Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / ترکی میں 9,000 عہدیدار بشمول فوجی جنرلس برطرف

ترکی میں 9,000 عہدیدار بشمول فوجی جنرلس برطرف

سزائے موت کی بحالی کا امکان ، امریکہ اور یوروپی یونین کا اظہار تشویش
استنبول ۔ 18 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ترکی میں بڑے پیمانے پر دھاوے آج بھی جاری رہے اور تقریباً 9,000 عہدیداروں کو برطرف کردیا گیا ۔ یہ اندیشے اُبھر رہے ہیں کہ ملک میں سزائے موت کو بحال کیا جاسکتا ہے ، جبکہ مغربی ممالک نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے ۔ اقوام متحدہ ، امریکہ اور یوروپی یونین نے بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے بارے میں خبردار کیا ہے ۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ترجمان نے سڑکوں پر سپاہیوں کے ساتھ انتقامی رویہ کی مذمت کی اور کہا کہ مشتبہ افراد کے ساتھ جنھیں حراست میں لیا گیا ہے روا رکھے گئے سلوک پر جرمنی کو تشویش ہے۔ وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہاکہ 7,500 سے زائد افراد کو اب تک حراست میں لیا گیا ہے جن میں 103 جرنلس اور ایڈمیرلس ہیں۔ وزرات داخلہ نے بتایا کہ تقریباً 9,000 افراد بشمول 8000 پولیس ملازمین کے علاوہ میونسپل گورنرس اور دیگر عہدیداروں کو برطرف کردیا گیا ہے۔ آج صبح استنبول میں انسداد دہشت گردی پولیس نے باوقار ایرفورس ملٹری اکیڈیمی پر دھاوا کیا اور چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ حکام نے جنرل محمد دیسلی کو بھی حراست میں لے لیا جنھوں نے بغاوت کے دوران چیف آف اسٹاف ہلوسی اکر کو پکڑنے کی کارروائی کی تھی ۔ صدر ترکی رجب طیب اردوغان نے بغاوت کو شکست دینے کے بعد شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سڑکوں پر ہی موجود رہیں ۔ حکام نے اسے جمہوریت کیلئے چوکسی قرار دیا ہے ۔ سرکاری ملازمین کی سالانہ رخصت تاحکم ثانی منسوخ کردی گئی ہے ۔ ترکی کے تمام بڑے شہر وں میں صورتحال معمول کے مطابق نہیں ہے وہاں چوکسی برتی جارہی ہے ۔  اس دوران حکام نے جنوبی ترکی میں اُس کلیدی فضائی اڈے کی تلاشی شروع کی جسے امریکہ آئی ایس گروپ پر فضائی حملوں کیلئے استعمال کررہاہے ۔ اس کے علاوہ یونان کی عدالت اُن 8 ترک فوجی عہدیداروں کے بارے میں جمعرات کو فیصلہ کرے گی جو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ فرار ہوکر یہاں پہونچے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT