Tuesday , December 11 2018

ترکی میں محمد بن سلمان کے قریبی دوست کے بنگلہ کی تلاشی

پولیس نے بنگلہ کے علاوہ پائیں باغ میں واقع تین کنوؤں کو بھی کھنگال ڈالا
سفارت خانہ کے ڈرینج میں تیزاب کے اثرات پائے گئے
انقرہ ۔ 27 نومبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) ترک پولیس نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ جمال خشوگی کے قتل کے راز تک پہنچ کر ہی دم لے گی اور شاید اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے طورپر سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے انتہائی قریبی دوست سمجھے جانے والے کے بنگلہ کی بھی تلاشی لی گئی ۔ رپورٹس کے مطابق کرائم سین کی تحقیقات کرنے والوں نے بنگلہ کی تلاشی کے نام پر اُسے پوری طرح کھنگال ڈالا جس کیلئے کھوجی کتّوں اور ڈرونس کا بھی استعمال کیاگیا ۔ محمد بن سلمان کے دوست کے بنگلہ کے علاوہ پڑوس میں واقع ایک دیگر بنگلہ شمال مغربی صوبہ یلووا میں واقع ہیں۔ روزنامہ حریت نے یہ اطلاع دی۔ تلاشی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں بنگلوں سے متصل باغات میں واقع تین کنوؤں کو بھی کھنگالا گیا جبکہ ڈی ایچ اے خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ بنگلوں کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ غیرقانونی طورپر تعمیر کئے گئے ہیں۔ محمد بن سلمان کے قریبی دوست کا نام محمد احمد الفوزان بتایا گیا ہے جو اس بنگلہ کے مالک ہیں۔ انھوں نے 2014 ء میں اراضی خریدکر بنگلہ (وِلا ) تعمیر کیا تھا ۔ روزنامہ حریت نے بھی فورزان کو محمد بن سلمان کا قریبی اور جگری دوست قرار دیا ہے ۔ روزنامہ کی ایک ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کئے گئے ایک ویڈیو میں واضح طورپر یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ فوزان کے بنگلہ کی اندرونی دیواروں پر سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں ہیں جبکہ متصلہ بنگلہ عمری ٹورازم نامی ایک کمپنی کی ملکیت بتایا گیا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار 59 سالہ جمال خشوگی 2 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی سفارتخانہ میں داخل ہوئے تھے لیکن اُنھیں وہاں سے واپس آتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا اور بعد ازاں یہ معلوم ہوا کہ خشوگی کو سفارت خانہ کی عمارت میں ہی قتل کردیا گیا تھا لیکن استنبول پبلک پراسکیوٹر جو اس قتل کی تحقیقات کررہے ہیں نے بتایاکہ سفارت خانہ کی عمارت کی پوری طرح تلاشی کے بعد بھی خشوگی کی نعش نہیں ملی ۔ یہاں تک کہ قونصل جنرل کی رہائش گاہ اور استنبول کے ایک جنگل میں بھی نعش تلاش کرنے کی کوشش کی گئی البتہ سفارت خانہ کی عمارت کے ڈرینج میں تیزاب کے اثرات پائے گئے ۔ بعد ازاں یہ رپورٹس بھی ملیں کہ خشوگی کی نعش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اُسے تیزاب سے ضائع کردیا گیا ۔ پبلک پراسیکیوٹر نے یہ بھی کہا کہ اس قتل کے ایک مشتبہ فرد منصور عثمان نے خشوگی کے قتل سے ایک روز قبل فوزان سے فون پر بات چیت بھی کی تھی وہ فون شاید اس لئے کیا گیا ہوگا کہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ خشوگی کی نعش کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ۔ آیا اُسے چھپادیا جائے یا ضائع کردیا جائے ۔ دوسری طرف ترک عہدیداروں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ فوزان بھی اس قتل میں ملوث ہوسکتا ہے البتہ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے بارہا یہ بات کہی ہیکہ خشوگی کے قتل کا حکم کسی اعلیٰ سطح کے وزیر یاعہدیدار کی جانب سے دیا گیا ہے تاہم انھوں نے اس معاملہ میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو ذمہ دار قرار نہیں دیا۔

TOPPOPULARRECENT