Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / ترکی میں شادی کی تقریب پر حملہ، 51باراتی ہلاک

ترکی میں شادی کی تقریب پر حملہ، 51باراتی ہلاک

شام کی سرحد سے متصل جنوبی مغربی شہر پر حملہ کی داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

غازی عینتاب (ترکی) /21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے جنوب مشرقی شہر میں ایک شادی کی تقریب پر کی گئی بمباری سے کم از کم 50 باراتی ہلاک ہوئے ۔ شام کی سرحد سے متصل اس شہر میں خودکش بم بردار نے خود کو دھماکہ سے اڑالیا ۔ شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے جب مہمانوں کی کثیر تعداد جمع ہونے لگی تو ان کے درمیان گھس کر خودکش بم بردار نے دھماکہ کیا ۔ مقامی عہدیداروں نے بتایا کہ مشتبہ خودکش بم بردار دولت اسلامیہ یا داعش سے وابستہ تھا ۔ اس دھماکہ کے بعد شادی کی تقریب میں ماتم مچ گیا ۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے کہا کہ آئی ایس کے انتہاپسند گروپ کے یہ کارستانی ہے ۔ اس نے کل رات غازی عینتاب میں خودکش بم بردار بھیج کر دھماکہ کروایا ہے ۔

دھماکہ کا اصل نشانہ یہ شادی تقریب تھی جس میں شریک مہمانوں کی اکثریت کردش باشندوں پر مشتمل تھی ۔ خودکش بم حملہ کی یہ تازہ کارروائی ناٹو کے اہم حلیف ملک ترکی کو نشانہ بناتے ہوئے کی گئی ہے جہاں پر اس سال سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے ہیں ۔ ان دھماکوں کیلئے کردش اور اسلام پسند انتہاپسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ۔ /15 جولائی کو ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی میں مسلسل دھماکے اور خودکش حملے ہورہے ہیں ۔ اس ٹاؤن کے گورنر علی بازیلیکا نے ایک بیان میں کہا کہ حملہ میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے ۔ قبل ازیں مرنے والوں کی تعداد 30 بتائی گئی تھی ۔ دھماکہ میں دیگر 94 باراتی زخمی ہوئے ۔ تقریب میں مہمانوں کی کثیر تعداد شریک تھی ۔ صدر ترکی اردغان نے کہا کہ امریکی مقیم مبلغ فتح اللہ گولین اور ممنوعہ تنظیم کردستان ورکرس پارٹی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ فتح اللہ گولین پر الزام ہے کہ انہوں نے ترکی کی موجودہ حکومت کو بے دخل کرکے صدر رجب طیب اردغان کو معزول کرنے کی کوشش کی تھی ۔

داعش بھی ان کی حکومت کو بے دخل کرنے کوشاں ہے ۔ انہی لوگوں نے غازی عینتاب میں شادی تقریب کو نشانہ بناکر انسانی جانوں کا اتلاف کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک اور ہماری قوم کا واحد پیام یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی سازشوں اور کوششوں میں کامیاب نہیں ہونگے ۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ شادی کردشوں کے غلبہ والے مضبوط علاقہ میں ہورہی تھی ۔ دولہا اور دلہن کا تعلق اصل کردش گروپ سے تھا ۔ کردش انتہاپسندوں کے ساتھ مل کر اس گروپ نے خون ریز کارروائیاں کی تھیں ۔ موافق کردش پیپلز ، ڈیموکریٹک پارٹی نے کہا کہ اسکے ارکان بھی تقریب میں موجود تھے اور خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شریک تھی ۔ صدر ترکی نے بتایا کہ اس طرح کے حملوں کا مقصد ترکی میں مختلف گروپوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا ہے ۔ یہاں پر عربوں ، کردوں اور ترکمستانوں میں طویل مدت سے اختلافات ہیں ۔ نسلی تشدد اور مذہبی خطوط پر جھگڑے عام ہیں ۔ کئی جہادیوں کا ماننا ہے کہ کردش ہیاصل ان کے دشمن ہیں کیوں کہ کردش انتہاپسندوں نے بھی داعش کے خلاف شام میں جاری جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔ وزیراعظم ترکی بن علی یلدریم نے کہا کہ غازی عینتاب کے عوام اس جذبہ کا مظاہرہ کریں جیسا کہ 1921 ء میں کیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT