ترنمول کانگریس پر نرم ہندوتوا پر عمل کرنے کا الزام

کانگریس اور بائیں بازو پارٹیوں کے الزام کی ترنمول کانگریس کی جانب سے تردید ‘ بی جے پی برہم
کولکتہ۔11جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) برسراقتدار ترنمول کانگریس پر کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں نے سخت تنقید کی اور اُس پر ’’ نرم ہندو توا ‘‘ پر عمل کرنے کا الزام عائدکیا ۔ یہ اقدام وہی ہے جس کی وجہ سے بی جے پی نے بھگوا پارٹی کی تائید میں ہندو ووٹ مرکوز کرلئے ہیں ۔ ترنمول کانگریس نے اپنے دفاع میں کہا کہ بی جے پی کی ہندو توا پر اجارہ داری نہیں ہے ۔ بی جے پی جس ہندو توا کی تشہیر کرتی ہے وہ ہندوازم نہیں ہے ‘ وہ صرف معاشرہ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں جب کہ ہم تمام طبقات اور مذاہب کی ترقی چاہتے ہیں ۔ ترنمول کانگریس کے ایک سینئر قائد نے کہا کہ یہ مسئلہ ترنمول کانگریس کی جانب سے ’’ برہمن کنونشن ‘‘ کے ضلع بیربھوم میں جاریہ ہفتہ کے اوائل میں انعقاد کا اہتمام کرنے کی وجہ سے برسرعام آیا ۔ ہزاروں پجاریوں کو اس پروگرام میں تہنیت پیش کی گئی ۔ ان میں سے ہر ایک کو بھگوت گیتا کا ایک نسخہ اور ایک شال کے علاوہ سری راما کرشنا اور ماں شاردا کے ساتھ تصویر کشی کروانے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کا ووٹوں میں حصہ زیادہ ہوگیا ہے ‘ جس کی وجہ سے ترنمول کانگریس ’’ نرم ہندو توا ‘‘ پر عمل کرنے اور اس طرح ہندو رائے دہندوں کو ترغیب دینے پر مجبور ہوگئی ہے ۔ ریاستی اسمبلی میں قائد اپوزیشن عبدالمنان نے کہا کہ مذہبی مجبوریوں کی بناء پر سیاست ایک خطرناک رجحان ہے اس سے ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی طویل مدت میں متاثر ہوگی ۔ ریاستی سی پی آئی (ایم) قیادت نے بھی اندیشے ظاہر کئے کہ مسابقتی فرقہ پرستی جس پر ترنمول کانگریس اور بی جے پی بنگال میں عمل پیرا ہے ‘ سنگین نتائج کی وجہ بنے گی ۔ ترنمول کانگریس اقلیتی بنیاد پرستی کو ہوا دے رہی ہے جب کہ بی جے پی اکثریتی فرقہ پرستی کی آگ پر تیل چھڑک رہی ہے ۔ اب ترنمول کانگریس بی جے پی کو شکست دینے کی کوشش کررہی ہے اور اسی کا کھیل یعنی ہندو توا کھیل رہی ہے ‘ تاکہ اُس کی شبیہہ برعکس ہوجائے ۔ سی پی آئی ( ایم) کے رکن اسمبلی سجان چکربرتی نے کہا کہ جب سے پارٹی 2011ء میں برسراقتدار آئی ترنمول کانگریس پر بی جے پی مسلم برادری کی خوشامد کا الزام عائد کرتی رہی ہے کیونکہ ریاست میں رائے دہندوں کی ایک تہائی مسلمان ہے ۔ ترنمول کانگریس حکومت مختلف فیصلے جیسے اماموں اور موذنوں کے الاؤنسیس میں اضافہ ‘ اقلیتوں کی خوشامد کی ایک کارروائی سمجھا جارہا ہے ۔ ترنمول کانگریس کے سینئر قائد رکن پارلیمنٹ سوگٹ رائے نے کہا کہ مختلف برادریوں کے ساتھ کام کرنا ترنمول کانگریس کی پالیسی کا ایک حصہ ہے اور اس کا مخصوص برادری کو ترغیب دینے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ رائے نے کہا کہ کسی کی بھی خوشامد سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ ترنمول کانگریس سیکولرازم کی علمبردار ہے ۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے برہمن کنونشن کے انعقاد کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے ۔ آپ اُس سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے ۔ ترنمول کانگریس بیربھوم ضلع کے صدر انوبرتا مونڈل اس چوٹی کانفرنس کے مہتمم تھے ‘ انہوں نے ہندوازم کی طاویلات جو بی جے پی کی جانب سے کی جارہی ہے انہیں اُجاگرکیا اور ہندو مذہب ان باتوں کا علمبردار ہے انہیں اہمیت دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ ہندو توا پر بی جے پی کی اجارہ داری نہیں ہے ‘ بی جے پی کی ریاستی قیادت نے تاہم کہا کہ ہندوووٹوں کی مرکوزیت کی وجہ سے ترنمول کانگریس اپنی سیاسی پارٹی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں ہوئی ۔

TOPPOPULARRECENT