Saturday , December 15 2018

ترکی وکیل استغاثہ سعودی ولیعہد اور حلیفوں کی گرفتاری کے خواہاں

استنبول۔ 5 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے ایک وکیل استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی شہریوں کے خلاف جو ولیعہد محمد بن سلمان سے قربت رکھتے ہیں، صحافی جمال خشوگی کے قتل کے سلسلے میں راست گرفتاری وارنٹ جاری کئے جائیں۔ 2 اکتوبر کو خشوگی کی آئندہ شادی کی کاغذی کارروائی مکمل ہوچکی تھی، لیکن 59 سالہ خشوگی سعودی قونصل خانہ برائے استنبول میں 2 اکتوبر کو دستاویزات کے حصول کیلئے داخل ہونے پر ہلاک کردیئے گئے۔ وکیل استغاثہ اعلیٰ استنبول کے دفتر نے آج وارنٹس حاصل کرنے کیلئے آج درخواست پیش کی ہے۔ اس کی درخواست میں احمد الاسیری اور سعود ال قحطانی کے وارنٹس جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت نے اپنی دستاویزات میں ان کو ’’منصوبہ تیار کرنے والوں میں شامل‘‘ قرار دیا تھا۔’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں خشوگی کے مضامین شائع ہوا کرتے تھے۔ اسیری اکثر شہزادہ محمد کے بند دروازوں کے اجلاسوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ غیرملکی اعلیٰ عہدیدار بھی ان اجلاسوں میں اور القحطانی مشیر برائے ولیعہد کو حکومت سعودی عرب نے برخاست کردیا تھا جبکہ حکومت سعودی عرب نے اعتراض کیا تھا کہ سعودی قونصل خانہ میں خشوگی کو قتل کردیا گیا۔ ترکی کے بموجب ایک 15 رکنی سعودی ٹیم استنبول روانہ کی گئی تھی تاکہ خشوگی کو قتل کرسکیں۔ صدر ترکی رجب طیب اردگان نے کہا کہ قتل کرنے کا حکم حکومت سعودی عرب کی اعلیٰ ترین سطح سے جاری کیا گیا تھا لیکن انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ یہ ملک سلمان کا حکم نہیں تھا۔ حکومت سعودی عرب نے اس قتل کے سلسلے میں تاحال 21 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ طاقتور ولیعہد نے حملے کا حکم دیا تھا ۔ مملکت اس الزام کی سختی سے تردید کرتی ہے اور اس کا ادعا ہے کہ ولیعہد محمد بن سلمان اس قتل میں ملوث نہیں تھے، لیکن سینئر امریکی ارکان سینیٹ کا ادعا اس کا برعکس ہے۔

TOPPOPULARRECENT