Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تدفین کے لیے قبرستانوں میں رقم کی وصولی کو روکنے ہیلپ لائن نمبر

تدفین کے لیے قبرستانوں میں رقم کی وصولی کو روکنے ہیلپ لائن نمبر

ٹاسک فورس ٹیم سے مربوط ، چیرمین تلنگانہ وقف بورڈ الحاج محمد سلیم کی ماہرین سے مشاورت
حیدرآباد۔7جولائی (سیاست نیوز) ریاست میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ خاص طور پر قبرستانوں میں تدفین کے لیے رقم کا مطالبہ کرنے جیسے امور کی روک تھام کے لیے وقف بورڈ نے ہیلپ لائین نمبر متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم ہیلپ لائین نمبر کے آغاز کے لیے ماہرین سے مشاورت کررہے ہیں۔ ہیلپ لائین نمبر دفتر کے اوقات میں کارکرد رہے گا اور اسے ٹاسک فورس ٹیم سے مربوط کیا جائے گا۔ محمد سلیم نے بتایا کہ ریاست کے کسی بھی علاقے سے اوقافی امور سے متعلق کوئی بھی شکایت اس نمبر پر کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروں سے مشاورت کے بعد اس بات کو یقینی بنایا جائے گاکہ کسی بھی شکایت پر اندرون 24 گھنٹے کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلپ لائین نمبر کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا اور انہیں یقین ہے کہ اس منفرد سہولت کے آغاز سے نہ صرف عوام کو سہولت ہوگی بلکہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں وقف بورڈ کو مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں متعلقہ انسپکٹر آڈیٹر کے ذریعہ تفصیلات حاصل کی جائیں گی اور اگر شکایت درست پائی گئی تو بورڈ کی جانب سے پولیس میں شکایت بھی درج کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز قبضوں اور تعمیرات کے سلسلہ میں بھی وقف بورڈ فوری کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر و بیشتر عوام کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی کیوں کہ ان کے پاس کوئی ایسی سہولت نہیں جس کے ذریعہ وہ گھر بیٹھے وقف بورڈ میں شکایت درج کراسکیں۔ ہیلپ لائین نمبر سے عوام کو سہولت حاصل ہوگی اور اگر معاملات حساس نوعیت کے ہوں تو شکایت کنندہ کا نام اور نمبر راز میں رکھا جائے گا۔ محمد سلیم نے کہا کہ حیدرآباد میں مختلف بڑے قبرستانوں سے شکایات موصول ہورہی ہیں کہ تدفین کے سلسلہ میں 20 تا 50 ہزار روپئے متعلقہ کمیٹی یا متولی کی جانب سے وصول کیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے کسی بھی قبرستان میں تدفین کے لیے ایک پیسہ بھی ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور کمیٹی اور متولی کو مفت میں جگہ فراہم کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی کمیٹی یا متولی وقف بورڈ کے احکامات کے برخلاف کام کرے گا تو بورڈ اسے برطرف کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقات کو متولی اور کمیٹیوں کے مطالبہ کی تکمیل میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ غریب افراد قبر کی جگہ کے لیے رقم جمع کرنے قرض حاصل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ گھر میں میت کو تدفین کے انتظار میں رکھ کر غریب افراد رقم جمع کرنے کے لیے دربدر کے ٹھوکر کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ وہ صدرنشین وقف بورڈ کی حیثیت سے اس طریقہ کار کو تبدیل کرنے کا عہد کرچکے ہیں اور کسی بھی صورت میں رقم وصول کرنے والی کمیٹی یا متولی کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی قبرستان میں تدفین کے لیے رقم کا مطالبہ کیا جائے تو عوام اس کی شکایت ہیلپ لائین نمبر پر کرسکتے ہیں جس کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی قبرستان کی ترقی یا تحفظ کے لیے فنڈس کی ضرورت ہو تو کمیٹی اس کے لیے وقف بورڈ سے رجوع ہوسکتی ہے۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ نے آج گوشہ محل کے قریب چڑی بازار قبرستان میں گھوڑے اور دیگر جانوروں کو باندھنے کی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے وقف بورڈ ٹاسک فورس ٹیم اور عہدیداروں کو روانہ کیا۔ قبرستان کی بے حرمتی روکنے کے لیے پولیس میں شکایت درج کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قبرستان میں جانوروں کو باندھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مقامی افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مساعی کریں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT