Monday , November 20 2017
Home / مضامین / ترکی کا ریفرنڈم اور آمرانہ طرز عمل

ترکی کا ریفرنڈم اور آمرانہ طرز عمل

سلمان عابد)پاکستان(
ترکی کے صدر طیب اردغان عملی طور پر اپنے آپ کو ایک بڑے ریفرنڈم کی مدد سے طاقت ور صدر بننے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور ریفرنڈم نے ترکی کے پارلیمانی نظام کو مضبوط اور طاقت ور صدارتی نظام جو فرد واحد کے ساتھ جڑا ہوا ہے کے عمل کو یقینی بنایا ہے ۔حالیہ ریفرنڈم میں صدر طیب اردغان او رکے ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ وہ اس ریفرنڈم کی مدد سے 64فیصد ووٹ لینے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن عملی طور پر جو نتائج آئے ہیں اس کے مطابق 51.3فیصد ووٹ لینے میں طیب اردغان کامیاب ہوئے ہیں ، جبکہ ان کے فیصلے کی مخالفت میں 48.6فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اردغان اس ریفرنڈم میں ترکی کے بڑے شہروں استنبول، انقرہ،ازمیر، ادانہ، ریابکر میں اپنی عددی برتری حاصل نہیں کرسکے ۔
ترکی کی سب سے اہم حزب اختلاف کی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی نے ان نتائج کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ 60فیصد ووٹوں کی گنتی دوبارہ کی جائے ، کیونکہ بغیر سرکاری مہر کے ووٹوں کو قبول کرنا انتخابی دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے ۔ترکی اس ریفرنڈم سے قبل پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت چل رہا تھا ، لیکن اب اس کی حیثیت صدارتی نظام سے جڑ گئی ہے ۔ترکی میں طیب اردغان کے تین ادوار دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اول سماجی اور معاشی ترقی کا دور ، دوم اپنے سیاسی مخالفین کو دور کرنا اور گولن کے خلاف عملی  بغاوت اور سوم پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی طرف پیش قدمی ۔یہ سوال اہم ہے کہ کیا ترکی کا حالیہ ریفرنڈم صدر طیب اردغان کے لیے صدارتی نظام کی طرف پیش قدمی تھی یا واقعی ترکی کی ریاست کو ایک صدارتی نظام درکار تھا۔
لوگوں کو یاد ہوگا کہ طیب اردغان 2014کے انتخابات میں براہ راست صدر منتخب ہوئے تھے ۔ ترکی کے آئین میں صدر کی حیثیت ایک نمائشی عہدے کی تھی اور وزیر اعظم بااختیار تھا ۔ لیکن 2104میں صدر بننے کے بعد سے ہی طیب اردغان وزیر اعظم کے مقابلے میں ایک طاقت ور صدر کے طور پر ابھرنا چاہتے تھے او راس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ۔ گولن کے خلاف بغاوت یا فوجی بغاوت کے پس منظر کو بھی طیب اردغان کی فرد واحد کے طو رپر ایک مضبوط حکمران بننے کی خواہش کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے ۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی مدد سے ایک سے زیادہ مرتبہ کوشش کی کہ وہ آئینی ترمیم کی مدد سے ملک کے پارلیمانی نظام کو صدارتی اور خود کو عملی طور پر طاقت ور صدر کے طورپر سامنے لاسکیں ۔لیکن اس عمل میں ناکامی کے بعد طیب اردغان نے 18ویں ترمیم اپنی ہم خیال ملی حرکت پارٹی کی مدد سے پارلیمنٹ سے منظور کرکے اپنے ایجنڈے کو تقویت دی۔
یہ عمل بھی توجہ طلب ہے کہ حالیہ ترکی میں ہونے والا ریفرنڈم طیب اردغان کی بطور صدر،لگائی گئی ایمرجنسی ، حکومت اور جماعت کی طاقت کو برقرار رکھ کر کیا گیا ہے، جو اس کی ساکھ کو بھی چیلنج کرتا ہے ۔ یہ خبریں بھی موجود ہیں کہ اس ریفرنڈم کی مخالفت کرنے والوں کو اپنی مہم چلانے کی بھی اجازت نہیں دی گئی ، ایک ریاستی و حکومتی کنٹرول میں طیب اردغان کی حمایت میں مہم چلائی گئی ۔لیکن اس کے باوجود48.6فیصد لوگوں نے ان کے فیصلے کی مخالفت کی جو ظاہر کرتا ہے کہ حالیہ ریفرنڈم کا نتیجہ ترکی میں نئی سیاسی تقسیم پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔اس ریفرنڈم کے نتیجے میں صدر طیب اردغان نے لاتعداد اختیارات حاصل کرلیے ہیں ۔ اول وزیر اعظم کا عہدہ ختم ، دوم وہ خود نائب صدر اور وزرا کا تقرر کریں گے ، سوم پارلیمنٹ کو ختم کرنے اور حکومت بنانے یا ختم کرنے کا اختیار، چہارم سپریم کورٹ کے ایک تہائی ججس کی تقرری کا اختیار، پنجم ضرورت پڑنے پر ایمرجنسی اور بنیادی حقوق کی معطلی،ششم عدلیہ میں مداخلت کا اختیارجہاں وہ پہلے ہی سمجھتے ہیں وہاں گولن کے حمایت یافتہ لوگ موجود ہیں ، ششم فوجی ادارے پر بالادستی جیسے عوامل میں ترکی کے جمہوری مسقبل پر سوالیہ نشان ہے ۔
اگرچہ ترکی میں ریفرنڈم کے نتائج پر ایک بڑا طبقہ جشن منارہا ہے ، لیکن یہ مت بھولیں ایک دوسرا بڑا طبقہ ان نتائج کو نہ صرف قبول نہیں کررہا بلکہ اس پر ایک تقسیم بھی پیدا ہوگئی ہے ۔ کیونکہ جیت کا مارجن بہت ہی معمولی ہے ،اس لیے اس جیت کو آسانی سے قبول نہیں کیا جائے گا ۔ اگرچہ طیب اردغان کا دعویّ ہے کہ اس ریفرنڈم کے نتائج کے بعد ترکی جدید طرز کا ترکی بنے گا ، جبکہ اس کے برعکس کچھ سیاسی پنڈٹ اسے ایک بڑے بحران اور آمرانہ نظام یا فرد واحد کی مطلق العنانی کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔فوجی بغاوت کے بعد جس انداز سے ترکی میں وکلا، ججوں ، میڈیا، پروفیسرز، سول سوسائٹی ، حکومت مخالف عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاون کیا گیا جو پہلے ہی ترکی میں شخصی آزادی کو کمزور کرچکا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ریفرنڈم میںکامیابی کے لیے طیب اردغان نے جو منطق دی وہ بھی کافی دلچسپ ہے ۔ ان کے بقول جو لوگ بھی ان کی مخالفت میں ووٹ دیں گے وہ ترکی کے غدار ، فوجی بغاوت کے حامی ،گولن یا دہشت گردوں کے حامی ہونگے۔یعنی وہ مخالفین کو محب وطن بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ۔
یہ جو دلیل دی جارہی ہے کہ ترکی مستقبل میں ترقی کی طرف بڑھے گا ، لیکن پچھلے 2014کے بعد سے جو ترکی میں سیاسی او رمعاشی بحران بڑھ رہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ ریفرنڈم کی حکمت عملی بھی مزید نئے بحرانوں کو جنم دینے کا سبب بنے گی ۔ اگرچہ طیب اردغان اپنے آپ کو 2029تک اقتدار میں رکھ سکتے ہیں ۔ لیکن کیا وہ ان حالیہ اقدامات سے خود کو اور ترکی کو بڑے بحران سے بچاسکیں گے ، بظاہر ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا جو آسان نہیں ۔یہ جو جمہوریت اور قانون کو بطور ہتھیار استعمال کرکے خود کو فرد واحد یا مطلق العنان بنانے کا جنون پہلے بھی بہت سے حکمرانوں کو سوائے ناکامی کے کچھ نہیں دے سکا، ممکن ہے کہ وہ اقتدار میں رہیں ہوں لیکن ملک کا بیڑا غرق ضرور کیا ہے ۔ اس لیے طیب اردغان اقتدار کی خواہش اور مخالفین کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی اختیار کا مشکل فیصلہ کررہے ہیں۔
یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ترکی میںاس ریفرنڈم کے نتیجے کے بعد جو نئی مخالفانہ تقسیم پیدا ہوئی ہے یہ لوگ کس حد تک اپنی مزاحمت کو برقرار رکھتے ہیں یا ان کو مزاحمت کرنے کا حق ملتا ہے ۔ملکوں کے لیے نظام اہم ہوتے ہیں ۔جب فرد خود کو عقل کل سمجھ لے او رکہے اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا تو وہ مزید انتشار پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں طیب اردغان کی قیادت نے ترکی کو شاندار کامیابیاں دی ہیں، لیکن ان کامیابیوں نے طیب اردغان کو اقتدا ر کا جنونی بنادیا ہے ،مخالفین تو کجا انہوں نے اپنے حامیوں کو چن چن کر نکالا اور ان کو اپنا مخالف بنایا اس کا بھی دیانت داری سے تجزیہ کیا جانا چاہیے ۔پاکستان میں جو لوگ طیب اردغان کی جیت کو جمہوریت اور اسلام کی فتح سے جوڑ رہے ہیں ان کو بھی دیانت داری سے ترکی کی حالیہ چند برسوں کی سیاست کا جائزہ لینا چاہیے کہ طیب اردغان ترکی کو ایک مضبوط صدر کے طور پر کہاں لے جانا چاہتے ہیں ۔ تجزیہ کی نوعیت جذباتی کم اور عقل وفہم کی بنیاد یا دلیل پر ہونی چاہیے ، وگرنہ جذباتی باتوں سے ہم کسی بھی طور پر ترکی کو بہتر ترکی میں نہیں دیکھ سکیں گے ۔ یہ کہنا کہ ترکی کی داخلی سیاست سے ہمیںکیا سروکار، آج کی گلوبل سیاست میں ہم اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں کو سیاسی تنہائی میں نہیں دیکھ سکتے۔اس لیے جو لوگ ترکی کی حالیہ سیاست پر تحفظات کے ساتھ سوالات اٹھارہے ہیں ان کو بھی سنجیدگی سے زیر بحث لانا چاہیے ۔
کیونکہ یہ خدشات اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں کہ کیا اس طرز کی حکمرانی سے طیب اردغان بطور صدر ترکی کے اپنے اداروں کو متنازعہ یا کمزور نہیں بنائیں گے ۔کیونکہ جب ادارے فرد واحد کے تابع ہوکر خود قانون کا راستہ چھوڑ کر فردکی فرمانبرداری کریں گے تو اداروں کی ساکھ یقینی طور پر متاثر ہوگی ۔عمومی طور پر جمہوریت کی کامیابی میں بنیادی کنجی یہی ہے کہ یہاں شخصیات کی بجائے اداروںکی حکمرانی کو مضبوط ہونا چاہیے ۔ لیکن ہم یہاں جمہوریت اور قانون کی چھتری لے کر اپنے آپ کو طاقت ور بنانا چاہتے ہیں ۔یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ آخر ایسی کونسی وجوہات تھیں جس نے طیب اردغان کو ریفرنڈم کے فیصلہ پر مجبور کیا ، یقینی طور پر اس فیصلہ کی بنیاد ی وجہ وہ خود کو ایک ایسے طاقت ور حکمران کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیںجو کسی کو بھی جوابدہ نہ ہو۔
برائے رابطہ ای میل [email protected]

TOPPOPULARRECENT