Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ترملگیری میں 200 سالہ قدیم عیدگاہ کو خطرہ

ترملگیری میں 200 سالہ قدیم عیدگاہ کو خطرہ

وقف بورڈ اور فوجی عہدیداروں سے مقامی مسلمانوں کی نمائندگی
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : سکندرآباد کے علاقہ ترملگیری میں 200 سالہ قدیم عیدگاہ کا وجود خطرے میں بڑھ گیا ہے ۔ وقف بورڈ اور متعلقہ ملٹری عہدیداروں سے مقامی مسلمانوں کی ملاقات اور درخواستیں بے فیض ثابت ہورہی ہیں اور عیدگاہ کو اپنے حدود میں لینے اور حصار بندی کرنے کا کام زوروں مشوروں سے جاری ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ترملگیری میں 108 بازار علاقہ میں واقع اس 200 سالہ قدیم عیدگاہ کو سال 2002 میں شہید کردیا گیا تھا ۔ تاہم اس وقت شدید مخالفت اور مسلمانوں کے احتجاج کے بعد عیدگاہ کو دوسرے مقام پر تعمیر کیا گیا تھا ۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اب حصار بندی کے نام پر عیدگاہ کو مکمل اپنے گھیرے میں لیا جارہا ہے ۔ بارہا نمائندگی کرنے اور وقف بورڈ کو توجہ دہانی کے باوجود کوئی ثمر آور نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں ۔ مقامی مسلمانوں کے ایک وفد مسجد الحفیظ کے صدر کوثر پاشاہ کی قیادت میں ملکاجگیری کے رکن پارلیمنٹ ملاریڈی اور مقامی رکن اسمبلی سائی انا سے ملاقات کی اور نمائندگیاں پیش کیں ۔ اس کے علاوہ ڈپٹی جنرل آفیسرس کمانڈینگ مسٹر اجئے سنگھ نیگی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک یادداشت پیش کی اور سارے واقعہ و حالات سے واقف کروایا اور ملٹری کے اس اعلیٰ عہدیدار نے مقامی مسلمانوں کے اس وفد کو تیقن دیا ۔ باوجود اس کے تعمیراتی کام جاری ہیں ۔ مقامی مسلمانوں نے اس قدیم عیدگاہ کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرنے کی متعلقہ ملٹری کے عہدیداروں اور ریاستی حکومت سے درخواست کی ہے ۔ مقامی مسلمانوں کے اس وفد میں کوثر پاشاہ کے علاوہ ، جبار بابا ، شہباز پاشاہ ، قیصر شریف ، جیلان ، سید عارف و دیگر موجود ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT