Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ترقی کی بنیاد پر مرکز کا گمراہ کن بجٹ : ڈاکٹر کے چکرادھر

ترقی کی بنیاد پر مرکز کا گمراہ کن بجٹ : ڈاکٹر کے چکرادھر

تلنگانہ کیساتھ ناانصافی پر اپوزیشن کی خاموشی افسوسناک : ٹی آر سی کے مذاکرہ سے خطاب

تلنگانہ کیساتھ ناانصافی پر اپوزیشن کی خاموشی افسوسناک : ٹی آر سی کے مذاکرہ سے خطاب
حیدرآباد۔یکم مارچ(سیاست نیوز)نیشنل ڈیموکرٹیک الائنس کے بجٹ سال2015اور2016کو سابق کے تمام بجٹ کا سلسلہ وار حصہ قراردیتے ہوئے ریٹائرڈ پروفیسر معاشیات عثمانیہ یونیورسٹی ڈاکٹر کے چکرا دھر رائو نے کہاکہ ترقی کو بنیاد بناکر گمراہ کن بجٹ پیش کرنے کا مرکزی حکومت نے کام کیا ہے۔ آج یہاں چندرم حمایت نگر میںمنعقدہ تلنگانہ ریسور س سنٹر کے 163ویں مذاکرے سے صدارتی خطاب کے دوران انہوں نے مرکز ی حکومت کو ورلڈ بینک کے اشاروں پر کام کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ورلڈ بینک کی معاشی پالیسیوں سے متاثر ہوکر تیار کردہ بجٹ میں سرمایہ کاری کے ماڈل کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بجٹ کی تیار ی میں ورلڈ بینک کے ریفرمس کے استعمال کا بھی مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا جو عام آدمی کے لئے نقصاندہ ہے۔پروفیسر رائو نے اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ مرکز ی بجٹ کا اہم جز ملک کوہونے والی آمدنی اور اس کے خرچ کا حساب ہے جس کو این ڈی اے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میںیکسر نظر انداز کیاگیا۔پروفیسر رائو نے مذکورہ بجٹ میںدیہی علاقوں کی ترقی کو نظر انداز کرنے کا بھی مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں کی عوام کے لئے روزگار کے اضافے کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک کی ترقی کو یقینی بنانے مرکزی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں کی عوام کے ذریعہ معاش میں اضافے کے ذریعہ ملک اور ریاستوں کی ترقی کو یقینی بنانے کاکام کیاجاتا ہے جس میں پلاننگ کمیشن کا بڑا عمل دخل رہتا ہے مگر مرکزی حکومت کے بجٹ نے ان تمام امور کو یکسر فراموش کرتے ہوئے راست سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے کاکام کیا ہے جو ورلڈ بینک کی پالیسی کا اہم حصہ بھی ہے۔بہترین بجٹ کے پلاننگ کمیشن کی سفارشات کو اہمیت کا حامل قراردیتے ہوئے پروفیسر رائو نے کہاکہ ملک کی معیشت کو سدھارنے میںہمارے زرعی شعبہ کا اہم رول ہے مگر مرکزی حکومت نے اپنے بجٹ میں اہمیت کے حامل زرعی شعبے کو مراعات سے محروم رکھنے کاکام کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ زراعت ہندوستان کا واحد شعبہ ہے جس میںخانگی سرمایہ کاردلچسپی نہیں دیکھتے مگر حکومت ہر بار اس شعبے کو خصوصی مراعات کے ذریعہ تعاون کرتی ہے باوجود اسکے این ڈی اے حکومت نے زراعی شعبہ میںبھی سرکاری سرمایہ کاری کے متعلق خاموشی اختیار کرتے ہوئے ملک کے کسان طبقے کی زندگیوں سے کھلواڑ کا کام کیا ہے۔ انہوں نے آندھرا پردیش تنظیم جدید بل2013کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ بل میںملک کے دونئی ریاستوں کی ترقی کے لئے بڑے پیمانے پر مرکز کا تعاون کا ذکرہے مگر ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پیش کئے گئے پہلے مکمل بجٹ میںتلنگانہ ریاست کو تمام مراعات سے محروم رکھنے کاکام کیا گیا ۔انہوں نے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی پر ایوان کی اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی کو بھی افسوسناک قراردیا۔انہوں نے حکومت تلنگانہ کی متعارف کردہ اسکیمات مشن کاکتیہ اور واٹر گریڈ کی امداد سے محروم رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ دونوں پراجکٹس کی تکمیل کے لئے مرکز سے مسلسل نمائندگی بھی نظر انداز کردی گئی ۔ اس کے علاوہ انہو ںنے کہاکہ چند محکموں کی تقسیم میںتاخیر کے سبب مذکورہ محکموں کو حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی دوریاستوں میںبانٹنے کاکام کیاجارہا ہے جو نہ صرف غیرجمہوری اقدام ہے بلکہ ریاست تلنگانہ کی ترقی میںبڑی رکاوٹ بھی بن رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نریند ر مودی نے اپنے اٹھارہ ہزار الفاظ پر مشتمل تقریر میںصرف تین لفظ تلنگانہ کے لئے استعمال کئے جو تلنگانہ کے ساتھ مرکز کے سوتیلے سلوک کاثبوت ہے۔پروفیسر کے لکشمی نارائن‘ این وینو گوپال‘کے سدھاکر گوڑ نے بھی اس مذاکرے سے خطاب کیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT