Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تحفظ شریعت کے نام پر یونائٹیڈ مسلم فورم 2 سیاسی پارٹیوں کا آلہ کار؟

تحفظ شریعت کے نام پر یونائٹیڈ مسلم فورم 2 سیاسی پارٹیوں کا آلہ کار؟

جماعت اسلامی کی طاقت کا استعمال،لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرنے والے ارکان اور پارٹیوں کاجلسوں میں تذکرہ کیوں نہیں

دیگر مسلم جماعتیں اور تنظیمیں نظرانداز، اتحاد کے دعوے کھوکھلے

حیدرآباد۔/13جنوری، ( سیاست نیوز) تحفظ شریعت کے نام پر تلنگانہ میں مخصوص سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچانے میں مصروف یونائٹیڈ مسلم فورم نے عوامی ناراضگی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر اتحاد و اتفاق کا نیا راگ الاپنے کی کوشش کی ہے۔ فورم کے فرضی ترجمان کے نام سے بیان جاری کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمانوں کی تمام جماعتیں بشمول جماعت اسلامی تحفظ شریعت کے مسئلہ پر متحد ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جماعت اسلامی یونائٹیڈ مسلم فورم میں شامل نہیں لہذا فورم نے کس حیثیت سے وضاحت کی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تحفظ شریعت کے نام پر اضلاع میں جاری جلسوں کا انعقاد مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے کیا جارہا ہے یا پھر یونائٹیڈ مسلم فورم اس کا اہتمام کررہا ہے اس کی وضاحت ہونی چاہیئے۔ جہاں تک جماعت اسلامی کا تعلق ہے اطلاعات کے مطابق وہ اپنی قومی قیادت کے مشورہ پر تحفظ شریعت مہم میں شامل ہے کیونکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس طرح کی مہم کی اپیل کی ہے۔ تحفظ شریعت کے مسئلہ پر تمام مسلم جماعتوں کا متحد ہونا اُن کا دینی فریضہ ہے یہ کسی فورم کا کارنامہ نہیں۔ مسلم جماعتیں تو کُجا اس مسئلہ پر ہر مسلمان متحد ہے لیکن ایک مخصوص گروہ تیار کرتے ہوئے کسی کے سیاسی مفادات کی تکمیل کرنا اور آلہ کار بننا کہاں تک مناسب ہے اس تعلق سے فورم کو چاہیئے کہ مسلمانوں سے وضاحت کرے۔ نظام آباد میں امیر جماعت اسلامی تلنگانہ حامد محمد خاں کی تقریر کے دوران گڑبڑ سے متعلق نظام آباد کے اخبارات میں نمایاں خبروں کی اشاعت کے بعد جماعت اسلامی سے وابستہ کئی ذمہ داروں اور کارکنوں نے اپنی بے چینی کا اظہار کیا اور بعض نے ’سیاست ‘ سے ربط قائم کرتے ہوئے فورم کی خفیہ سرگرمیوں اور منصوبہ پر ناراضگی جتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ فورم کے بعض ذمہ داروں جو مقامی سیاسی جماعت کی کٹھ پتلی کی طرح ہیں انہوں نے چالاکی کے ساتھ تحفظ شریعت کے نام پر جماعت اسلامی کو مہم میں شامل کرلیا تاکہ اضلاع میں ان کے پروگراموں کی کامیابی یقینی ہوسکے۔ اضلاع میں جماعت اسلامی کے مضبوط کیڈر کو استعمال کرنے کیلئے یہ چال چلی گئی جبکہ اس مہم کا مقصد مجلسی قیادت کو اضلاع میں اسٹیج فراہم کرنا ہے۔ فورم نے ’سیاست‘ میں پیش کردہ حقائق میں ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فورم کے کسی ذمہ دار نے اپنے نام کے ساتھ بیان دینے کی ہمت نہیں کی۔’’ کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کے مصداق رسمی وضاحت کے نام پر حقیقت کی پردہ پوشی کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اگر تحفظ شریعت کے نام پر سیاسی مہم نہیں ہے تو پھر اسٹیج پر مجلس اور ٹی آر ایس کے قائدین ہی کیوں دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری پارٹیوں میں شامل مسلم قائدین کو مدعو نہیں کیا گیا۔ کیا تحفظ شریعت سے صرف ان دونوں سیاسی جماعتوں کو ہی دلچسپی ہے؟۔ کانگریس، تلگودیشم، مسلم لیگ، ایم بی ٹی، تحریک مسلم شبان اور دیگر جماعتیں اور تنظیمیں بھی تحفظ شریعت کیلئے کام کررہی ہیں لیکن انہیں اتحاد ملت کے یہ دعویدار اپنے اسٹیج پر مدعو کیوں نہیں کرتے۔ اتنا ہی نہیں سی پی آئی اور سی پی ایم میں شامل مسلم قائدین بھی اس مسئلہ پر سنجیدہ ہیں لیکن شاید مذکورہ بالا تمام جماعتوں اور تنظیموں کے مسلم قائدین کو اس لئے مدعو نہیں کیا جاتا کیونکہ مجلس سے ان کا نظریاتی اختلاف ہے۔

 

