Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / ترقی کو بھول کر ، فرقہ پرستی اور بابری مسجد مسئلہ کو اہمیت

ترقی کو بھول کر ، فرقہ پرستی اور بابری مسجد مسئلہ کو اہمیت

پٹیل ، دلت اور مسلمان ووٹ اہمیت کے حامل ۔کانگریس کو گجراتی عوام کی حمایت کے پیش نظر بی جے پی قیادت فرقہ پرستی پر مجبور

حیدرآباد ۔ 18 نومبر (سیاست نیوز) گجرات انتخابات میں کامیابی کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوستان بھر میں انتخابی مہم چلارہی ہے تاکہ اس کا فائدہ گجرات میں اٹھایا جائے۔ آئندہ ماہ گجرات میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں کئے جانے والے بی جے پی کے اقدامات سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کانگریس اور راہول گاندھی کا خوف ستانے لگا ہے اسی لئے اندرون تین برس ترقی کا ایجنڈہ چھوڑ کر نریندر مودی حکومت نے فرقہ پرستی کو ہوا دینی شروع کردی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے نہ صرف گجرات میں تناؤ پیدا کیا جا رہاہے بلکہ بابری مسجد جیسے حساس موضوع کو ازسر نو چھیڑتے ہوئے اس کا استحصال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ سربراہ ’آرٹ آف لیونگ ‘ سری سری روی شنکر جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی 2014ء کے عام انتخابات میں بالواسطہ تائید کرچکے ہیں وہ اب گجرات چناؤ سے عین قبل ایودھیا اور بابری مسجد مسئلہ پر ثالث کے طور پر خود کو پیش کرتے ہوئے سرگرم ہو چکے ہیں اور اس مسئلہ پر قومی ٹیلی ویژن چیانلس پر مباحث کروائے جانے لگے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بابری مسجد مسئلہ پر اکثریتی طبقہ عدالت کے باہر یکسوئی کے لئے تیار ہے حالانکہ مسلمان اس مسئلہ پر شدت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بابری مسجد کے موضوع کو عین گجرات انتخابات سے قبل چھیڑتے ہوئے اس پر مباحث کروانے کا مقصد مسجد کے متعلق مسلمانوں کے جذباتی موقف کو اُجاگر کرتے ہوئے اکثریتی ووٹ کو متحد کرنا اور مسلم ووٹ کو انتشار کا شکار بنانا ہے۔ قومی ٹیلی ویژن چیانلس جو کہ اس مسئلہ پر مباحث منعقد کرتے ہوئے اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ بابری مسجد کی جگہ پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے والے مسلم قائدین کو پیش کرتے ہوئے ان کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے فرقہ پرستانہ موقف کو سند دلوائی جائے تاکہ ملک میں موجود فرقہ پرست ذہنیت کو متحد کرنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بی جے پی کے قریب کیا جائے جو لوگ بلا وجہ خوف کے عالم میں ہوا کرتے ہیں ۔ سری سری روی شنکر کی نیت شبہات سے بالاتر نہیں ہے کیونکہ 2014 ء کے عام انتخابات کے دوران بھی انھوں نے ملک بھر کا دورہ کرتے ہوئے بالواسطہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کی تھی اور اب بابری مسجد مسئلہ پر عین گجرات انتخابات سے قبل مذاکرات کا بگل بجاتے ہوئے جو بحث چھیڑی ہے اس کا مقصد ہی دیگر سیاسی جماعتوں کو اکثریتی و اقلیتی رائے دہندوں کے درمیان کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کی کوشش ہے۔ بابری مسجد مسئلہ کے علاوہ گجرات انتخابات میں کامیابی کے حصول کیلئے کی جانے والی کوشش کے طور پر فرقہ پرستی کو ہوا دینے والے ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعہ چلائے جانے لگے ہیں اور بالکل اترپردیش انتخابات سے قبل جس طرح گاؤ کشی کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو مارپیٹ کر ہلاک کیا گیا تھا اسی طرح کا واقعہ گذشتہ دنوں ہریانہ اور راجستھان کی سرحد کے قریب پیش آچکا ہے۔ جیسا کہ ابتدائی سطور میں کہا جاچکا ہے کہ گجرات میں کامیابی کے حصول کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی ملک بھر میں نفرت انگیز مہم چلا رہی ہے اورہریانہ و راجستھان دونوں ہی ریاستو ںمیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات میں کامیابی کو اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیا ہے جبکہ گجرات میں کانگریس کو بہترین عوامی حمایت کے مظاہرہ کے سبب بی جے پی اپنی قدیم حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے انتخابات میں کامیابی کیلئے کوشاں ہے۔ ہندستان میں 2014 ء کے عام انتخابات کے بعد ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے سیکولر محاذ کی تشکیل سے روکنے کیلئے جو حکمت عملی تیار کی تھی اس میں اُسے کامیابی حاصل ہوئی لیکن جن لوگوں کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی وہ بی جے پی کے آلۂ کار ثابت ہونے لگے اسی لئے انہیں گجرات انتخابات میں راست استعمال کرنے کے بجائے قومی ٹیلی ویژن کے ذریعہ استعمال کیا جانے لگا ہے اور بنیادی سطح پر سیکولر ووٹوں کو منقسم کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے طور پر مقامی تاجرین بالخصوص بلڈر اور رئیل اسٹیٹ لابی کو لالچ دیا جارہاہے کہ وہ سیکولر ووٹ کی تقسیم میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کو ممکن بنایا جاسکے۔ گجرات کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم ووٹوں کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے علاوہ سیکولر اکثریتی ووٹ کو خائف کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار کو محفوظ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور رئیل اسٹیٹ تاجرین کے ذریعہ ہراسانی کے واقعات میں اضافہ کی شکایات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ کانگریس اقتدار حاصل کرنے سے پہلے ہی ہراسانی شروع ہوچکی ہے اور اقتدار حاصل کرنے کی صورت میں کیا حالات پیدا ہوں گے ! بی جے پی قائدین واضح طورپر کہہ رہے ہیں کہ گجرات میں کامیابی کا حصول ان کیلئے لازمی ہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی آئندہ کی حکمت عملی گجرات میں کامیابی کے بعد ہی طئے کرے گی۔ بی جے پی صدر امیت شاہ گجرات انتخابات میں کانگریس کے امیدواروں کی فہرست کو قطعیت دئیے جانے کے منتظر ہیں کیونکہ ان کا احساس ہے کہ اگر کانگریس میں ٹکٹ کے دعویدارو ںکو مایوسی ہوتی ہے تو وہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے رجوع ہو ںگے لیکن بی جے پی انہیں ٹکٹ نہیں دے گی بلکہ انہیں اجتماعی بغاوت کے ذریعہ بحیثیت باغی کانگریس امیدوار میدان میں اتارتے ہوئے سیکولر ووٹ کو منقسم کرنے کی کوشش کرے گی۔ بتایاجاتاہے کہ اس کے علاوہ کانگریس پارٹی قائدین میں گجرات انتخابات کی حکمت عملی پر پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کانگریس کو نوجوان نسل کو امیدوار بنانے کیلئے اکسایا جارہا ہے تاکہ وہ نا تجربہ کار امیدواروں کو میدان میں اتاریں اور بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے تجربہ کار امیدواروں کو میدان میں اُتارتے ہوئے کامیابی حاصل کرسکے۔

TOPPOPULARRECENT