Monday , June 18 2018
Home / Top Stories / ترکی طیاروں کا شام کی سرکاری افواج پرحملہ، 36ہلاک

ترکی طیاروں کا شام کی سرکاری افواج پرحملہ، 36ہلاک

شام میں باغیوں کے زیرکنٹرول علاقہ پر فوج کا قبضہ
بیروت، 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے جنگی طیاروں نے شام کے شمال مغربی عفرین علاقے میں شامی حکومت کی حمایت یافتہ افواجپر حملہ کیا جس میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہو گئے ۔سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ یہ حملہ کل کیا گیا۔کردش وائی پی جی ملیشیا کی حمایت میں شامی فورسز گزشتہ ہفتے عفرین علاقے میں داخل ہوئی تھی۔ ترکی اور اس کے حامی شامی باغی جنگجوؤں نے جنوری سے ہی اس علاقے میں مہم چلا رکھی ہے ۔آبزرویٹری کے مطابق ترکی کے فضائی حملے نے کافر جینا کیمپ کو اپنا نشانہ بنایا۔ ترکی طیاروں نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران تیسری بار عفرین میں حکومت کی حمایت یافتہفوج کو نشانہ بنایا۔ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ ان کے ملک کی فوج نے دہشت گردوں سے راجو شہر کو آزاد کرا لیا ہے ۔آبزرویٹری نے کہا کہ ترکی فوج کا عفرین شہر کے قریب 25 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع راجو شہر کے تقریبا 70 فیصد حصے پر کنٹرول ہو چکا ہے ۔ترکی وائی پی جی کو کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) کی توسیع کے طور پر دیکھتا ہے ۔ یہ تنظیم ترکی میں تین دہائی تک دہشت گردی کی جنگ میں شامل رہی ہے اور امریکہ، یوروپی یونین اور ترکی نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے ۔ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جنگ میں وائی پی جی امریکہ کا اہم اتحادی رہا ہے ۔

دریں اثناء شام کی فوج اور اس کے حلیف جنگجوؤں نے دارالحکومت دمشق کے قریب باغیوں کے زیر کنٹرول علاقہ میں متعدد 8 قصبوں اور دیہاتوں پر قبضہ کرلیا ۔ مشرقی غوطہ میں بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد یہ سب سے بڑی پیشقدمی تھی ۔ شام کے مرکزی فوجی میڈیا نے کہاکہ سرکاری فورسیس نے گذشتہ روز شروع کردہ اس پیشقدمی کے دوران مشرقی غوطہ کے کم سے کم چھ دیہاتوں اور قصبوں پر قبضہ کیا ہے ۔ سرکاری ٹیلی ویژن چینل الاخباریہ کے ایک رپورٹر نے خبر دی ہے کہ شامی سپاہیوں کی پیشقدمی کے دوران بڑے پیمانے پر فضائی حملے اور شلباری جاری تھی ۔ دوسری طرف باغیوں کے گروپ نے کہا ہے کہ اتوار سے جوابی حملے شروع کئے گئے ہیں ۔ لندن میں واقع شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے دعویٰ کیا ہے کہ باغیوں نے سرکاری فورسیس سے سخت مزاحمت کی ہے اور کم سے کم ایک ٹاؤن پر قبضہ کرلیا اور لڑائی جاری ہے ۔ چار لاکھ نفوس کی آبادی پر مشتمل مشرقی غوطہ کئی ماہ سے ہوئے محاصرہ اور روزمرہ کی بمباری سے گذر رہا ہے جس کے نتیجہ میں صرف گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ہی کم سے کم 600افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT