Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / تحفظ گاؤ کے بہانے زدوکوب کے ذریعہ اموات

تحفظ گاؤ کے بہانے زدوکوب کے ذریعہ اموات

زرعی بحران اور کاشتکاروں کی خودکشیوں پر حکومت اپوزیشن کی تنقید کا نشانہ ، راجیہ سبھا میں شوروغل
نئی دہلی ۔ 19 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) گائے کے تحفظ کے نام پر ہلاکتوں کا مسئلہ راجیہ سبھا میں آج اپوزیشن کے حکومت کے خلاف شوروغل کی وجہ بن گیا جب حکومت نے کہاکہ ریاستوں کو ایسے واقعات سے نمٹنے کیلئے پورے قانونی اختیارات حاصل ہیں اور قوانین کی تبدیلی ضروری نہیں ہے ۔ سماج وادی پارٹی ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے ، وہ حکومت کے جواب پر اظہارِ عدم اطمینان کرتے ہوئے نعرہ بازی کررہے تھے ۔ وہ مرکزی حکومت کے زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں کے انسداد کیلئے کئے ہوئے اقدامات سے واقف ہونا چاہتے تھے ۔ وقفۂ سوالات کے دوران صدرنشین محمد حامد انصاری مجبور ہوگئے کہ دیگر ارکان کو اپنے سوالات اُٹھانے کی اجازت دیں ۔ وزیر مملکت برائے داخلی اُمور ہنس راج گنگارام اہیر نے کہا کہ ریاستوں کو ایسے واقعات کے پس پردہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے اختیارات حاصل ہیں۔ انھوں نے سماج وادی پارٹی رکن نریش اگروال کے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا کہ بی جے پی ارکان زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں کے پس پردہ ہیں۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ مرکزی وزارت داخلہ پہلے ہی تمام ریاستوں کو مشورہ دے چکی ہے کہ ایسے مقدمات کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کئے جائیں اور خاطیوں کو جو اس قسم کے پرتشدد واقعات میں ملوث ہوں گرفتار کرلیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم پہلے ہی ایسی ہلاکتوں کے خلاف جو گائے کے تحفظ کے نام پر کی جاتی ہیں برداشت نہ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

کانگریس رکن ڈگ وجئے سنگھ کی جانب سے اس سوال پر کہ کیا حکومت موجودہ قانون جو ایسے تشدد کو کچلنے کیلئے بنایا گیا ہے تبدیلی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ اہیر نے کہاکہ 24 ریاستوں اورپانچ مرکزی زیرانتظام علاقوں نے ذبیح گاؤ پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ اروناچل پردیش ، کیرالا ، میگھالیہ ، میزورم اور ناگالینڈ کے علاوہ لکشادیپ نے ایسا امتناع عائد نہیں کیا ہے ۔ مرکزی وزیر نے اطلاع دی کہ قومی جرم کے ریکارڈ کے بیورو کی جانب سے زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں کے علحدہ اعداد و شمار مرتب نہیں کئے جاتے ۔ فرقہ پرستی اور مذہبی کشیدگی سے متعلق مقدمات ہی درج کئے جاتے ہیں۔ یوپی ، تلنگانہ ، آندھراپردیش ، کرناٹک اور ٹاملناڈو میں 2015ء میں ایسے واقعات زیادہ ہوئے ، چنانچہ پہلی بار 2014ء سے ایسے واقعات کا ریکارڈ رکھنا شروع کردیا گیا ۔ دریں اثناء زرعی بحران اور کاشتکاروں کی خودکشی کے مسئلہ پر اپوزیشن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں زرعی بحران کے نتیجہ میں پریشان حال کسان اپنی فصلوں کو سستے داموں پر درآمد کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، کیونکہ ان پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا ۔ کئی ارکان نے قاعدہ 267 کے تحت نوٹسیں جاری کیں جس کے نتیجہ میں اس مسئلہ پر تبادلۂ خیال کیلئے ایوان کا اجلاس ملتوی کردیا گیا ۔ نائب صدرنشین پی جے کورین نے کہا کہ اس معاملے پر بحث کی تجویز قبول کرلی گئی ہے اور فی الحال ارکان اس مسئلہ پر بحث کے لئے اپنے نکات پیش کرسکتے ہیں۔ جے ڈی یو کے شردیادو نے دعویٰ کیا کہ 15 تا 20 کاشتکار روزانہ خودکشی کررہے ہیں کیونکہ وہ پریشانی کی حالت میں اپنی پیداوار فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT