Tuesday , January 23 2018
Home / Top Stories / ترقی کے ثمرات سے مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر کسی کو محروم نہ کیا جائے

ترقی کے ثمرات سے مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر کسی کو محروم نہ کیا جائے

نئی دہلی 16 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) اجتماعی ترقی کیلئے ہندوستان کو خواتین کیلئے حالات سازگار کرنے اور اپنی ’ دختران ‘ کیلئے احساس تحفظ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ کسی کو بھی اجتماعی ترقی کے عمل سے ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر الگ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لگارڈے نے آج یہ بات کہی ۔ لگارڈے ہندوستان کے دو ر

نئی دہلی 16 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) اجتماعی ترقی کیلئے ہندوستان کو خواتین کیلئے حالات سازگار کرنے اور اپنی ’ دختران ‘ کیلئے احساس تحفظ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ کسی کو بھی اجتماعی ترقی کے عمل سے ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر الگ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لگارڈے نے آج یہ بات کہی ۔ لگارڈے ہندوستان کے دو روزہ دورہ پر ہیں۔ انہوں نے لیڈی سری رام کالج میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعیت سے ان کی مراد خواتین اور ہر کسی کو اس میں شامل کرنا ہے ۔ لگارڈے نے یہاں تقریب کے دوران اس سوال پر کہ آیا فرقہ وارانہ واقعات ‘ ملک کو 7.5 فیصد کی شرح سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں کہا کہ وہ اپنے اس عام اصول پر کاربند رہیں گی کہ مخصوص افراد کے کسی گروپ کو ثمرات پر قبضہ نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی کسی گروپ کو اس سے محروم رکھا جانا چاہئے اور نہ ہی کسی مخصوص گروپ کے ساتھ ان کی نسل یا ان کے مذہب کی بنیاد پر اس سے محروم کیا جانا چاہئے ۔ یہ درست نہیں ہے ۔ لگارڈے خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد بھی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی ترقی کا مطلب یہی ہے کہ ہر کوئی جیسے بیروزگار ‘ معذور اور تمام ذات پات و مذاہب کے ماننے والوں کو اس میں حصہ دار بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے لڑکیوں کو بچانے کیلئے جو مہم شروع کی گئی ہے اور ان کی تعلیم پر جو توجہ دی جا رہی ہے اس سے وہ بہت متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں و خواتین کیلئے سازگار حالات فراہم کرنا صرف اخلاقی اعتبار سے درست نہیں ہے بلکہ اس سے معیشت بھی مستحکم ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا کئی ممالک کی حالت بدل سکتا ہے اور اس سے ہندوستان کو بھی استثنی حاصل نہیں ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا ہندوستان جیسی معیشت میں وہ شخصی طور پر خود سرمایہ کاری کرنا پسند کرینگی انہوں نے کہا کہ ہاں وہ ایسا کرینگی ۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی سرمایہ کاری خواتین کو تعلیم فراہم کرنے کی سمت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مطالعہ کے مطابق ہندوستان میں خاتون ملازمین کی حصہ داری کی شرح صرف 33 فیصد ہے جو عالمی سطح پر 50 فیصد کے تناسب سے کم ہے ۔ جبکہ مشرق ایشیا میں یہ تناسب 63 فیصد ہے اس اعتبار سے ہندوستان بہت پیچھے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب ہندوستان کو کچھ منفر چیلنجس کا سامنا ہے اور دوسری جانب سماج میں خواتین نے اچھی پیشرفت بھی کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT