Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / تخلیہ کے قافلوں پر باغیوں کی فائرنگ ، کارروائی ملتوی

تخلیہ کے قافلوں پر باغیوں کی فائرنگ ، کارروائی ملتوی

رات بھر تخلیہ ، تاحال 6000 ہزار افراد منتقل ریڈکراس و رضاکاروں کی مدد سے زخمی اور مریضوں کی ترکی منتقلی
بیروت ۔ 16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) تخلیہ کرنے والوں کے قافلہ پر باغیوں نے فائرنگ کردی جس کی وجہ سے تخلیہ کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔ قبل ازیں کہا گیا تھا کہ ہزاروں صدمے کا شکار عوام اور جنگجو باغیوں کے زیرقبضہ حلب کا رات بھر تخلیہ کرتے رہے جبکہ تخلیہ کی کارروائی آج دوسرے دن میں داخل ہوگئی۔ تنظیم ریڈکراس کے بموجب اس کے ترجمان ٹوگی سیڈگی نے کہا کہ رات بھر تخلیہ جاری رہا اور آج بھی دن بھر یہ کارروائی جاری رہے گی جب تک کہ وہ تمام افراد جو تخلیہ  کرنا چاہتے ہیں حلب سے باہر نہ چلے جائیں۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈکراس کی ترجمان نے کہا کہ ایمبولنس گاڑیاں اور بسیں حلب سے رات بھر باغیوں کے زیرقبضہ علاقہ مشرقی حلب سے لوگوں کو باغیوں کے زیرقبضہ دیگر مقامات پر منتقل کرتی رہیں۔ رضاکار مسافرین کو سوار کرواتے رہے اور فوری طور پر مزید افراد کا تخلیہ کروانے واپس آتے رہیں۔ ابتداء میں گاڑیاں ایک ساتھ قافلہ کی شکل میں چل رہی تھیں لیکن رات بھر ہر گاڑی مزید تخلیہ کرنے والوں کو منتقل کرنے کیلئے خالی ہوتے ہی واپس آتی رہیں۔ اس کا مطلب یہ ہیکہ یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہیکہ تاحال کتنے افراد تخلیہ کرچکے ہیں

لیکن یہ تخمینہ کارروائی کے اختتام پر کیا جائے گا۔ گرین گورنمنٹ کی بسوں اور ایمبولنس گاڑیوں کے علاوہ جو تخلیہ کرنے والوں کو منتقل کررہی تھی بعض مقامی افراد اپنی گاڑیوں میں  بھی منتقل ہورہے تھے۔ صدر شعبہ ڈاکٹرس احمد الجبیر نے کہا کہ رضاکار ہی زخمی افراد کے تخلیہ میں مدد کررہے ہیں۔ کئی افراد اپنی خانگی گاڑیوں میں بھی تخلیہ کررہے ہیں۔ ایک تخلیہ کرنے والا آمد کے مقام پر حلب کے مغربی علاقہ میں پہنچا۔ کئی خاندان اپنے گھریلو سامان کے ساتھ بھی لاریوں میں تخلیہ کررہے ہیں۔ یہ لوگ حلب کے باہر جمع ہورہے ہیں اور وہاں سے انہیں صوبہ کے مزید مغربی علاقہ میں منتقل کیا جارہا ہے اور وہاں سے وہ اپنے رشتہ داروں یا اس علاقہ میں مقیم دوستوں کے پاس یا پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہورہے ہیں۔ ایک تخمینہ کے بموجب تاحال 6000 افراد مشرقی حلب پہنچ چکے ہیں ان میں سے 250 زخمی افراد ہیں۔ مزید 250 یا تو زخمی ہیں یا انہیں طبی امداد کی فوری ضرورت ہے کیونکہ وہ بیمار ہیں۔ آنے والے افراد کو ہنگامی طور پر طبی امداد کی ضرورت ہے اور انہیں ترکی منتقل کیا  جارہا ہے۔ مشرقی حلب میں جہاں باغیوں کا 2012ء سے قبضہ تھا، اب سرکاری فوج کے محاصرہ میں ہے۔ یہ محاصرہ وسط جولائی سے جاری ہے۔ ناکہ بندی کی وجہ سے غذاؤں اور دواؤں کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ فضائی اور توپ خانہ سے بم برداری کے نتیجہ میں کئی ہاسپٹل اور دواخانہ تباہ ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے مقامی افراد کی رسائی طبی امداد تک نہیں ہوسکی۔ فوج نے 90 فیصد سے زیادہ مشرقی حلب پر حملہ کے دوران قبضہ کرلیا جس کا آغاز وسط نومبر میں ہوا تھا۔ توقع ہیکہ حلب پر مکمل طور پر حکومت کا قبضہ ہونے کا تخلیہ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT