقینی صورتحال ہے ۔و ہاں اب غیر مقیم افراد کو واپس بھیج دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے مسلمانان کریم نگر سے  پرزور خواہش کی کہ آپ لوگ حکومت پر دباؤ ڈالیں اور کے سی آر کو اپنے وعدہ کی تکمیل کیلئے ’’ سیاست ‘‘ کی جانب سے شروع کردہ حصول تحفظات مہم میں شامل ہوجائیں اور روزانہ دو دو ، چار چار یا تنہا بھی سرکاری عہدیداروں ، اعلی سیاسی قائدین کو 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کیلئے یادداشتیں حوالے کریں ۔ انہوں نے اس موقع پر گائے کے مسئلہ پر کچھ روشنی ڈالی اور سورہ بقرہ کا حوالہ دیا ۔  ( سلسلہ صفحہ 9پر )

TOPPOPULARRECENT