Sunday , November 19 2017
Home / دنیا / ترکی کا انتباہ نظرانداز کرنے کا اعتراف ،مزید حملوں کا خطرہ

ترکی کا انتباہ نظرانداز کرنے کا اعتراف ،مزید حملوں کا خطرہ

پیرس اور برسلز میں گرفتاریاں، وزراء کے استعفے، مہلوکین میں غیرملکی شامل

برسلز۔ 25 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بلجیم کے حکام نے بالآخر اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے اور انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ترکی کے داعش کے جنگجوؤں سے متعلق انتباہ کو نظر انداز کیا تھا جبکہ ایسے مزید شواہد سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بلجیم کے انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خودکش بم دھماکوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ برسلز میں چہارشنبہ کے روز بم دھماکوں میں ملوث ایک حملہ آور اور اس کے متعدد ساتھی ابھی تک مفرور ہیں۔پولیس نے جمعرات کی شب دارالحکومت اور اس کے نواحی علاقوں میں دھاوؤں کے دوران چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ادھر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی ایک مشتبہ شخص کو حملے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔تاہم فرانسیسی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اس مشتبہ شخص کا برسلز میں ہوائی اڈے اور میٹرو ٹرین کے اسٹیشن پر بم دھماکوں اور 13 نومبر کو پیرس میں حملوں سے فی الوقت کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔

بلجیم میں حکومت نے دہشت گردی کے حملے کے خطرے کی سطح ایک درجہ کم کردی ہے۔البتہ حکام کا کہنا ہے کہ صورت حال بد ستور سنگین ہے اور ایک اور ممکنہ حملے کا خطرہ ہے۔ بیلجیئن وزیر انصاف کوئن گینز کا کہنا ہے کہ جو کچھ رونما ہوا ہے،ہم اس پر فخر نہیں کرسکتے ہیں۔ہم نے دراصل وہ کام کیا ہے جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ان کا اشارہ حملوں کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کی جانب تھا۔ برسلز میں بم حملوں کے بعد پورے یوروپ کی تنقید سے گھبرا کر فرانس اور بلجیم میں 7 مشتبہ دہشت گردوں کو تحویل میں لے لیا گیا اور دولت اسلامیہ کے خلاف جدوجہد میں شدت پیدا کردی گئی۔ 6 افراد کو بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں جبکہ ساتویں مشتبہ دہشت گرد کو پیرس کے مضافاتی علاقہ سے گرفتار کیا گیا۔ بلجیم میں ایک دہشت گرد فائرنگ کے تبادلہ میں معمولی زخمی ہوا۔ بلجیم کے وزراء نے بم حملوں کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اور محکمہ سراغ رسانی کی اطلاعات کے باوجود حملوں کو روکنے سے قاصر رہنے پر اپنے استعفیٰ وزیراعظم چارلس مشیل کو پیش کردیئے۔ انہوں نے استعفوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ ایک اور اطلاع کے بموجب بم حملوں کے مہلوکین میں نیدرلینڈس کا ایک بھائی اور بہن، ایک چینی شہری، ایک برطانوی شہری اور ایک امریکی شہری مہلوکین میں شامل ہونے کی توثیق ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT