Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / تحفظ اوقافی جائیداد پر وقف بورڈ کی سرگرمیاں ٹھپ

تحفظ اوقافی جائیداد پر وقف بورڈ کی سرگرمیاں ٹھپ

عہدیدار مجاز و چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی میعاد مکمل ، سینکڑوں فائیلیں التواء کا شکار
حیدرآباد۔/5مئی، ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق وقف بورڈ کی سرگرمیاں ان دنوں تقریباً ٹھپ ہوچکی ہیں کیونکہ بیک وقت عہدیدار مجاز اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی میعاد مکمل ہوگئی۔ دونوں عہدیداروں نے میعاد کی تکمیل سے حکومت کو واقف کراتے ہوئے متبادل انتظام کی خواہش کی ہے۔ اس طرح وقف بورڈ عملاً عہدیدار مجاز اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے بغیر ہی کام کررہا ہے۔ عہدیدار مجاز سید عمر جلیل جو اقلیتی بہبود کے سکریٹری بھی ہیں ان کی میعاد 19 اپریل کو ختم ہوگئی جس کے بعد انہوں نے حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس عہدہ کیلئے متبادل انتظام کرنے اور کسی اور عہدیدار کو ذمہ داری دینے کی خواہش کی۔ واضح رہے کہ 19 اکٹوبر 2015کو جاری کردہ جی او ایم ایس 44 میں سید عمر جلیل کو عہدیدار مجاز مقرر کرتے ہوئے ان کی میعاد 6 ماہ مقرر کی گئی۔ جی او میں کہا گیا کہ 6 ماہ یا وقف بورڈ کے انتخابات تک وہ برقرار رہیں گے۔ عام طور پر چھ ماہ کی تکمیل کے ساتھ ہی عہدہ کی میعاد میں توسیع کرتے ہوئے حکومت احکامات جاری کرتی ہے لیکن وقف بورڈ کے معاملہ میں حکومت کی کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی اور ابھی تک نہ ہی عہدیدار مجاز اور نہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی میعاد میں توسیع سے متعلق کوئی فیصلہ کیا گیا۔ اس طرح وقف بورڈ ایک مجہول ادارہ میں تبدیلی کی طرف گامزن ہے۔ جس طرح عہدیدار مجاز نے حکومت کو متبادل انتظام کیلئے لکھ دیا اسی طرح چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ایک سال کی مدت کیلئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر مقرر کیا گیا تھا اور ان کی میعاد 23اپریل کو ختم ہوچکی ہے۔ جی او آر ٹی 60 جو وقف بورڈ کی تقسیم سے قبل جاری ہوا تھا اس کے مطابق ان کی میعاد 23اپریل کو ختم ہوگئی جبکہ بورڈ کی تقسیم کے بعد 28اکٹوبر 2015کو جاری کردہ جی او ایم ایس 45 کے تحت ان کی میعاد 27 اکٹوبر تک برقرار رہے گی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے دونوں احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے میعاد میں توسیع یا پھر کسی اور متبادل انتظام کی خواہش کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے سکریٹری کو مکتوب روانہ کیا اور وہی وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز بھی ہیں۔ عہدیدار مجاز کی جانب سے 18 اپریل سے فائیلوں کی یکسوئی بند کئے جانے کے باعث سینکڑوں کی تعداد میں فائیلیں جمع ہوچکی ہیں جو یکسوئی کی منتظر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سید عمر جلیل نے حکومت کے مزید احکامات تک فائیلوں کی یکسوئی سے گریز کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق 600 تا 800فائیلیں عہدیدار مجاز کی یکسوئی کی منتظر ہیں اور متعلقہ فائیلوں سے وابستہ افراد روزانہ وقف بورڈ دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اگر حکومت کا وقف بورڈ کے ساتھ یہی رویہ رہا تو پھر بورڈ کی کارکردگی آنے والے دنوں میں مزید ابتر ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT