Saturday , June 23 2018
Home / اداریہ / ترقی کی راہ میں رکاوٹ

ترقی کی راہ میں رکاوٹ

اس کے سوا ہمیں اب درکار ہی نہیں کچھ گاؤں کو تم ہمارے امن و امان دے دو ترقی کی راہ میں رکاوٹ

اس کے سوا ہمیں اب درکار ہی نہیں کچھ
گاؤں کو تم ہمارے امن و امان دے دو
ترقی کی راہ میں رکاوٹ
تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے مسائل پیدا کرنے والوں نے آندھراپردیش اسٹیٹ ری آرگنائزیشن قانون کی غیر معروف دفعہ پر توجہ دے کر حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہونے پر گورنر راج کے نفاذ پر زور دینا شروع کیا ہے تو اس سے دستوری عہدہ کی حامل شخصیت گورنر کے اختیارات کو بیجا استعمال کرنے کی کوشش ہوگی۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش کی حکومتوں کے درمیان تعلقات کو کشیدہ بنانے والے حالات ہر دو ریاستوں کے لئے افسوسناک ہیں۔ رقم برائے ووٹ اسکینڈل میں تلگودیشم رکن اسمبلی کی حالیہ گرفتاری کے بعد دونوں ریاستوں کی سیاسی صورتحال کو نازک بنانے کے لئے متعلقہ پارٹیوں کے قائدین نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ 31 مئی کو تلنگانہ انسداد رشوت ستانی بیورو نے تلگودیشم ایم ایل اے ریونت ریڈی کو لیجسلیٹیو کونسل انتخابات میں ووٹ دینے کے لئے نامزد رکن اسمبلی کو 50 لاکھ روپئے کی رشوت دینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ تلگودیشم چونکہ مرکز میں این ڈی اے کی حلیف پارٹی ہے اس لئے ریاست کے مسئلہ کو مرکز سے رجوع کرنے کے لئے اپنے وزراء کے ٹیلی فونس کو ٹیپ کرنے کی شکایت کرتے ہوئے ثبوت پیش کیا ہے۔ تلگودیشم میں مرکز نے اپنے خوشگوار روابط کا فائدہ اُٹھانے کی جس طرح کوشش کی ہے اس کی مخالفت ہونا سیاسی تقاضہ ہے۔ تلنگانہ میں تلگودیشم کی حکومت کو کام کاج سے روکنے کا حکومت تلنگانہ پر جو الزام عائد کیا گیا ہے اس کا جائزہ لیا جاکر دونوں جانب کی حکومتوں کے اختلافات دور کرنے میں مرکز کو فوری مداخلت کرنی تھی مگر دیکھا یہ جارہا ہے کہ مرکز بھی تلگو ریاستوں کے تنازعہ کو ایک خاص وقت کے لئے رکھ چھوڑنے یا اس تنازعہ کو مزید ابتر بنانے کا موقع دیتے ہوئی دکھائی دے رہا ہے۔ حیدرآباد میں آندھراپردیش کی حکومت کے وزراء کی کارکردگی اور ان کے مواصلاتی اُمور کی ریکارڈنگ کرنے کا جہاں تک الزام ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ تلگودیشم کے قائدین کو اپنی روز مرہ زندگی میں انجام دیئے جانے والے کاموں پر حکومت تلنگانہ کی نظر پر اعتراض ہے۔ اس لئے یہ قائدین آندھرا اسٹیٹ ری آرگنائزیشن قانون کی دفعہ 8 کو حیدرآباد میں نافذ کرتے ہوئے گورنر راج کا مطالبہ کررہے ہیں۔ دفعہ 8 میں گورنر کو خصوصی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ حیدرآباد میں سکیوریٹی کو یقینی بنائیں۔ شہر حیدرآباد اس وقت دونوں ریاستوں کا مشترکہ صدر مقام ہے۔ آئندہ 10 سال تک شہر میں آندھراپردیش حکومت کی کارکردگی کو زیادہ مدت تک برداشت کرنا بھی بعض سیاسی گروپس کے لئے مسئلہ ہے۔ اگرچیکہ حکومت تلنگانہ نے حلف برداری کے بعد یقین دلایا تھا کہ آندھراپردیش کے عوام کو یہاں تنگ نہیں کیا جائے گا۔ رائلسیما اور آندھرا سے تعلق رکھنے والے عوام کے قیام کو محفوظ بنانے کے سوال پر تلگودیشم کو تشویش ہورہی ہے اسی لئے یہ پارٹی دفعہ 8 کے نفاذ پر زیادہ زور دے رہی ہے۔ اس سے ایک نئی ریاست کی کارکردگی اور اس کی نیک نامی پر اثر پڑے گا۔ ٹی آر ایس حکومت کو بدنام کرنے کے لئے دفعہ8 کا سہارا لیا جاتا ہے تو یہ ایک سازشی حرکت ہوگی۔ دفعہ 8 کا نفاذ صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ سنگین ہوجائے۔ اس شہر میں ایسی کوئی کیفیت پائی نہیں جاتی کہ گورنر راج نافذ کرنے کی نوبت آجائے۔ گورنر بھی یہ دفعہ اس وقت تک نافذ نہیں کرسکتے تاوقتیکہ وہ صورتحال کا جائزہ لے کر ریاست تلنگانہ کی کابینہ سے مشاورت کریں۔ حیدرآباد تلنگانہ کا حصہ ہے تو یہاں لاء اینڈ آرڈر بھی ریاستی پولیس کے کنٹرول میں ہوگا۔ پھر دفعہ 8 کا سہارا لینے کی کوشش حالات کو گرمانے کی حرکت کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ دونوں ریاستوں کی حکمراں پارٹیوں کو ایک دوسرے سے انتقام لینے کی کوشش ترک کرنی ہوگی۔ دونوں پارٹیوں کو متعلقہ ریاستوں کے عوام نے خاص جمہوری جذبہ سے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے۔ انھیں عوام کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے حکمرانی کے فرائض انجام دینے ہوں گے۔ دونوں ریاستوں میں بہت سی ایسی قوتیں سرگرم ہیں جو حکومتوں کی کارکردگی کو سبوتاج کرنا چاہتی ہیں تاکہ عوام ان پارٹیوں سے بدظن ہوجائیں اور عوام اچھی حکومتوں سے محروم ہوں۔ دونوں حکمراں پارٹیوں کو آپس میں ترقی کی راہداری کو اس خطوط سے تعمیر کرنا ہوگا کہ جس پر چل کر دونوں ریاستوں کے عوام خوشحال و ترقی کے ثمرات حاصل کریں۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کے وقت مرکز نے جو قانون بنایا تھا اس کو تنازعہ کے خاتمہ کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ تنازعات کو ہوا دینے کے لئے بیجا استعمال کیا جائے۔آندھراپردیش کی تقسیم اور نئی ریاست تلنگانہ کی تشکیل کا ایک سال پورا ہوچکا ہے اور اس دوران دونوں ریاستوں کے عوام کے مابین رنجش یا آپسی لڑائی کا کوئی بھی واقعہ منظر عام پر نہیں آیا۔ یہ خود اِس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ریاستوں کے عوام مل جل کر رہنا چاہتے ہیں اور شائد اِسی وجہ سے دونوں ریاستوں میں جمہوری طور پر اُنھوں نے متعلقہ حکومتوں کے حق میں اپنا واضح فیصلہ سنایا۔ اس کے باوجود دونوں حکومتیں عوام کی اُمیدوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سیاسی رقابت کو فروغ دے رہی ہیں۔ اِس ضمن میں اُنھیں اپنا طرز عمل بدلنا چاہئے اور ریاست کی ترقی و عوام کی خوشحالی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔
برطانوی وزیراعظم کا ریمارک افسوسناک
وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون کو اپنے ملک کے مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن افسوس ہے کہ انھوں نے حالیہ منعقدہ برطانوی انتخابات میں مسلمانوں کے اکثریتی ووٹ لینے کے بعد انھیں ہی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں سرگرم دولت اسلامیہ (داعش) کے نظریات کی حمایت نہ کرنے کا برطانوی مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہوئے اُنھوں نے اپنے مسلم شہریوں کے خلاف شک کے دائرہ کو وسعت دی ہے۔ اس سے برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی چنگاری بھڑکانے کا کام کرنے والی مخالف مسلم تنظیموں کو شہ ملے گی۔ عراق و شام اور یمن کے حالات کے لئے دولت اسلامیہ ذمہ دار ہے تو اس کے پیچھے چھپے ہاتھ کے تعلق سے مغرب پر شبہ کا دائرہ بھی وسیع ہورہا ہے۔ برطانوی مسلم نوجوانوں میں سے چند ایک نے ایسی غلطی کی تھی کہ داعش میں شامل ہونے کے لئے اپنے وطن کو ترک کردیا تھا لیکن ترکی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایسے کئی برطانوی مسلم نوجوانوں کو واپس بھیج دیا تھا۔ برطانیہ کی جملہ 64 ملین کی آبادی میں مسلمانوں کی آبادی 2.7 ملین ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک 700 مسلم نوجوان داعش کے علاقہ کا سفر کیا ہے۔ برطانوی پولیس کے اس دعوے کی کوئی حقیقت ہے تو حکومت یا اس کے سربراہ کو پوری مسلم برادری کے تعلق سے ریمارک کرنے سے قبل مکرر غور کرنے کی ضرورت تھی۔ اس طرح کے بیانات بعض اوقات غیر مددگار بھی ثابت ہوتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT