Saturday , February 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تخلیق کار کا کرب ہی اظہار کے وسیلے ڈھونڈتا ہے اردو یونیورسٹی میں پروفیسر ابنِ کنول کا لکچر

تخلیق کار کا کرب ہی اظہار کے وسیلے ڈھونڈتا ہے اردو یونیورسٹی میں پروفیسر ابنِ کنول کا لکچر

حیدرآباد، 14 ؍فروری (پریس نوٹ):’’تخلیق کار کا کرب ہی اظہار کے وسیلے ڈھونڈتا ہے۔ طلبا اور تخلیق کی راہ میں قدم رکھنے والے داستانوں کے مطالعے کی طرف توجہ دیں۔‘‘ان خیالات کا اظہار اردو کے معروف افسانہ نگار پروفیسر ابن کنول‘ صدر شعبہ اردو‘ دہلی یونیورسٹی نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی جانب سے منعقدہ پروگرام ’’تخلیق کار سے ملاقات اور افسانوی نشست‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ابن کنول نے اردو کی بقا کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر دور میں بزرگوں کو یہ خوف رہا ہے کہ اُن کی زبان آنے والی نسلوں تک نہیں پہنچ پائے گی۔ ’’دراصل اردو کی بقا اُن لوگوں ہی سے ہے جو ہر دور میں اپنی مادری زبان کے تئیں اپنے دل میں کرب رکھتے ہیں‘‘۔ایسے ہی افراداردو زبان کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ پروگرام میں پروفیسر ابن کنول نے اپنا افسانہ ’’نیا درندہ‘‘ بھی سنایا۔ ابتدا میں پروفیسر فاروق بخشی نے پروفیسر ابن کنول کا تعارف پیش کیا ۔ پروفیسر نسیم الدین فریس نے صدارت کی ۔ ڈاکٹر وسیم بیگم ‘ اسوسیٹ پروفیسر شعبہ نے نظامت کی ۔ پروگرام میں شعبے کے دیگر اساتذہ پروفیسر ابو الکلام، ڈاکٹر شمس الہدیٰ ، ڈاکٹر مسرت جہاں ، پروفیسر محمدظفر الدین، پروفیسر وہاب قیصر،پروفیسر شاہد نوخیز، ڈاکٹر سید محمود کاظمی، ڈاکٹر کہکشاں لطیف، ڈاکٹر اسلم پرویز، ڈاکٹر شمس الدین، ڈاکٹر اکبر، ڈاکٹر ظفر گلزار ، ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات شامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT