Friday , November 24 2017
Home / اداریہ / ترکی اور قطر دفاعی تعلقات

ترکی اور قطر دفاعی تعلقات

تیری نظروں سے محبت کو غم دل سمجھوں
غم سے راحت مجھے حاصل کبھی ایسی تو نہ تھی
ترکی اور قطر دفاعی تعلقات
ترکی اور قطر کے درمیان تعلقات کو خلیج کے چار ملکوں نے جس تناظر میں دیکھنا شروع کیا ہے آیا اس سے خطہ میں ایک نئے گروپ کی تشکیل کے امکانات کا اشارہ ہے ۔ صدر ترکی رجب طیب اردعان اور وزیردفاع ترکی فکری رسک نے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرلینے والے چار ممالک کی اس اپیل کو مسترد کردیا کہ ترکی کے فوجی ٹھکانوں کو قطر سے برخاست کردیا جائے ۔ صدر رجب طیب اردغان نے خلیجی ملکوں کے اس طرح کے مطالبہ کو بین الاقوامی قوانین کے مغائر قرار دیا ہے ۔ اگرچیکہ ترکی نے قطر کے ساتھ عرب ممالک کی کشیدگی کو کم کرنے ثالثی کا رول ادا کرنے کی بھی کوشش کی ہے ۔ سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر کو دہشت گردوں کی حمایت اور ایران سے دوستی کے الزام کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلیئے ہیں ۔ قطر کے ساتھ ترکی کے تعلقات کو توڑنے کا جہاں تک سوال ہے یہ خلیج عرب میں ترکی کے اثر انداز ہونے کو نا پسند کرنے کا بھی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ اردغان نے ان چار عرب ممالک سے یہی سوال کیا ہے کہ آیا کسی ملک کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ کرنے کے لیے ترکی کو ان ملکوں سے اجازت لینی چاہئے ؟ ترکی اور قطر کے درمیان دفاعی معاہدہ 2014 میں ہوا تھا جس کے تحت ترکی نے 23 زائد فوجی کمک روانہ کیے اور پانچ مسلح گاڑیاں بھی روانہ کی ہیں ۔ قطر کے داخلی اور خارجی امور کے بارے میں شبہات ظاہر کرتے ہوئے چار خلیجی ملکوں نے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ قطر اپنے خفیہ ایجنڈہ پر عمل کررہا ہے ۔ سعودی عرب کے سفارت کار ان حقائق کو واضح کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ قطر اس خطہ کے ممالک سے کچھ پوشیدہ رکھ رہا ہے ۔ عرب ممالک میں بہار عرب کی تحریکوں کے آغاز کے ساتھ ہی بعض اہم ملکوں میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ ان کے ملکوں میں بھی اگر عرب بہار شروع ہوتا ہے تو حکمرانوں کا تخت خطرہ میں پڑجائے گا ۔ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کا جو حشر کیا گیا ہے اس تناظر میں آئندہ دیگر عرب ممالک کے حکمرانوں کے مستقبل کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس لیے بعض خلیجی ممالک کو اپنی حکمرانوں کی بقا کی فکر لاحق ہوچکی ہے ۔ قطر اور ترکی سے تعلقات کو جس تناظر میں دیکھا جارہا ہے ۔ اس بارے میں بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی تنازعہ حل کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ خطہ کے لیے بہتر قدم ہوگا ۔ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک میں قطر کے بارے میں تبدیل شدہ رائے کو طوالت دی جائے تو اس سے کشیدگی مزید بڑھے گی ۔ قطر کے بارے میں ان ملکوں کا احساس ہے کہ اس نے ایران ، حماس ، حزب اللہ ، اسرائیل کے بارے میں جو بیانات دئیے ہیں اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا امیر قطر کے تعلق سے بیان ، عراق میں قطر اور ایران کے مبینہ اجلاس نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کو ناراض کرنے کا باعث ہوا ۔ خلیجی تعاون کونسل کے ارکان کو ہی باہمی طور پر قطر کے بارے میں بھی پیدا شدہ اختلافات کو دور کرنے کی مساعی کرنی چاہئے ۔ کویت اور اومان چونکہ خلیجی تعاون کونسل میں غیر جانبدارانہ موقف رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ ان دونوں ملکوں نے 2014 میں بھی جی سی سی کے رکن ممالک میں سفارتی کشیدگی کو ختم کرانے میں مصالحانہ کوشش کی تھی ۔ ترکی کو اس مرتبہ سرگرم دیکھا جارہا ہے ۔ ترکی ، کویت اور اومان مل کر اس کشیدگی کو دور کرنے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں ۔ مگر اس بارے میں کویت کی مصالحت کی کوششوں کا کوئی احترام نہ کیا جانا بھی غور طلب ہے ۔ قطر کو بھی اپنے خفیہ ایجنڈہ کے بارے میں جن ملکوں کو شبہات ہیں انہیں دور کرنے میں پہل کرنے کی ضرورت تھی مگر اتنے وقت گذرنے کے بعد بھی قطر اپنی صفائی میں ٹھوس قدم نہیں اٹھائے ۔ اگرچیکہ اس نے ابتدائی طور پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کے الزام کو مسترد کردیا ہے ۔ عرب ملکوں کی سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی پالیسی کو اسے اس خطہ میں یکا و تنہا کرنے کی سازش قرار دیا تھا ۔ بہر حال ترکی اور قطر کے درمیان دفاعی تعلقات کو روکنے کیلئے کی جارہی کوششوں کو ختم کر کے ثالثی اور مصالحانہ مساعی کو کامیاب بنانے کی ضرورت ہے ۔ پورے خطہ بلکہ عالم عرب کیلئے ضروری ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو ختم کر کے اتحاد کو مضبوط بنائیں ۔

TOPPOPULARRECENT