Wednesday , December 12 2018

ترلوک پوری میں دوبارہ کشیدگی ‘ پتھر بازی کے الزام میں دس کی گرفتاری

New Delhi: Police personnel and forensic experts inspect the site of an encounter between the Special Cell and a gang of criminals in the Chattarpur area of south Delhi on Saturday, June 09, 2018. Four criminal including the gang leader Rajesh Bharti were killed in the encounter. Express Photo by Tashi Tobgyal New Delhi 090618

ڈی سی پی سنگھ نے یہ الزامات کو مسترد کیا ہے’’ کسی کو بھی پولیس اسٹیشن میں زدکوب نہیں کیاگیا ہے۔ کچھ لوگو ں نے پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیااور پھر وہ چلے گئے‘ اتنا ہی ہوا ہے‘‘
نئی دہلی۔جمعرات کی رات کو ایک کرکٹ میاچ کے دوران ترلوک پوری کے بلاک بیس میں پیش ائی کشیدگی ایک دوسرے پر پتھراؤ میں تبدیلی ہوگئی اور علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی بھی پیدا ہوگئی‘ ایساہی ایک واقعہ فبروری میں بھی پیش آیاتھا۔

مسلئے اس کو وقت پیدا ہوا جب ایک 18سال کے ترکاری فروش شعیب کی ’’د وسری کمیونٹی کے لڑکوں‘‘ نے 9:30کے قریب مبینہ طور پر پٹائی کی‘ شعیب کے گھر والوں نے اس طرح کا دعوی کیاہے۔ شعیب کی بہن صادقہ نے کہاکہ ’’ ہمارے گھر کے قریب کی گلی میں ہم نے ایک آواز سنی

۔ میں نے جس کے متعلق اپنے بڑے بھائی کو بتایا‘ انہو ں نے کہاکہ شعیب کو قریب میں رہنے والے کچھ لڑکوں نے پیٹا‘‘۔ پولیس نے دس لوگوں کو گرفتار کیا جس میں شعیب بھی شامل ہے اور احتیاطی اقدامات کے طور پر پچاس پولیس جوانوں کو علاقے میں متعین کردیا۔

ڈی سی پی ( ایسٹ) پنکج کمار سنگھ نے کہاکہ ’’ ہم نے شعیب ‘ نور محمد ‘ راشد‘ راہول‘ انکت‘للت‘ ثاقب اور دیگر تین لوگوں کوگرفتار کیاہے۔ انہیں ائی پی سی کے دفعہ 147اور148فساد برپا کرنے کے مقصد‘ 149اور186،323،352کے تحت گرفتار کیاہے‘‘۔

ملزم للت کے رشتہ دار وید پرکاش نے 10:11کے قریب پولیس کوپتھر اؤ کے پیش نظر فون کیا۔انھوں نے دعوی کیا ہے کہ للت او رانکت پتھراؤ شروع ہونے سے قبل ہی گھر میں آگئے تھے او روہ بے قصور ہیں‘ او رپولیس انہیں10:30کو گرفتار کرکے لے گئی‘‘۔انکت کی 50سالہ ماں چمیلی نے دعوی کیاہے کہ ’’ وہ للت کے ساتھ کرکٹ کھیل رہاتھا۔ ہم نہیں جانتے کہ کس طرح جھگڑا شروع ہوا اور کون اس میں ملوث ہے‘‘۔

مگر ڈی سی پی سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ ہماری تحقیقات میںیہ بات سامنے ائی ہے کہ یہ تمام لڑکے جھگڑے میں شامل ہیں‘‘۔ شعیب کے سر ‘ پیٹھ اورکاندھے پر زخم ائے ہیں اور اس کو علاج کے لئے لال بہادر شاستری اسپتال لے جایاگیا۔

ان کے والدہ 45سالہ فرہاد نے مبینہ طو رپر کہا ہے کہ ’’ انہو ں لوگوں نے داخلہ سے انکار کردیاتھا اور ہم نے اس کو مایور وہار فیس ون پولیس اسٹیشن لے گئے جہاں پر افیسروں نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔ ان لوگوں نے ہم پر لاٹھی چارج کیا‘ یہا ں تک کے خواتین کے ساتھ بھی مارپیٹ کی‘‘۔

ڈی سی پی سنگھ نے یہ الزامات کو مسترد کیا ہے’’ کسی کو بھی پولیس اسٹیشن میں زدکوب نہیں کیاگیا ہے۔ کچھ لوگو ں نے پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیااور پھر وہ چلے گئے‘ اتنا ہی ہوا ہے‘‘۔

واقعہ کو دہراتے ہوئے راشد کی اٹھ ماہ کی حاملہ بیوی رخسار نے دعوی کیاہے کہ ’’ وہ گھر پر تھا۔ جس وقت پولیس آئے اور اس کوگرفتار کرکے لے گئی میں اسوقت راشد کو ڈنر سربراہ کررہی تھی‘ پولیس نے مجھ کو بھی دھکہ دیا جس کی وجہہ سے میں گرگئی‘ وہ مقام واقعہ پر بھی موجود نہیں تھا‘‘

TOPPOPULARRECENT