Monday , January 22 2018
Home / بچوں کا صفحہ / ترقی کا ہنر

ترقی کا ہنر

کلاس روم میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ طلبہ کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف کیوں کہ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا استاد نے کلاس روم میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبہ کی طرف کرتے ہوئے پوچھا ’’تم میں سے کون ہے۔

کلاس روم میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ طلبہ کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف کیوں کہ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا استاد نے کلاس روم میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبہ کی طرف کرتے ہوئے پوچھا ’’تم میں سے کون ہے۔
جو اس لکیر کو چھوئے بغیر چھوٹا کر دے؟‘‘’’یہ ناممکن ہے۔‘‘ کلاس کے سب سے ذہین طالب علم نے آخر اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا ’’لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں۔‘‘ باقی طلبہ نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کر دی۔ استاد نے گہری نظروں سے طلبہ کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پہلی لکیر کے پاس تھوڑا فاصلہ دے کر اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ اب سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا ثابت کر دیا تھا۔ طلبہ نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھا تھا یعنی دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر ان کو برا بھلا کہے بغیر ان سے حسد کیے بغیر ان سے الجھے بغیر آگے نکل جانے کا ہنر جو انہوں نے چند منٹ میں سیکھ لیا۔

TOPPOPULARRECENT