Thursday , November 23 2017
Home / اداریہ / ترکی میں بغاوت کی کوشش

ترکی میں بغاوت کی کوشش

پھرترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دل گم دشتہ مگر یاد آیا
ترکی میں بغاوت کی کوشش
ایشیا اور یوروپ میں مساوی اہمیت رکھنے والے ملک ترکی میں بغاوت کی کوشش ناکام کردی گئی ۔ بغاوت کی یہ کوشش انتہائی غیر متوقع اور حیرت انگیز کہی جاسکتی ہے ۔ ترکی ایک ایسا ملک ہے جہاں ماضی میں بغاوتیں ہوتی رہی ہیں لیکن 1997 کے بعد سے یہاں حالات میں کافی تبدیلیاں آئیں۔ جب سے رجب طیب اردغان نے ترکی میں اقتدار سنبھالا ہے انہوں نے ملک میں معاشی بہتری کیلئے بہت کچھ کیا ہے ۔ ان کے اقدامات کے نتائج بھی برآمد ہونے شروع ہوگئے ہیں ۔ ایسے میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کی نظر میں بھی ترکی میں بغاوت کے اندیشے نہ ہونے کے برابر تھے ۔ پھر اچانک جمعہ کو وہاں فوج کے ایک ناراض گروپ نے بغاوت کی کوشش کردی ۔ ابتداء میں اس گروپ کو معمولی کامیابیاں بھی ملی تھیں لیکن مرد آہن سمجھے جانے والے طیب اردغان نے اس کوشش کو اپنے تدبر اور عوام کی زبردست تائید کے ذریعہ ناکام بنادیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ ترکی کے ناراض فوجی عناصر نے عاقبت نا اندیشی کے ذریعہ یہ کوشش کی تھی ۔ انہوں نے اس بغاوت کی کوئی واضح منصوبہ بندی بھی نہیں کی اور اپنی مایوسی کی حالت میں انہوں نے بغاوت کی کوشش کرڈالی ۔ ترکی کی تاریخ واضح ہے کہ یہاں بغاوتیں ہوتی رہی ہیں لیکن حالیہ عرصہ میں یہ اندیشے کم سے کم ہوتے گئے تھے ۔ عوام حکومت سے اور اپنے صدر طیب اردغان سے والہانہ محبت کرنے لگے ہیں ایسے میں یہ کوشش ناکام ہونی ہی تھی ۔ حالانکہ بغاوت کی کوشش ناکام ہوگئی ہے لیکن اس کوشش کے اثرات دور رس اہمیت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ ترکی اپنے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے ۔ اس کے عرب ممالک سے تعلقات ‘ ایشیا سے قربت اور مغربی ممالک سے قربت اسے اہمیت عطا کرتی ہے ۔ ترکی سے کئی ممالک کے مفادات وابستہ ہیں۔ ترکی کو کافی کوششوں کے بعد ناٹو میں شامل کیا گیا ہے اور یوروپی ممالک بھی ترکی سے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور ان کے مفادات ترکی سے وابستہ ہیں۔ جن عناصر نے بغاوت کی کوشش کی تھی وہ ترکی کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ انہوں نے ترکی کے استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے جس کے اثرات خود ترکی عوام کے مستقبل پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
بغاوت کے ابتدائی مراحل میں ہی جو اطلاعات آنے لگی تھیں ان سے پتہ چلتا تھا کہ یہ بغاوت شائد ہی کامیاب ہو ۔ ترکی کے عوام نے جس طرح سے اپنے صدر طیب اردغان کی تائید میں بغاوت کو ناکام بنانے کیلئے کمر کس لی تھی اس کیلئے ترکی کے عوام قابل مبارکباد ہیں۔ عوام بلا لحاظ عمر و جنس سڑکوں پر اتر آئے ۔ کئی خواتین بھی سڑکوں پر اردغان کی تائید میں اتر آئیں۔ عوام نے ٹینکوں کا مقابلہ کیا ۔ ٹینکوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے وہ ان کے سامنے لیٹ گئے ۔ بغاوت کرنے والے فوجیوں کو انہوں نے نہ صرف گرفتار کیا بلکہ انہیں زد و کوب بھی کیا ۔ انہیں زنجیروں سے باندھا گیا اور ان کی ہر کوشش کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا ۔ یہ در اصل رجب طیب اردغان کی عوامی مقبولیت ہے ۔ حالیہ عرصہ میں اردغان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اردغان پر الزام ہے کہ وہ ترکی کو سکیولر ملک کی بجائے اسلام کی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام نے ان کے خلاف بغاوت کو ناکام بناتے ہوئے اپنی ترجیحات کو واضح کردیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ عناصر اردغان کی ان کوششوں سے ناراض بھی ہوں لیکن عوام کی اکثریت نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنے منتخبہ صدر کے خلاف کوئی حرکت برداشت کرنے تیار نہیں ہیں۔ عوام کی یہ تائید کسی بھی صدر کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور شائد اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اردغان بغاوت کی کوشش کے اندرون چند گھنٹے اپنے عوام کے درمیان آگئے اور ان سے مشکل ترین حالات میں حکومت کی تائید کرنے کی خواہش کرتے رہے ۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے اور عالم اسلام کیلئے ترک صدر حالیہ عرصہ میں جس طرح سے آواز بلند کرنے لگے ہیں وہ شائد بیشتر عناصر کی ناگواری کا سبب ہے ۔ برما کے نہتے مسلمان ہوں یا پھر دوسرے مسلم ممالک ہوں ان کیلئے اردغان کا وجود دھیرے دھیرے نعمت غیر مترقبہ ہوتا جا رہا تھا ۔ ان کی اسی مقبولیت کو بھی ان کے مخالفین ہضم نہیں کرپائے اور انہوں نے فوج میں ایک گروپ کو اپنا ہمنوا بناکر بغاوت کی کوشش کی جو ناکام ہوگئی ۔ ترکی ‘ ترک عوام اور عالم اسلام کیلئے یہ بغاوت کی ناکامی بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ ایسے عناصر کا قلع قمع کرنے کی ضرورت ہے جو ترکی کے عوام کیلئے بھی مسائل پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کی یہ کوششیں عالم اسلام کیلئے بھی مضر ہیں۔ ایسے عناصر کا پتہ چلا کر انہیں قرار واقعی سزائیں دینا دنیا بھر کے مسلمانوں کی خواہش کی تکمیل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT