Tuesday , December 11 2018

ترکی ، روس اور ایران کا پائیدار جنگ بندی کا اصرار

انقرہ ۔ 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) صدر ایران، ترکی اور روس نے عہد کیا کہ پائیدار جنگ بندی کیلئے مشترکہ طور پر جدوجہد کریں گے کیونکہ گذشتہ 7 سال سے شام میں خانہ جنگی جاری ہے۔ ایک چوٹی کانفرنس جس کا مقصد امن کے امکانات میں اضافہ کرنا ہے اور اس ملک میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنا ہے، منعقد کی گئی ہے جس میں صدر ترکی رجب طیب اردغان، صدر ایران حسن روحانی اور صدر روس ولادیمیر پوٹن نے عہد کیا کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کے پابند رہیں گے تاکہ متحارب فریقین کے درمیان پائیدار جنگ بندی ممکن ہوسکے۔ یہ چوٹی کانفرنس انقرہ میں منعقد کی گئی ہے اور ایسی دوسری سہ فریقی چوٹی کانفرنس ہے۔ پہلی چوٹی کانفرنس کے میزبان پوٹن تھے اور یہ نومبر میں بہراسوڈ کے شہر سوچی میں منعقدکی گئی تھی۔ اس چوٹی کانفرنس سے تینوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے گہرے تعاون کا اظہار ہوا تھا۔ تاہم کسی بڑے کارنامے کا اعلان چوٹی کانفرنس کے انعقاد کے بعد نہیں کیا گیا اور تینوں ممالک کے تبصروں سے نشاندہی ہوئی تھی کہ امکانی طور پر کشیدگیاں پائی جاتی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے بموجب اس سے اس اتحاد کی اہمیت کم ہوگئی تھی۔ تینوں عالمی طاقتیں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں امن مذاکرات کی تائید کرچکی ہیں جو ان کے بقول ایک متوازی طریقہ کار ہے۔ اقوام متحدہ کی تائید سے جنیوا میں تبادلہ خیال ہوا تھا۔ اردغان نے اصرار کیا کہ ان کی چوٹی کانفرنسیں اور آستانہ کے امن مذاکرات کا متبادل نہیں ہیں۔ تاہم امن کی بحالی ممکن ہے۔

TOPPOPULARRECENT