Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / ترکی میں روسی سفیرگولی ماردی گئی

ترکی میں روسی سفیرگولی ماردی گئی

’’ اللہ اکبر ‘ ہم حلب میں مرر ہے ہیں‘ تمہاری موت یہاں ہوگی‘‘ حملہ آور کا نعرہ

انقرہ۔ 19 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام)  ملک شام میں روس کی مداخلت پر برہم ترکی شہری نے روس کے سفیر برائے ترکی آندرے کارلوف کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک آرٹ ایکزیبیشن میں گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔ اس نے ایسے وقت جبکہ روسی سفیرمخاطب کررہے تھے ‘ ہوائی فائرنگ کی اور وہاں موجود شرکاء کو چلے جانے کا حکم دیا۔ لوگ خوف کے عالم میں دوڑنے لگے‘ اس کے ساتھ ہی حملہ آور نے روسی سفیر پر پستول سے نشانہ لگاتے ہوئے یہ نعرہ دیا کہ ’’ اللہ اکبر ‘ ہم حلب میں مررہے ہیں اور تمہاری موت یہاں ہوگی‘‘ ۔  وزارت خارجہ روس کی ترجمان ماریہ زخارووا نے اعلان کیا کہ کارلوف زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ ترکی وزارت خارجہ نے بھی ان کی موت کی ایک تحریری بیان میں توثیق کردی اور کہا کہ خاطیوں کو اپنی کارستانی کیلئے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ وزارت نے کارلوف پر حملہ کو ایک ’’ دہشت گرد تنظیم ‘‘ کی کارستانی قرار دیا۔ وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو نے اطلاع دی کہ ایک 22 سالہ پولیس عہدیدار جس کی شناخت میولوڈ مرت التنتاس کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ این ٹی وی کی خبر کے بموجب دیگر تین افراد بھی اس حملہ میں زخمی ہوگئے۔ حملہ آور کو بعدازاں پولیس نے مقام واردات پر ہی گولی ماردی۔ روزنامہ حریت کے نمائندہ ڈینس ڈیرک نے کہا کہ حملہ آور نے پہلے ہوائی فائرنگ کی تھی بعدازاں سفیر کی پیٹھ میں گولی ماردی۔ اس نے دوسری بار گولی ماردی اور بعدازاں موقع واردات سے چلاگیا۔ یہ بھی اطلاع دی گئی ہے کہ وہ پولیس کا شناختی کارڈ بتاکر مقام واردات پر پہنچا تھا۔ وہ سوٹ میں ملبوس تھا۔ اس نے چلاکر کہا تھا کہ ’’ حلب کو مت بھولو ‘‘ مبینہ طور پر اس نے چیخ کر کہا کہ ’’ جب تک ہمارے بھائی محفوظ نہیں ہیں‘ تم بھی محفوظ نہیں رہو گے ‘‘۔ ایک ڈچ ویب سائیٹ پر خبر شائع کی گئی ہے کہ حملہ آور نے کہا کہ جو بھی اس کی مخالفت میں شامل ہوگا اس کو ایک کے بعد ایک قیمت چکانی ہوگی۔ موت انہیں ہم سے الگ کردے گی۔ وزیرداخلہ ترکی نے بعدازاں موقع واردات پر کہا کہ حملہ آور نے اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا تھا۔ دریں اثناء صدر روس ولادیمیر پوٹن حملہ کی رپورٹ کا جائزہ لینے کی قصر صدارت کریملن سے خبر جاری کی گئی۔ وزارت خارجہ روس نے کہا کہ حملہ کے بارے میں ترک عہدیداروں سے ربط برقرار رکھا گیا ہے۔ وسطی انقرہ میں یہ نمائش سفارتخانے کے کلچرل سنٹر میں منعقد کی گئی تھی۔ اس کا اعلان ایک ہفتہ پہلے ہی کیا جاچکا تھا۔ ایسے عوامی جلسوں میں کارلوف کے ہمراہ خانگی گارڈ نہیں ہوتا۔ وزیرخارجہ ترکی شام کے موضوع پر وزیر خارجہ روس سرجیلاروف اور وزیرخارجہ ایران جواد ظریف سے بات چیت کیلئے ماسکو جارہے تھے۔ صدر ترکی رجب طیب اردگان نے صدر روس ولادیمیر پوٹن کو ٹیلی فون پر اس حملہ کی اطلاع دی۔ روس اور ترکی کے درمیان تعلقات میں کوئی سردمہری نہیں آئی۔ انقرہ میں دفاعی حریف اور مغربی ممالک یہی چاہتے تھے۔ صدر بین الاقوامی امور کمیٹی روسی پارلیمنٹ لیونڈ سلسکی نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ ہمارے درمیان اختلافات ہیں لیکن یہ ایک سانحہ ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT