Saturday , January 20 2018
Home / آپ کے سوال / تدفین کے وقت مٹی ڈالنا

تدفین کے وقت مٹی ڈالنا

سوال : دیکھا جاتا ہے کہ تدفین کے وقت جب میت کو خبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو ایک ایک فرد آگے بڑھ کر تین تین مرتبہ قبر میں مٹی اپنے ہاتھ سے ڈالتے ہیں۔ اس طرح کا عمل کیوں کیا جاتا ہے ۔ کیا اس طرح کرنا چاہئے؟ یا یہ صرف رواج طریقہ ہے؟ اس سلسلہ میں شرعی رہنمائی فرمائیں تو مہربانی۔ محمد خلیق، فلک نما

سوال : دیکھا جاتا ہے کہ تدفین کے وقت جب میت کو خبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو ایک ایک فرد آگے بڑھ کر تین تین مرتبہ قبر میں مٹی اپنے ہاتھ سے ڈالتے ہیں۔ اس طرح کا عمل کیوں کیا جاتا ہے ۔ کیا اس طرح کرنا چاہئے؟ یا یہ صرف رواج طریقہ ہے؟ اس سلسلہ میں شرعی رہنمائی فرمائیں تو مہربانی۔
محمد خلیق، فلک نما

جواب : شرعاً بوقت تدفین دونوں ہاتھوں سے تین مرتبہ سرہانے سے مٹی ڈالنا مستحب ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مبارک سے ثابت ہے۔ در مختار برحاشیہ رد المحتار جلد دوم کتاب الصلاۃ ص : 256 میں ہے ۔ و یستحب حثیہ من قبل رأسہ ثلاثاً اور رد المحتار میں ہے ۔

(و یستحب حثیہ) أی بیدیہ جمیعا۔ جوھرۃ ۔ قولہ (من قبل رأسہ ثلاثا) لما فی ابن ماجۃ عن أبی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی علی جنازہ تم أتی القبر و حثیا علیہ من قبل رأسہ ثلاثا ۔ پہلی مرتبہ مٹی ڈالتے وقت ’’منھا خلقناکم ‘‘ (ہم نے تم کو اسی مٹی سے پیدا کیا) اور دوسری مرتبہ میں ’’و فیھا نعیدکم ‘‘ (اور اسی میں ہم تم کو واپس کردیا) اور تیسری مرتبہ ’’ومنھا نخرجکم تارۃ اخری‘‘ (اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے ) پڑھنا چاہئے ۔ اس میں ہے: قال فی الجوھرہ : یقول فی الحثیۃ الاولیٰ ’’منھا خلقناکم ، و فی الثانیۃ و فیھا نعیدکم و فی الثالثۃ و منھا نخرجکم تارۃ أخری۔

رضاعی بیٹے اور رضاعی بھائی کے ساتھ عمرہ کا سفر
سوال : میرے چچا کے چھوٹے لڑکے اس سال رمضان المبارک میں اپنی اہلیہ کے ساتھ عمرہ کا ارادہ رکھتے ہیں، میری والدہ ایک عرصہ سے عمرہ کرنا چاہتی ہیں لیکن محرم نہ ہونے کی وجہ سے وہ عمرہ نہیں کرپائی ہیں۔ میرے چچا زاد بھائی شاید میری والدہ کیلئے ’’محرم نہیں ہیں لیکن بچپن میں میری والدہ نے کئی مرتبہ ان کو دودھ پلایا ہے تو کیا میری والدہ اپنے دیور کے لڑکے یعنی میرے چچا زاد بھائی کے ساتھ عمرہ کو جاسکتی ہیں یا نہیں۔ میری والدہ تو ان کے لئے رضاعی ماں ہی ہے۔ میرا اور میرے شوہر کا بھی عمرہ کا ارادہ ہے اگر شوہر نہ آسکے تو کیا میں اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ جاسکتی ہوں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی ہیں۔
افشاں، زیبا باغ

جواب : رضاعی بیٹا شرعاً محرم ہے، اور خاتون اپنے رضاعی بیٹے کے ساتھ سفر کرسکتی ہے۔ درمختار برحاشیہ ردالمحتار جلد دوم کتاب الحج ص : 410 میں ہے: (و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا او ذمیا برضاع (بالغ) قید لھما لما فی النھر بحثا (عاقل والمراھق کبالغ) جو ھرۃ (غیر مجوسی ولا فاسق)

پس آپ کی والدہ اپنے رضاعی بیٹے کے ساتھ عمرہ کے سفر پر جاسکتی ہیں۔ واضح رہے کہ فقہاء نے موجودہ زمانے میں فتنہ و فساد کے عام ہونے کی بناء رضاعی بھائی کے ساتھ سفر کرنے سے منع کیا ہے۔ لہذا رضاعی بھائی کے ساتھ سفر حج یا عمرہ پر نہیں جانا چاہئے۔ ردالمحتار میں وقولہ (أو ذمیا او برصناع کے تحت ہے: مختص بالمحرم کما لا یخفی لکن نقل اسید ابوالسعود عن نقصات البرازیہ: لا تساخر بأخیھا رضاعیا فی زماننا اھ ای لغلبۃ الفساد۔

طلاق کے بعد رجوع کرنا
سوال : میاں بیوی میں اختلاف کے دوران شوہر نے بیوی کو ’’تجھ کو طلاق دیدیا ‘‘ کہا، اتنا کہنا ہی تھا کہ لڑکے کے والدین لڑکے پر سخت برہم ہوئے اور اس کو خاموش کردیئے ۔ لڑکی کے ماں باپ کو اطلاع ہوئی تو وہ فوراً آئے اور لڑکی کو ساتھ لے گئے ۔ آج دس دن ہوئے ہیں۔ لڑکا اور لڑکی دونوں اپنے کئے پر نادم و پشیمان ہیں۔ کیا وہ دونوں دوبارہ پیار و محبت سے ازدواجی زندگی گزارسکتے ہیں یا نہیں ؟ لڑکے نے صرف ایک ہی مرتبہ طلاق کے الفاظ اپنی زبان سے ادا کیا ہے۔ آپ کے جواب کا بے چینی سے انتظار ہے۔
نام مخفی

جواب : دریافت شدہ مسئلہ میں بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ، طلاق رجعی میں اندرون عدت (تین حیض یا وضع حمل حاملہ کیلئے) شوہر کو رجوع کرنے کا حق رہتا ہے ۔ اگر شوہر عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلیتا ہے یعنی شوہر بیوی سے کہے کہ میں نے تم کو رجوع کرلیا تو رجوع ثابت ہوجاتا ہے اور ان کار رشتہ نکاح بدستور برقرار رہتاہے۔ کنزالدقائق ص : 130 باب الرجعۃ میں ہے : و تصح فی العدۃ ان لم تطلق ثلاثا ولولم ترض براجعتک و راجعت امرأۃ و بما بوجب حرمۃ المصاھرۃ۔

بیوی کا نصرانی ہوکر دوبارہ اسلام قبول کرنا
سوال : شوہر فلسطین کا باشندہ ہے اور اسکی بیوی کے ماں باپ بھی فلسطین کے ہیں لیکن لڑکی کی پرورش امریکہ میں ہوئی ۔ شادی کے بعد میاں بیوی کی زندگی خوشحال تو ہے اور ان کو اولاد بھی ہے ، چند دنوں سے ان کے درمیان اختلاف ہوگیا اور دونوں میں سخت جھگڑے ہوئے۔ بیوی نے کہہ دیا کہ میں نصرانی ہوگئی اور وہ چرچ جانا شروع کردی ۔ بعد ازاں میاں بیوی میں صلح صفائی ہوگئی اور بیوی شرمندہ ہوگئی اور وہ دوبارہ مسلمان ہوگئی۔ اب سوال یہ ہے کہ شوہر نے اس کو طلاق نہیں دی تھی لیکن وہ نصرانی ہوگئی تھی تو کیا ان دونوں میں رشتہ نکاح باقی ہے یا نہیں کیونکہ اسلام میں نصرانی عورت سے شادی کرنے کی اجازت ہے ۔ اس لحاظ سے کیا ان دونوں کا نکاح باقی ہے یا ان کو تجدید نکاح کی ضرورت ہے۔
ای میل

جواب : شرعاً میاں بیوی میں سے کوئی مرتد ہوجائے تو فی الفور دونوں کا نکاح خود بخود فسخ ہوجاتا ہے ۔ قاضی کے فسخ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ در محتار برحاشیہ ردالمحتار جلد 3 کتاب النکاح باب نکاح الکافر ص : 202 میں ہے : (وارتداد احدھا) ای الزوجین (فسخ) فلا ینقص عددا (عاجل) بلا قضاء۔

پس صورت مسئول عنہا میں جس وقت بیوی نے عیسائی مذہب قبول کیا اسی وقت میاں بیوی کے درمیان تفریق و علحدگی واقع ہوگئی ، ان دونوں میں رشتہ نکاح باقی نہیں رہا ۔ لہذا وہ تائب ہوکر مسلمان ہوچکی ہے اور دونوں دوبارہ ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو دونوں کو نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح کرنا ہوگا۔

خدمت کے عوض جائیداد میں زائد حصہ کا مطالبہ کرنا
سوال : میری والدہ 78 سال کی عمر میں فوت ہوئیں، وہ ایک عرصہ سے بیمار تھی اور وہ میری منجھلی بہن کے پاس مقیم تھیں، ان کے شوہر بیرون ملک ملازم ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ منجھلی بہن نے ہماری والدہ کی بہت زیادہ خدمت کی ہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہماری والدہ کے زیورات ان کو دیدیئے جائیں اور ان کی جائیداد میں سے وہ دوسری بہنوں کے برابر حصہ لینا چاہتی ہیں۔
شرعی لحاظ سے کیا منجھلی بہن کا مطالبہ درست ہے یا نہیں ؟ کیا وہ والدہ کی خدمت کرنے کی وجہ زیادہ حصہ کی حقدار ہوتی ہے یا نہیں ؟
نام ندارد

جواب : آپ کی منجھلی بہن نے جو والدہ کی خدمت کی ہے وہ ان کا حسن سلوک اور والدین کے ساتھ نیکی ہے اور وہ آخرت میں اجر و ثواب کی مستحق ہے لیکن صاحب جائیداد کی خدمت و اطاعت کی وجہ ان کے انتقال کے بعد ان کے متروکہ سے خدمت گزار و اطاعت شعار وارث کو حصہ رسدی سے زائد نہیں ملے گا۔ لہذا آپ کی منجھلی بہن اپنے مقررہ حصہ رسدی کی حقدار ہیں، ان کا حصہ رسدی کے علاوہ زیورات کا مطالبہ شرعاً معتبر نہیں۔

والدہ کی طرف سے نماز پڑھنا
سوال : میری والدہ بہت سخت مزاج ہیںاور میں ان کو نماز کے بارے میں کہتا ہوں تو مجھے بہت سخت انداز میں ڈانٹ دیتی ہے اور میں خاموش ہوجاتا ہوں، وہ نماز نہیں پڑھتی ہیں تو مجھے بہت خوف ہوتا ہے کہ کہیں وہ آخرت میں اللہ کے عذاب میں گرفتار نہ ہوجائے ۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں والدہ کی جانب سے نماز پڑھ سکتا ہوں یعنی ظہر کی جب میں نماز ادا کرلوں تو کیا میں اپنی والدہ کی طرف سے بھی چار رکعت ظہر کے فرض نماز ادا کرسکتا ہوں یا نہیں ؟ اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔
محمد حبیب اللہ ، ای میل

جواب : شرعاً کوئی شخص دوسرے کی طرف سے فرض نماز یا فرض روزہ نہیں رہ سکتا کیونکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ لا یصوم أحد عن احد ولا یصلی احد عن أحد ۔ (نسائی) یعنی کوئی کسی کی طرف سے نہ روزہ رہے گا اور نہ نماز پڑھے گا۔
لہذا آپ والدہ کی طرف سے ان کے فرض نماز ادا نہیں کرسکتے، آپ کو چاہئے کہ حکمت و مناسبت سے والدہ کو نماز کی تلقین و ترغیب دیں اور اللہ تعالیٰ سے دعاء بھی کریں۔ آپ کی دعاء سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ کے دل و دماغ کو پھیردے اور وہ نماز کی پابند ہوجائیں۔

قرض لیکر حج کو جانا
سوال : مجھے ایک زمانہ سے حج کی خواہش ہے، میں نے کئی دفعہ حج کمیٹی میں فارم داخل کیا لیکن میرا نام نہیں آیا، اس دفعہ انشاء اللہ میرا نام فہرست میں آجائے گا ، میرے پاس مختصر رقم ہے جو ابتدائی قسط میںمجھے ادا کرنی ہے ۔ دیگر اقساط میں نے قرض لیکر ادا کرنے کا ارادہ رکھا ہے ۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ قرض لیکر حج کو نہیں جانا چاہئے اور اگر قرض لیکر حج ادا کریں تو چونکہ اب فرض نہیں تھا ۔ جب بھی آپ کے پاس حج کو جانے کی رقم جمع ہوگی پھر دوبارہ حج کرنا ہوگا ۔ شرعی لحاظ سے میری رہنمائی فرمائے تاکہ حج کی روانگی سے قبل مجھے اطمینان قلب حاصل ہو۔
محمد ابراہیم،محبوب نگر

جواب : صاحب استطاعت پر حج فرض ہے جو صاحب استطاعت نہیں یعنی جس کے پاس حج کی ادائیگی کے اخراجات اور خود کے اور واپس تک اہل و عیال کے نفقہ کی مقدار میں سرمایہ نہ ہو اس پر حج فرض نہیں اور کچھ سرمایہ ہو تو ازروئے شرع قرض لیکر حج کرنا ضروری نہیں کیونکہ وہ صاحب استطاعت نہیں ہے ۔ اور نہ کسی کو ازروئے شرع قرض لیکر حج ادا کرنے کی تر غیب دی جائے گی ۔ البتہ اگر کوئی شخص حج کیلئے قرض لیتا ہو اور وہ قرض کی ادائیگی پر قادر ہو تو اس کا قرض لیکر حج کرنے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ۔ ردالمحتار جلد دوم کتاب الحج صفحہ : 509 میں ہے : ولذاقلنا : لا یستقرض لیحج الا اذا قدر علی الوقاء ۔

پس آپ قرض کی ادائیگی پر قادر ہیں اور واپسی کے بعد ادا کرسکنے کا یقین ہو۔ موت و حیات کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے کوئی ناگہانی صورت پیش آجائے تو اس قدر اثاثہ ہو کہ قرض ادا ہوجائے تو آپ کا قرض لیکر حج کو جانے میں شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور قرض لیکر حج کرنے سے آپ کا فرض حج ادا ہوجائے گا ۔ آئندہ حالات سازگار ہوجائیں اور مزید سرمایہ جمع ہوجائے تب آپ کو دوبارہ حج کرنا فرض نہیں ہوگا۔ جس نے بھی آپ سے اس طرح کہا کہ آپ کا فرض حج ادا نہ ہوگا ، وہ صحیح نہیں۔

TOPPOPULARRECENT