یہ وہی فورم ہے جس نے 2004 اور 2009 انتخابات میں کانگریس کے حق میں مہم چلائی تھی لیکن آج وہی کانگریس پارٹی بُری ہوگئی۔ جلسوں کیلئے اضلاع میں مشاورتی اجلاسوں میں بھی صرف ٹی آر ایس قائدین کو مدعو کرنا باعث حیرت ہے۔ اسٹیج پر ٹی آر ایس قائدین موجود ہیں لیکن ٹی آر ایس نے طلاق ثلاثہ بل پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ بالواسطہ طور پر مرکزی حکومت کی تائید میں ہے۔ دونوں ایوانوں میں ٹی آر ایس نے مباحث میں حصہ نہیں لیا اور بل کی مخالفت میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ ایسی جماعت کے ساتھ مجلس اپنی دوستی کس طرح برقرار رکھ سکتی ہے اور فورم کے ذمہ دار بھی تقاریر میں اس مسئلہ پر لب کشائی سے خوفزدہ کیوں ہے۔ تحفظ شریعت سے دلچسپی اور ایمانی حرارت کا تقاضہ تھا کہ مجلس اپنی حلیف ٹی آر ایس سے دوری اختیار کرتی۔ کسی بھی مقرر بشمول رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے ٹی آر ایس سے موقف کی وضاحت کا مطالبہ تک نہیں کیا۔ فورم کے موجودہ صدر کانگریس دور حکومت میں اردو اکیڈیمی کے صدر نشین رہ چکے ہیں اور آج بھی کانگریس کے ایک سرکردہ مسلم قائد سے سالانہ عطیات و امداد اور مدرسہ کی ضروریات کی تکمیل کیلئے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں مجلس اور اس کی قیادت کے بارے میں جس طرح منفی رائے کا اظہار کیا جاتا ہے اس کا ثبوت بھی موجود ہے۔ صرف دینی مدرسہ کا انتظام سنبھال لینا کسی شخص کو عالم نہیں بنادیتا لیکن فورم کی ذمہ داری ملتے ہی نام کے ساتھ القاب بھی شامل ہوچکے ہیں۔ فورم نے اس بات کو تسلیم کرلیا کہ جماعت اسلامی نے کانگریس دور میں صدرنشین اردو اکیڈیمی کا سرکاری عہدہ ایک ذمہ دار کی جانب سے قبول کرنے سے اختلاف کرتے ہوئے علحدگی اختیار کرلی تھی۔ اگر فورم کی نظر میں اخبارات کی جانب سے حقائق کو پیش کرنا پھوٹ اور نفاق پیدا کرنا ہے تو فورم کے قائدین دیگر مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو نظرانداز کرتے ہوئے کونسے اتحاد کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ بیان کے آخر میں مجلسی قیادت کی داد نہ دینے کو ناانصافی سے تعبیر کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا گیا کہ یہ فورم کا نہیں بلکہ مجلس کے ترجمان کا بیان ہے۔ لوک سبھا میں مقامی جماعت کے رکن کی تقریر کو کارنامہ اور ’’مدلل ‘‘ بحث ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف فورم کے ذمہ داروں کو واضح کرنا چاہیئے کہ ایسی مدلل بحث سے کیا فائدہ جب مقدمہ کا فیصلہ خلاف میں آئے۔ لوک سبھا میں جس ’’مدلل ‘‘ بحث کی تعریف و تشہیر کی جارہی ہے اُس سے بل کی کامیابی تو نہیں رُوکی جاسکی۔ لوک سبھا میں مسلم لیگ کے اے ٹی بشیر اور راشٹریہ جنتا دل کے پپو یادو نے شریعت اسلامی کے حق میں تقریر کی لیکن تحفظ شریعت کے جلسوں میں ان کا کوئی تذکرہ تک نہیں کیا جاتا۔ کم از کم رکن پارلیمنٹ کو اپنے ساتھی ارکان کا جنہوں نے شریعت کے حق میں آواز اٹھائی اُن کا نام لیکر اخلاقی فرض ادا کرنا چاہیئے۔ کیا ای ٹی بشیر اور پپو یادو ستائش کے مستحق نہیں ہیں؟ اصلی کارنامہ تو راجیہ سبھا میں کانگریس کی قیادت میں 18 اپوزیشن جماعتوں نے انجام دیا اور بل کو پاس ہونے سے روک دیا۔ ان میں خود بی جے پی کی حلیف تلگودیشم، بیجو جنتا دل اور انا ڈی ایم کے شامل ہیں۔ لیکن جلسوں میں ان جماعتوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جاتا حالانکہ انہوں نے اصلی کارنامہ انجام دیتے ہوئے بل کو پاس ہونے سے روک دیا تھا۔ ان تمام جماعتوں میں غیر مسلم ارکان کی اکثریت ہے جو شریعت کی تائید میں کھڑے رہے۔ کیا ان کی ستائش اور شکریہ ادا نہیں ہونا چاہیئے؟۔ دراصل یہ تو اخلاقی نہیں بلکہ ملی فریضہ بنتا ہے کہ جس کسی نے شریعت کی تائید کی ان کا تذکرہ ہو۔ اتحاد کا نعرہ لگانا تو آسان ہے لیکن اس کا مطلب ’’ میری اور میری جماعت کی تائید‘‘ بن جائے تو پھر ایسے اتحاد کو مسلمان قبول نہیں کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT