Monday , August 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تحفظات کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں تیسرے دن بھی ہنگامہ

تحفظات کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں تیسرے دن بھی ہنگامہ

ٹی آر ایس ارکان کا پلے کارڈس کے ساتھ احتجاج، ریاستوں کو تحفظات کا اختیار دینے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 7 ۔مارچ (سیاست نیوز) تحفظات کی فراہمی کا اختیار ریاستوں کو دیئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس کے ارکان نے آج پارلیمنٹ میں احتجاج منظم کیا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں آج مسلسل تیسرے دن شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے سبب کارروائی نہیں ہوسکی۔ ٹی آر ایس ارکان نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو تحفظات کے فیصد میں اضافہ سے متعلق بل کی منظوری کا مطالبہ کیا۔ ارکان نے کہا کہ حکومت نے تحفظات کے فیصد میں اضافہ سے متعلق جو بل مرکز کو روانہ کیا ہے ، اسے منظوری دی جائے۔ لوک سبھا میں ٹی آر ایس ارکان جتیندر ریڈی ، کویتا ، سرینواس ریڈی ، وشویشور ریڈی ، ونود کمار ، بی سمن اور دوسروں نے پلے کارڈس تھام کر نعرہ بازی کی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو اس بات کا اختیار دیا جائے کہ وہ کمزور طبقات کو ان کی آبادی کے اعتبار سے تحفظات فراہم کریں۔ اجلاس کے التواء کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ کویتا نے کہا کہ تعلیم اور روزگار میں تحفظات کے ذریعہ کمزور طبقات کی پسماندگی کو دور کرنا حکومت کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 50 فیصد کی جو حد مقرر کی ہے، اس کا بہانہ بناکر مرکزی حکومت تحفظات بل کو منظوری دینے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کہ تحفظات 50 فیصد سے زائد نہ ہوں۔

تحفظات میں اضافہ کا اختیار ریاستوں کو دیاجائے ۔ اس کے علاوہ زراعت ، تعلیم ، صحت اور دیگر اہم شعبہ جات میں ریاستوں کو زائد اختیارات ملنے چاہئے ۔ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد درج فہرست قبائل اور مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے بی سی کمیشن اور سدھیر کمیشن سے رپورٹ حاصل کرنے کے بعد موجودہ تحفظات میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے ۔ کویتا نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ تحفظات میں اضافہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 50 فیصد کی حد صرف تلنگانہ ریاست کے لئے کیوں مخصوص کی جارہی ہے جبکہ مہاراشٹرا ، ٹاملناڈو اور بعض دیگر ریاستوں میں 50 فیصد سے زائد تحفظات موجود ہیں۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق 50 فیصد سے زائد تحفظات کیلئے حکومت کو وجوہات پیش کرنے ہوں گے ۔ ٹی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے کیشو راؤ نے کہا کہ ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات گزشتہ 21 برسوں سے جاری ہے۔ راجستھان ، مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں میں 50 فیصد سے ز ائد تحفظات فراہم کئے گئے لیکن مرکز نے اعتراض نہیں کیا۔ اب جبکہ ٹی آر ایس نے تلنگانہ میں اپنے وعدہ کی تکمیل کیلئے تحفظات میں اضافہ کیا تو اس پر اعتراض کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ملازمت میں پسماندگی کے خاتمہ کے مقصد سے تحفظات فراہم کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ سیشن میں ٹی آر ایس کا یہ احتجاج آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس کے احتجاج کو کئی جماعتوں کی تائید حاصل ہوئی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT