Saturday , June 23 2018
Home / فیچر نیوز / ترکی میں خواتین بااختیار

ترکی میں خواتین بااختیار

جناب زاہد علی خاں کی ملائیشیا میں متعین سفیرِ ترکی سے گفت وشنید

محمد ریاض احمد
ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے مشرقی ایشیاء کے مسلم ملک ملائیشیا کا 6 روزہ دورہ کیا ۔ 14 فبروری تا 20 فبروری کئے گئے اس دورہ میں ان سے نہ صرف ملائیشیا میں مقیم ہندوستانی بالخصوص حیدرآبادی بلکہ ترکی اور دوسرے مسلم ملکوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیتوں و اسکالرس ، ماہرین تعلیم اور طلباء و طالبات نے ملاقات کی اور عالمی صورتحال ، اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنجس ، مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی ترقی جیسے موضوعات پر سیرحاصل گفتگو رہی ۔ انجمن اردو ملائیشیا ، کوالالمپور اور انجمن طلبائے قدیم علیگڈھ مسلم یونیورسٹی نے انھیں خصوصی طورپر مدعو کیا تھا ۔ ایڈیٹر سیاست کو دورۂ ملائیشیا کیلئے مدعو کرنے کامقصد مسلمانوں کی تعلیمی معاشی ترقی ، معاشرہ میں پائے جانے والے بیجا رسوم و رواج کے خاتمہ ، فرقہ پرستی کے انسداد ، قومی یکجہتی ، اتحاد و سالمیت کے ساتھ ساتھ فروغ اردو کیلئے روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک کیلئے انھیں خراج تحسین پیش کرنا تھا ۔ ملائیشیا میں مقیم ہندوستانی باشندے، ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی ملی و قومی خدمات سے متاثر ہیں اور سیاست و ایڈیٹر سیاست کی خدمات کو ہندوستان کیلئے ہی نہیں بلکہ برصغیر کیلئے مثالی قرار دیتے ہیں اور روزنامہ سیاست کو ہندوستان میں اردو میڈیا کا قائد تسلیم کرتے ہیں ۔ ان شخصیتوں کے خیال میں جناب زاہد علی خاںنے صحافت کامسلمانوں کی زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی کو یقینی بنانے کیلئے بہتر انداز میں استعمال کیا ۔ 16 فبروری کو بزم سخن کی محفل سجائی گئی جس میں جناب عارف اعظم صدر انجمن اردو ملائیشیا ، پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز علی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا ، ان کی اہلیہ محترمہ پروفیسر ڈاکٹر زینت کوثر ،ملائیشیا کے ممتاز صنعت کار جناب محمد صدیق اور دیگر نے ایڈیٹر سیاست کا والہانہ خیرمقدم کیا ۔ جناب زاہد علی خاں کی ملائیشیا میں موجودگی سے استفادہ کرتے ہوئے اردو کے نوجوان شاعر روئیس ممتاز نے جو مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی اردو تنظیم مجلس فروغ اردو کے نائب صدر ہیں مشاعرہ کا اہتمام بھی کیا ۔ آپ کو بتادیں کہ ملائیشیا اور ہندوستان کے قریبی دوستانہ تعلقات ہیں ۔ دونوں ملکوں کو بالترتیب 1957 ء اور 1947 ء میں برطانوی سامراج سے آزادی نصیب ہوئی ۔
جناب زاہد علی خاں کے دورۂ ملائیشیا میں دو پروگرامس بڑی اہمیت کے حامل اور یادگار رہے ایک تو انھوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا (IIUM) کا دورہ کرتے ہوئے طلبہ ، تدریسی عملہ کے ارکان ، اسکالرس اور ماہرین تعلیم سے خطاب کیا ۔ دوسرے ان کی ملاقات ملائیشیا میں متعین ترکی کی سفیر محترمہ ڈاکٹر مروۃ قاوقچی سے ہوئی ۔ مروۃ قاوقچی نہ صرف ترکی اور عالم اسلام بلکہ ساری دنیا میں حجاب کی وکالت اور حقوق نسواں کے تحفظ سے تعلق جدوجہد کیلئے جانی جاتی ہیں، وہ مسلم خواتین کے حقوق کی جہدکار ، مشہور ومعروف کالم نگار اور ناانصافی اور حق تلفی کے خلاف آہنی دیوار کی طرح ڈٹ جانے والی خاتون ہیں جناب زاہد علی خاں اور ترکی کی سفیر متعینہ ملائیشیا ڈاکٹر مروۃ کی ملاقات اور گفت و شنید کے موقع پر پروفیسر ممتاز علی ، ان کی اہلیہ پروفیسر زینت کوثر ، ڈاکٹر مروۃ کے والدپروفیسر ڈاکٹر یوسف ضیاء قاوقجی بھی موجود تھے ۔
سفیر ترکی ہندوستان میں روزنامہ سیاست اور ایڈیٹر سیاست کی خدمات سے کافی متاثر ہوئیں اور بتایاکہ انشاء اﷲ وہ حیدرآباد ضرور تشریف لائیں گی ۔ جناب زاہد علی خاں سے بات چیت کے دوران ڈاکٹر مروۃ نے ترکی کی سماجی و معاشی ترقی ، ماضی کی حکومتوں کی پالیسیوں ، موجودہ صدر رجیب طیب اردغان کی مثالی قیات میں مختلف شعبوں میں ترکی کی ترقی ، عالم اسلام کو درپیش چیلنجز ، ان چیلنجس سے نمٹنے اور اُمت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کیلئے صدر رجب طیب اردغان اور ترکی کے کردار سے تفصیلی طورپر واقف کروایا ۔ ایڈیٹر سیاست کے اس سوال پر کہ آپ موجودہ صدر رجب طیب اردغان کے اقتدار میں آنے کے بعد ترکی کی سماجی اقتصادی ترقی کو کیسے دیکھتی ہیں اور صدر رجب طیب اردغان اور ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی میں کیا فرق محسوس کرتی ہیں ؟
ڈاکٹر مروۃ قاوقجی نے بتایاکہ 1923-2002 ء کے درمیان وقفہ وقفہ سے بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئیں لیکن اس مدت کے دوران جو حکومتیں آئی ہیں اُن کی کارکردگی میں کافی تفاوت پایا گیا ۔ خاص طورپر ملک میں عوام کی زندگیوں میں کئی نشیب و فراز آئے ۔ پچھلے دس پندرہ برسوں میں ترکی میں جو انتظامی اصلاحات کئے گئے ان اصلاحات میں بہ یک وقت ملک کی معاشی ترقی ، سیاسی فراخدلی اور معاصر سماجی جمہوریت کے استحکام کے عمل کامشاہدہ کرنا بڑا دلچسپ رہا ۔ آج کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کی پہلی ترجیح ملک کی معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا ہے نہ کہ سماجی و سیاسی ترقی پر ۔ یہاں ایک بات کہی جاسکتی ہے کہ ماضی میں عوام اور عوام دوست سیاستداں جن تبدیلیوں کے خواہاں تھے وہ تبدیلیاں یقینا بعد کے آنے والی حکومت نے لائی ہیں ۔ ویسے بھی تبدیلیاں دوسروں میں بھی تبدیلیاں لاتی ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ترکی میں اقتصادی اور سیاسی عزائم نے اصلاحات کیلئے ایک زرخیز زمین فراہم کی ۔ سال 2002 ء تک دفترِ صدر اور وزیراعظم کے درمیان جو اختلافات پائے جاتے تھے اور جنھیں دونوں کے درمیان ایک سیاسی بحران سے تعبیر کیا جاتا تھا اور اقتصادی جمود نے افراط زر کی شرح کو خطرناک حد تک بڑھادیا تھا وہ 2 ہندسی کے حدود تک پہنچ گیا تھا ۔ ترکی میں سیاسی نظام ایک عجیب و غریب صورتحال کا سامنا کررہا تھا ۔ حکمراں اتحاد ملک کو درپیش چیلنجس سے نمٹنے اور عوام کی ترقی و خوشحالی کویقینی بنانے کی ذمہ داری نبھانے سے قاصر تھا ۔ دراصل یہ مخلوط اتحاد ملک اور عوام کو ترقی کی سمت گامزن کرنے کا اہل ہی نہیں تھا حالانکہ یہ کئی جماعتوں کا ایک اتحاد تھا ۔ ان حالات میں رجب طیب اردغان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی ( اے کے پی ) نے بڑی تندہی کے ساتھ اقتصادی ترجیحات کو اہمیت دینی شروع کی اور یہ مربوط و پائیدار ترقی کیلئے بہت ضروری تھا ۔ اس مرحلہ پر اصلاحات کا ماحول پیدا کرنا یوروپی یونین میں ترکی کی شمولیت کیلئے ضروری ہوگیا۔ ترکی اور یوروپی یونین کے درمیان طویل عرصہ سے تعلقات میں اتھل پتھل کے باوجود برسلز نے جو شرائط مقرر کر رکھی تھیں اسے حکومت نے عوام کی بہبود کیلئے کامیابی سے استعمال کیا ۔ حکومت نے یوروپی یونین کی شرائط کو فراخدلانہ معاشی اصلاحات کو وسعت دینے کیلئے بڑی کامیابی سے استعمال کیا ۔ حکومت کے ان اقدامات سے عوام اور تاجر طبقہ بھی خوش ہوا ۔ ملک کے چھوٹے متوسط اور بڑے تمام کے تمام تاجرین و صنعت کاروں نے حکومت کی معاشی اصلاحات کی تائید و حمایت کی۔ اس کے علاوہ ماضی کی سیکولر حکومتوں کے حامی تاجرین و صنعت کار بھی اردغان کے معاشی اصلاحات سے متاثر ہوئے اور مثبت رائے کا اظہار کیا۔ اردغان کی حکومت نے عوام اور تاجرین کو زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی پالیسیوں اور فراخدلانہ معاشی اصلاحات کے ذریعہ راحت عطا کی اور افراتفری و غیرمتوقع حالات کے مقابل استحکام بخشا ۔ )

 

اس سوال پر کہ آیا صدر رجب طیب اردغان نے ترکی میں خواتین کی ترقی کیلئے اہم تبدیلیاں لائی ہیں ؟ اور آیا اُن کی لائی گئیں تبدیلیاں دوسرے مسلم ملکوں کیلئے ایک اعلیٰ نمونہ ہے ؟

ڈاکٹر مروۃ قاوقجی نے جواب دیا کہ صدر رجب طیب اردغان کی حکومت نے حقوق شہریت کے ذریعہ خواتین کو ہرقسم کی آزادی دے رکھی ہے لیکن ترکی میں فراہم کی گئی آزادی حقوق نسواں ویسی آزادی نہیں ہے جس طرح مغربی ملکوں میں خواتین کو دیئے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ حکومت نے خواتین کو جدیدیت کے ایک بنیادی آلہ یا عنصر کی حیثیت دی ہے ۔ صدر رجب طیب اردغان کی پالیسیوں نے خواتین کی آواز کو مضبوط بنایا ہے ۔ سیاسی شعبہ میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کیا ہے۔ اعلیٰ فیصلہ سازی حلقوں اور ملازمتوں میں خواتین کی غیرمعمولی تعداد سے اس کا برملا اظہار ہوتا ہے ۔
ملک میں خواتین دوست ماحول پیدا کیا گیا۔ نئے والدین کو بااُجرت زچگی رخصت کانظام متعارف کروایا ۔ خواتین سے چھیڑ چھاڑ سے انھیں ہراسانی اور گھریلو تشدد سے بچانے کیلئے سخت سزاؤں کا اعلان کیا۔
ملائیشیا میں بحیثیت سفیر ترکی ان کے مقاصد اور ویژن کے بارے میں سوال پر ڈاکٹر مروۃ قاوقچی نے بتایا کہ ان کا اولین مقصد اقتصادی سماجی و تہذیبی اور تعلیمی شعبوں میں ترکی اور ملائیشیا کے تعلقات کو مزید مضبوط و مستحکم بنانا ہے ۔یہ دونوں ہی مشترکہ اسلامی تاریخ کے حامل ہیں ۔ ان کے مشترکہ اقدار ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ رجب طیب اردغان کی حکومت نے ڈاکٹر مروۃ کو ترکی کااور عائشہ ہلال ساپان کوئے ٹک کو کویت میں ترکی کی سفیر متعین کیا ہے اور دونوں حجاب کااہتمام کرتی ہیں جس سے ترکی میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے اقدامات کئے جانے کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ ان دوباحجاب سفیروں سے دنیا بھر میں خواتین کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس تعلق سے سوال پر ڈاکٹر مروۃ کا کہنا تھا کہ خواتین بالخصوص باحجاب خواتین کو دوسرے ملکوں میں اپنا سفیر مقرر کیا جانا خواتین کے شہری حقوق ، جمہوری ترقی اور سفارت کاری کے اداروں میں اصلاحات کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا خواتین کو تعلیم و پیشہ وارانہ ترقی اور معاشی خودمکتفی حاصل نہیں تھی خواتین کے حُسن کو اہمیت دی جاتی تھی ان کی صلاحیتوں کو نہیں لیکن آج ترکی میں خواتین کے ساتھ نہ صرف مساویانہ سلوک کیا جاتا ہے بلکہ میرٹ کی بنیاد پر انھیں مواقع فراہم کئے جاتے ہیں ۔

اُمت مسلمہ کے اتحاد اور تباہی و بربادی سے انسانیت کے تحفظ میں ترکی کے کردار سے متعلق سوال پر ڈاکٹر مرودہ نے کہا کہ جہاں تک ساری سماجی اور اقتصادی ترقی کا سوال ہے صدر رجب طیب اردغان کی قیادت میں حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی بہ نسبت بہت اقدامات کئے اور بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ۔ انھوں نے انسانیت کے تحفظ کے حوالے سے بتایا کہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے بحران پر ترکی نے آواز اٹھائی ۔ ترکی نے صرف زبانی ہمدردی نہیں کی بلکہ عملی اقدامات کئے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ دنیا 5بڑی طاقتوں المعروف (اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل ) سے کہیں زیادہ بڑی اور اہمیت کی حامل ہے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ فی الوقت ساری مسلم دنیا میں صدر رجب طیب اردغان کی اہمیت اور مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے وہ مظلوموں ، کمزوروں کی حمایت میں بلند ہونے والی عالمی آواز بن گئے ہیں۔ بات چیت کے دوران ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے ڈاکٹر مروۃ کو روزنامہ سیاست کی جانب سے انجام دیئے جانے والے فلاحی خدمات سے واقف کروایا اور بتایا کہ سیاست لاوارث مسلم نعشوںکی تجہیز و تکفین کا انتظام کرتا ہے ، اسکولس و کالجس کے طلبہ کو نہ صرف اسکالرشپ فراہم کرتا ہے بلکہ سرکاری اسکالرشپس کے حصول میں اُن کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ سیاست کی جانب سے طلبہ کی شخصیت سازی بھی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی پر عبور ، کمپیوٹر کے مختلف کورسیس بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔ پولیس اور فوج میں مسلم نوجوانوں کی بھرتی کو یقینی بنانے کے لئے تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں آفات سماوی اور دوسرے واقعات کے متاثرین کی مالی و اخلاقی مدد بھی سیاست کی سرگرمیوں میں شامل ہے۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ ملائیشیا میں ترک سفیر مقرر کئے جانے سے قبل ڈاکٹر مروۃ Uskudar University میں پوسٹ کلونیل اسٹیڈیز ریسرچ سنٹر PAMR کی بانی ڈائرکٹر تھیں۔ انھوں نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ، مسلم دنیا کے لئے امریکی کانگریس کی مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ انھیں 2004 ء میں عالمی مذاہبی پارلیمنٹ (بارسلونا) اور برطانوی دارالعوام سے خطاب کا بھی موقع ملا ۔ ہاروڈ ، یلے Yale، برلن ، ہیمبرگ ، ہانوور ، ڈویژ برگ اور کیمبرج یونیورسٹیز میں بھی انھوں نے بے شمار لیکچرس دیئے اور حجاب کی عظمت و اہمیت کو واضح کیا ۔
آپ کو بتادیں کہ مروۃ کے والد محترم حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ممتاز اسلامک اسکالر ڈاکٹر حمیداﷲؒ کے شاگرد ہیں۔ ڈاکٹر حمیداﷲ سقوط حیدرآباد کے وقت حیدرآباد دکن سے یوروپ روانہ ہوئے اور آخری سانس تک کسی ملک کی شہریت حاصل نہیں کی ۔ انھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر عرصہ پیرس میںگذارا ۔ ڈاکٹر حمیداﷲ کی خدمت ان کے انتقال پر غسل دینے اور نماز جنازہ کی امامت کابھی پروفیسر ضیاء قاوقجی کو اعزاز حاصل رہا ۔

 

مروۃ قاوقجی باحجاب سفیر
وہ مسلم خواتین کے حجاب دشمنوں کی دشمن ہیں لیکن اپنے دشمنوں پر وہ کسی مہلک ہتھیار سے قابو نہیں پاتی بلکہ اپنی اولولعزمی ، حوصلہ مندی ، دانشمندی ، وسیع الذہنی ، وسیع القلبی اور علمی دلائل کے ذیعہ ان کی رائے بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ انھیں بڑی کامیابی سے یہ قائل کرواتی ہیں کہ پردہ یا حجاب اور ہیڈ اسکارف خواتین کی غلامی کی علامت یا حقوق نسواں کی خلاف ورزی نہیں بلکہ حجاب خواتین کی عزت و حرمت کی ایک ڈھال ہے ۔ انھیں معاشرہ میں ایک مہذب و منفرد اعلیٰ مقام عطا کرنے والا لباس ہے ۔ شہوت پسند اور نادیدہ عناصر کی بدنظری سے محفوظ رکھنے والا لباسی ہتھیار ہے اور حجاب جہاں خواتین کو بے حیا مردوں کی بدنظری سے محفوظ رکھتا ہے ان کی شخصیت میں وقار پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے وہیں انھیں دھوپ کی تمازت ، ماحول میں پائی جانے والی آلودگی ، صحت بالخصوص امراض جلد کا باعث بننے والے جراثیم سے محفوظ بھی رکھتا ہے ۔ اس باحوصلہ خاتون کو اگرچہ ایک ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت بجالانے کی اُمید تھی لیکن میڈیکل کالج میں داخلہ ملنے کے باوجود وہ صرف اُس بنیاد پر اپنی ڈاکٹری کا کورس مکمل نہ کرسکی کیونکہ کالج نے ان کے اہتمام حجاب پر اعتراض کیا تھا اور ان سے صاف کہدیا گیا تھا کہ وہ ڈاکٹری کورس یا پھر حجاب دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔انھوں نے بناء کسی جھجھک کے حجاب کے اہتمام کو فوقیت دی اور ڈاکٹر بننے سے متعلق اپنی خواہش کو حجاب پر اعتراض کرنے والوں کے منہ پر دے مارا ۔ اس خاتون کو حجاب کی خاطر کئی ایک صبرآزما لمحات اور آزارسے گذرنا پڑا لیکن اﷲ عزوجل نے لمحہ لمحہ ، قدم قدم پر انھیں کامیابی و کامرانی اور ذہنی و قلبی سکون عطا فرمایا۔ قارئین ہم بات کررہے ہیں ملائیشیا میں متعین سفیر ترکی پروفیسر ڈاکٹر مروۃ قاوقجی کی جو 19 اگسٹ 1968 ء کو انقرہ میں اسلام پسند اور اعلیٰ تعلیمیافتہ والدین پروفیسر ڈاکٹر یوسف ضیا قاوقجی اور جی گلہان قاوقجی کے گھر پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا فقہ ، تاریخ اسلام اور اسلامی تہذیب وثقافت کے ممتاز اسکالرس میں شمار ہوتا ہے ۔ مروۃ کے بارے میں آپ کو بتادیں کہ میڈیکل اسکول آف انقرہ یونیورسٹی میں انھیں داخلہ مل چکا تھا لیکن حجاب کے باعث انھیں طبی تعلیم جاری رکھنے سے روکدیا گیا اور وہیں سے مسلم خواتین کے حقوق اور حجاب سے متعلق مروۃ کی جدوجہد کا آغاز ہوگیا ۔ مروۃ نے طبی تعلیم سے حجاب کے باعث روک دیئے جانے پر خاموشی اختیار کی اور نہ ہی اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کیا اور تو اور اپنے حق تعلیم کو قربان کرنے کی کوشش کی بلکہ حجاب میں ہی انھوں نے امریکی تعلیمی اداروں کا رُخ کیا اور یونیورسٹی آف ٹیکساس ڈلاس سے سافٹ ویر انجینئرنگ میں بی ایس کیا ۔ ہاروڈ یونیورسٹی سے MPA اور ہاروڈ یونیورسٹی سے ہی پولیٹکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کی ۔ امریکہ میں ان کے حجاب پر کسی نے اعتراض نہیں کیا اور جب کبھی کسی نے اعتراض کیا مروۃ نے اُسے ایسا مدلل جواب دیا کہ معترض حجاب کی عظمت ، اُس کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے۔
آج اگر ترکی کی پارلیمنٹ میں باحجاب خاتون ارکان نظر آرہی ہیں تو اس کاکریڈیٹ مروۃ قاوقجی کو ہی جاتا ہے ۔ 18 اپریل 1999 ء کو استنبول سے بحیثیت رکن پارلیمنٹ ان کا انتخاب عمل میں آیا ۔ اس وقت عہدہ صدارت پر سلیمان ڈیمرل فائز تھے ۔ سیکولر پسندوں کا دور دورہ تھا اسلام پسندوں کو کچل کر رکھدیا گیا تھا ۔ مروۃ حجاب میں پارلیمنٹ پہنچی اور جب اُن کے حلف لینے کی باری آئی تب انھیں یہ کہہ کر حلف لینے کی اجازت نہیں دی گئی کہ انھوں نے ہیڈاسکارف باندھ رکھا ہے ۔ لیکن مروۃ نے حجاب سے متعلق حکومت کے سخت قانون کو تسلیم کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ حجاب مسلم خاتون کی مذہبی علامت ہے اور ہر خاتون کو اپنی پسند کا لباس زیب تن کرنے کی آزادی ہے ۔ اس لئے وہ حجاب ترک نہیں کرسکتی ۔ انھیں حجاب کی پرواہ ہے ،پارلیمانی نشست کی نہیں۔ مروۃ کے اس موقف پر نہ صرف ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت بلکہ ترکی کی شہریت بھی منسوخ کردی گئی ان پر امریکہ اور ترکی کی دوہری شہریت کاالزام عائد کیا گیا ۔ مروۃ نے اپنا مقدمہ یوروپی یونین کی عدالت حقوق انسانی میں پہنچایا جس نے ترکی پارلیمنٹ کے فیصلہ کو حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔ مروۃ کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اﷲ نے انھیں حافظہ قرآن ہونے کااعزاز بھی عطا کیا ۔
[email protected]

 

 

 

TOPPOPULARRECENT