Thursday , July 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تحفظات کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس کا احتجاج حق بجانب

تحفظات کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس کا احتجاج حق بجانب

تلگودیشم کی تنقید مسترد ، بی جی پی کو اکثریت، تحریک عدم اعتماد بے فیض: سرینواس یادو

حیدرآباد۔/24 مارچ ،( سیاست نیوز) تلنگانہ کے وزیر افزائش مویشیان سرینواس یادو نے پارلیمنٹ میں تحفظات کے مسئلہ پر ٹی آر ایس ارکان کے احتجاج کو حق بجانب قراردیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آندھرا پردیش میں تلگودیشم پارٹی نے سیلف گول کرلیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سرینواس یادو نے تحفظات کے اختیارات ریاستوں کو سونپے جانے کیلئے پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس کے احتجاج کو انصاف پر مبنی قرار دیا۔ اس مسئلہ پر تلگودیشم کی جانب سے ٹی آر ایس پر تنقیدیں افسوسناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انا ڈی ایم کے ارکان بھی ایوان میں احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا تلگودیشم نے مرکز کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے مسئلہ پر انا ڈی ایم کے سے بات چیت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں بی جے پی کو 273 ارکان کی تائید حاصل ہے ایسے میں تحریک عدم اعتماد سے کیا حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کیلئے خصوصی موقف حاصل کرنے کیلئے اور بھی کئی طریقے اور فورم موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آندھرا پردیش کی سیاسی پارٹیاں پھر ایک بار عوام کو دھوکہ دے رہی ہیں۔ عوام کو معصوم سمجھ کر سیاسی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے عوامی مفادات کو قربان کرنا افسوسناک ہے۔ سرینواس یادو نے کہا کہ اگر آندھرا پردیش کے 25 ارکان پارلیمنٹ اجتماعی طور پر استعفی دے دیں تو یقیناً کوئی نہ کوئی نتیجہ برآمد ہوگا۔ عوام میں اُلجھن پیدا کرتے ہوئے پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام تراشی کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کی جماعتوں کو علحدہ تلنگانہ تحریک سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔ چندرا بابو نائیڈو نے این ڈی اے سے علحدگی اختیار کرنے کے بعد تحریک عدم اعتماد کے سلسلہ میں مختلف جماعتوں سے بات چیت کی اس سے آندھراپردیش کی جماعتوں کی سیاست کا اندازہ ہوتا ہے۔ چار برسوں تک چندرا بابو نائیڈو نے خصوصی موقف کیلئے مرکز پر دباؤ بنانے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے چندرا بابو نائیڈو سے سوال کیا کہ اچانک چار سال بعد این ڈی اے سے علحدگی اور تحریک عدم اعتماد کا خیال کیوں آیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش میں ارکان پارلیمنٹ کے اجتماعی استعفوں کے ذریعہ ہی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT