Wednesday , January 17 2018
Home / سیاسیات / ترنمول کانگریس سے بی جے پی کی سودے بازی کا امکان

ترنمول کانگریس سے بی جے پی کی سودے بازی کا امکان

نئی دہلی۔/16جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج یہ الزام عائد کیا ہے کہ راجیہ سبھا میں عوام دشمن قوانین کی منظوری کیلئے بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سودے بازی ممکن ہے کیونکہ حکومت مغربی بنگال کے حالیہ منعقدہ بنگال گلوبل سمیٹ کی مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کی تائید سے اس طرح کا تاثر اُبھر کر آیا ہے۔ سی پی ایم کے سینئر لیڈر

نئی دہلی۔/16جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج یہ الزام عائد کیا ہے کہ راجیہ سبھا میں عوام دشمن قوانین کی منظوری کیلئے بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سودے بازی ممکن ہے کیونکہ حکومت مغربی بنگال کے حالیہ منعقدہ بنگال گلوبل سمیٹ کی مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کی تائید سے اس طرح کا تاثر اُبھر کر آیا ہے۔ سی پی ایم کے سینئر لیڈر سیتا رام یچوری نے پارٹی ترجمان پیپلز ڈیموکریسی کے اداریہ میں یہ تحریر کیا کہ راجیہ سبھا میں عوام دشمن قوانین بالخصوص نئی فراخدلانہ معاشی اصلاحات کی توثیق کیلئے بی جے پی کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں جس کیلئے ترنمول کانگریس کی تائید حاصل کرنے کی سرگرم کوشش کی جارہی ہے اور اس خصوص میں سودے بازی کیلئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے بنگال گلوبل سمیٹ میں ترنمول کانگریس کی حمایت کی پیشکش کی ہے۔ کولکتہ میں حالیہ اختتام پذیر گلوبل انڈسٹریل سمیٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر سیتا رام یچوری نے کہا کہ وزیر فینانس نے یہ تیقن دیا ہے کہ مغربی بنگال میں صنعتوں کے فروغ کیلئے نریندر مودی حکومت ممکنہ تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ شاردا اور دیگر چٹ فنڈ اسکامس میں ترنمول کانگریس لیڈروں کو ایک کے بعد پوچھ تاچھ کیلئے سی بی آئی طلب کررہی ہے اور چیف منسٹر ممتا بنرجی پر بھی انگشت نمائی کی جارہی ہے جس کے پیش نظر یہ قائدین مرکزی حکومت کی چھتر چھایہ میں محفوظ رہنے کی کوشش میں ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس ریمارک پر کہ ہندوستان کے پاس تین اہم چیزیں جمہوریت، آبادی اور طلب ( ڈیمانڈ ) ہے۔ سی پی ایم لیڈر نے کہا کہ یہ تینوں چیزیں بھی ملک و قوم کیلئے غیر کارکرد اثاثے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران یہ بلند بانگ دعویٰ کیا تھا

کہ اچھے دن آنے والے ہیں لیکن بہت جلد اس دعویٰ کی قلعی کھل گئی اور غبارہ سے ہوا اُتر گئی ہے اس کے باوجود یہ غبارہ کہر اور دھند میں لہرارہا ہے۔ جبکہ عوام غیر یقینی اور غیر محفوظ مستقبل کا شکار ہیں، یہ غبارہ بہت جلد پھٹ جائے گا اور عوام کی زندگی مزید ابتر ہوجائے گی۔ معاشی محاذ پر انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ہندوستانی کارپوریٹ گھرانوں کے قید میں ہے جنہوں نے انتخابی مہم کیلئے فنڈ فراہم کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی فراخدلانہ معاشی اصلاحات کو روبہ عمل لانا چاہتی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ اور ہندوستان کے وسائل اور عوام کا استحصال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ نعرہ دیا ہے کہ ہندوستانی عوام کیلئے اچھے دن آنے والے ہیں اس کے برخلاف وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ہندوستانی صنعت کاروں کے مفاد میں کام کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT