Monday , April 23 2018
Home / Top Stories / تحفظ دین کیلئے مسلکی اختلافات سے صرف ِنظر وقت کی ضرورت: عبیداللہ خان اعظمی

تحفظ دین کیلئے مسلکی اختلافات سے صرف ِنظر وقت کی ضرورت: عبیداللہ خان اعظمی

پٹنہ میں15اپریل کو’’دین بچاؤ دیش بچائو کانفرنس‘‘مولانا اعظمی کی امارت شرعیہ میں مولانا ولی رحمانی سے ملاقات

پٹنہ۔10 اپریل(سیاست ڈاٹ کام) ملک میں فرقہ پرست طاقتیں آج حاوی ہورہی ہیں، ان سے ہمارے دین اورملک دونوں کو ہی خطرہ لاحق ہوچکا ہے، وہ آئین میں طرح طرح کی ترمیم کر کے ہماری مذہبی آزادی کو متاثر کر نا چاہتی ہیں۔لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم متحد ہوجائیں اور ایسی طاقتوں کو کرارا جواب دیں۔ہمیں چاہئے کہ مسلک کو بالائے طاق رکھ کر ہم دین اور ملک کی حفاظت کیلئے ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوجائیں۔ ’’دین بچاؤ دیش بچائو کانفرنس‘‘ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے دین کی ایک ایک جز کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ اوربریلوی عالم دین حضرت مولانا عبید اللہ خان اعظمی نے امارت شرعیہ پھلواری شریف میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج جب شریعت میں مداخلت شروع ہوچکی ہے تو ایسے وقت میں مسلمانوں کو غفلت سے بیدار ہونا ضروری ہے۔ ’’دین بچائو دیش بچائو کانفرنس ‘‘ اسی مقصد کے تحت منعقد کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی کو مبارکباد دینا چاہوں گا کہ جب ملک انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے۔

مذہب کے نام پر نفرت پھیلائی جارہی ہے، طلاق ثلاثہ جیسے سیاہ بل کو لایا گیا ہے، ایسے وقت میں امیر شریعت نے مسلمانوںکو بیدار کرنے کے مقصد سے ایک زبردست تحریک چلائی ہے اور اس کا آغاز ’’دین بچائو دیش بچائو کانفرنس‘‘ سے ہونے جارہا ہے۔یہ تحریک پورے ملک کو نئی سمت عطا کرے گی۔مولانا اعظمی نے کہا کہ جب تک ہم میں اتحاد نہیں ہوگا ، ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ ہمیں چاہئے کہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ہم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ اسی مناسبت سے15اپریل کو گاندھی میدان میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں کثیر تعداد میں شرکت کر کے اپنے ایمانی جذبے کا مظاہرہ کریں۔ڈاکٹر عبیداللہ خان اعظمی نے امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی سے امارت شرعیہ میں ملاقات کی۔انہوں نے کانفرنس کو مزید بہتر بنانے کیلئے مفید مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ کانفرنس ہراعتبار سے تاریخی ہوگی، اس لئے ملت کے افراد اس کو اختلاف کا شکار بناکر متحدہ طاقت کو کمزور کرنے کی غلطی نہ کریں۔مولانا اعظمی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں خود اس کانفرنس میں شرکت کروں گا۔انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی ، سماجی اور فلاحی تنظیموں کو بھی آپس میں اتحاد کر کے ایک محاذ بنانا چاہئے اور اپنے اپنے علاقے میں طے شدہ پروگرام کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو ہم اپنے مذہب کی حفاظت کیلئے اٹھ کھڑے ہوجانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT