Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / تحفظات کے ذریعہ 17ہزارمسلمانوں کو ملازمت یقینی

تحفظات کے ذریعہ 17ہزارمسلمانوں کو ملازمت یقینی

متحدہ جدوجہد ناگزیر ، ہمیں حب الوطنی کا سرٹیفکٹ پیش کرنے کی ضرورت نہیں، سدی پیٹ میں جلسہ، جناب عامر علی خاں کا خطاب

سدی پیٹ /15 دسمبر (محمد کلیم الرحمن کی رپورٹ)مسلمانوں کی ترقی کے لئے تحفظات ناگزیر ہیں اور جدوجہد کے ذریعہ ہی اس مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت نے مختلف محکمہ جات میں تقررات کا آغاز کیا ہے اور حسب وعدہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کئے جائیں تو انھیں 16 تا 17 ہزار ملازمتیں مل سکتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ میڈیکل، انجینئرنگ اور پیشہ ورانہ کورسیس میں ہر سال 25 ہزار طلبہ کا داخلہ یقینی ہوسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہارجناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے سدی پیٹ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا۔ انھوں نے کہاکہ ادارہ سیاست نے جو مہم شروع کی ہے آج ایک تحریک کی شکل اختیار کرگئی ہے اور تمام مسلمانوں کو متحد ہوکر اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ انھوں نے ملک کے موجودہ حالات پر بھی روشنی ڈالی اور کہاکہ مسلمانوں کو حب الوطنی کا سرٹیفکٹ کسی کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس جلسہ میں رکن قانون ساز کونسل جناب محمد فاروق حسین نے ملک میں عدم رواداری کے ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں سے حب الوطنی کے بارے میں سوال کیا جارہاہے۔ گھر واپسی اور پاکستان جاؤ جیسے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعہ اُنھیں ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جناب عامر علی خاں نے جواب میں کہاکہ مسلمانوں نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا اور جنھیں پاکستان جانا تھا وہ جاچکے ہیں۔ ہم یہاں کے شہری ہیں اور ہمارا بھی اس ملک پر مساوی حق ہے لہذا ہمیں نریندر مودی یا امیت شاہ کو حب الوطنی کا سرٹیفکٹ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اُنھوں نے اِس ضمن میں یہ شہر سنایا:
سلطان جائیں گے نہ سردار جائیں گے
جنت میں تو صاحب ِ ایمان جائیں گے
ملک کو جب ضرورت پڑے لہو کی
سرحد پر سر کٹانے مسلمان جائیں گے
انھوں نے کہاکہ مسلمانوں کو سماجی و معاشی پسماندگی دور کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ انھوں نے کہاکہ اُمت مسلمہ کو کلمہ کی بنیاد پر متحد ہونے اور اپنے حقوق کے لئے ملکر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہاکہ مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی دور کرنے کے لئے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں، صنعتی پارکس میں مسلمانوں کو حصہ دار بناکر بڑے پیمانے پر سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں، تب ہی مسلمانوں کی پسماندگی دور ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے 9 ویں شیڈول میں ترمیم کرکے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن مسلمانوں کو اس پر بھروسہ نہیں ہے، کیونکہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے اور وزیر اعظم مودی مسلم تحفظات کے مخالف ہیں۔ اگر چیف منسٹر کے سی آر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں تو وہ بی سی کمیشن تشکیل دیں اور اس کی سفارش پر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کریں۔ جناب محمد فاروق حسین ایم ایل سی نے اس جلسہ میں بحیثیت مہمان خصوصی جناب عامر علی خاں کی شرکت پر اُن سے اظہار تشکر کیا ۔ (باقی سلسلہ صفحہ 8پر)

TOPPOPULARRECENT