Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تحفظ شریعت کے نام پر اضلاع میں انتخابی مہم

تحفظ شریعت کے نام پر اضلاع میں انتخابی مہم

مجلسی قیادت کی تائید نہ کرنے پر جماعت اِسلامی نشانہ، حواریوں کے ذریعہ نظام آباد میں حامد محمد خاں کی تقریر میں گڑبڑ
حیدرآباد۔10 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تحفظ شریعت کے مسئلہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی حلیف جماعت مجلس اس مسئلہ کو انتخابی فائدہ کیلئے استعمال کر رہی ہے ۔ حیدرآباد میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے علاوہ اضلاع میں ٹی آر ایس کو فائدہ پہنچانے کیلئے تحفظ شریعت کے نام پر جلسوں کے انعقاد کے ذریعہ خود کو حقیقی معنوں میں مسلمانوں کا ہمدرد ظاہر کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت مختلف دینی جماعتوں کو بھی اپنے ساتھ اضلاع میں گشت کراتے ہوئے ٹی آر ایس ۔مجلس اتحاد کی مہم میں تبدیل کردیا ہے۔ مذہبی جماعتوں کو اپنے مقصد میں استعمال کرنے میں مہارت رکھنے والی مقامی جماعت نے ان کی اندھی تقلید سے گریز کرنے پر جماعت اسلامی کو نشانہ پر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ تحفظ شریعت کے نام پر مہم میں مقامی جماعت کی تائیدی ، مذہبی تنظیموں اور قائدین کے ساتھ جماعت اسلامی نے خود کو وابستہ کیا تاکہ شریعت جیسے اہم مسئلہ پر مسلم اتحاد کا مظاہرہ ہوسکے۔ جماعت اسلامی کے قائدین نے کسی بھی اسٹیج سے مجلسی قیادت کی مدح سرائی نہیں کی اور نہ ہی دوسروں کی طرح صدر مجلس کو اپنا قائد تسلیم کیا ۔ اس صورتحال سے ناراض مقامی جماعت کی قیادت نے جماعت اسلامی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا واضح ثبوت نظام آباد میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب مجلس کے حواریوں نے صدر جماعت اسلامی تلنگانہ حامد محمد خاں کی تقریر کے دوران گڑبڑ کرتے ہوئے بدنظمی پیدا کردی اور انہیں درمیان میں ہی تقریر روکنے پر مجبور کیا گیا۔ اس طرح ایک عالم دین کی توہین کی گئی اور اسٹیج پر رکن پارلیمنٹ حیدرآباد موجود تھے۔ انہوں نے اپنے حواریوں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی برخلاف اس کے کہ بتایا جاتا ہے کہ حامد محمد خاں کو تقریر ختم کرنے کا اشارہ دیا ۔ اطلاعات کے مطابق ایک منصوبہ بند سازش کے تحت جماعت اسلامی کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ نظام آباد میں جماعت اسلامی مضبوط موقف رکھتی ہے۔ نظام آباد کے جلسہ کی کامیابی میں جماعت اسلامی کا اہم رول رہا اور اس کے مقامی قائدین نے دن رات محنت کی تھی۔ دراصل مجلسی قیادت کو اس بات پر اعتراض ہے کہ جماعت اسلامی نے کسی بھی جلسہ میں رکن پارلیمنٹ کی تعریف نہیں کی اور صرف موضوع پر خطاب کیا جبکہ دیگر مقررین نے رکن پارلیمنٹ کو ہندوستان کے مسلمانوں کا قائد ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔ نظام آباد میں اسٹیج پر جماعت اسلامی کے دیگر ذمہ دار بھی موجود تھے اور انہیں بھی بعض مخصوص نوجوانوں کی اچانک چیخ پکار اور شور و غل پر حیرت ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت کو مرعوب کرنے کی منصوبہ بندی کے تحت حواریوں کے ذریعہ گڑبڑ کرائی گئی تاکہ وہ آئندہ جلسوں میں رکن پارلیمنٹ کی کھل کر تائید کرنے پر مجبور ہوجا;yz۔ واضح رہے کہ مجلس اور جماعت اسلامی کا نظریاتی اختلاف اس وقت شروع ہوا تھا جب یونائٹیڈ مسلم فورم سے جماعت اسلامی نے علحدگی اختیار کرلی۔ فورم کی تشکیل میں جماعت کا اہم رول رہا لیکن بعد میں طئے شدہ اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے فورم کے ایک ذمہ دار نے سرکاری عہدہ حاصل کرلیا جبکہ یہ طئے کیا گیا تھا کہ فورم کا کوئی ذمہ دار سرکاری عہدہ قبول نہیں کرے گا۔ اسی مسئلہ پر جماعت اسلامی نے فورم سے علحدگی اختیار کرلی جس کے بعد فورم کے اور بھی ذمہ داروں نے سرکاری عہدے حاصل کرلئے ۔ یونائٹیڈ مسلم فورم دراصل مجلس کی محاذی تنظیم کی طرح کام کر رہی ہے اور رکن پارلیمنٹ کے پسندیدہ افراد کو اہم عہدے دئے گئے ۔ شریعت کے مسئلہ پر احتجاجی جلسوں میں اتحاد ملت کی خاطر جماعت اسلامی نے خود کو شامل کیا اور اضلاع میں جلسوں کی کامیابی کیلئے کیڈر کو متحرک کیا گیا لیکن نظام آباد کا واقعہ جماعت اسلامی کے قائدین اور کیڈر کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ توہین کس طرح برداشت کی جائے گی۔ آئندہ جلسوں میں شمولیت کے مسئلہ پر بھی جماعت اسلامی میں مختلف رائے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ جلسوں کی کامیابی میں اہم رول کے باوجود اس کی قیادت کے ساتھ توہین آمیز رویہ جماعت اسلامی کے ورکرس میں ناراضگی کا سبب بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک باوقار انداز میں سلوک نہیں کیا جاتا، اس وقت تک جماعت کی قیادت کو سیاسی فائدہ کے جلسوں میں شرکت سے گریز کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT