Monday , June 25 2018
Home / عرب دنیا / ترکی کے اسکولس میں عربی ، رومی اسباق لازمی

ترکی کے اسکولس میں عربی ، رومی اسباق لازمی

استنبول ۔ 8 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )صدر ترکی رجب طیب اردغان نے ہائی اسکولس میں عربی حروف تہجی کے ساتھ رومی زبان کے اسباق کو لازمی قرار دینے کی ضرورت ظاہر کی ۔ اُن کے اس اقدام پر سیکولر قائدین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسلامی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ عصری ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک نے 1928 ء میں رومی زبان کو ختم کردیا اور اس کی جگہ عربی حروف تہجی کو لاطینی زبان سے مربوط کیا تھا ۔ انھوں نے عربی ، فارسی اور یونانی کے کئی الفاظ کو حذف کردیا تھا تاکہ ترکی زبان کو عام بول چال کی زبان سے مربوط کیا جائے ۔ رجب طیب اردغان کے نقادوں کا یہ دعوی ہے کہ اُن کا یہ منصوبہ اتاترک کے سیکولر اصلاحات کو ختم کرنے کی ایک اور کوشش ہے ۔ حالانکہ اتاترک نے مذہب اور حکومت کے درمیان فاصلہ برقرار رکھا تھا ۔ ترکی کی نیشنل ایجوکیشن کونسل نے تمام مذہبی ہائی اسکول میں رومی زبان میں کلاسیس کو لازمی قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر ہائی اسکولس میں اسے اختیاری قرار دیا گیا ہے ۔ اس کونسل کو اردغان کی اسلامی فکر کی حامل حکومت کی تائید حاصل ہے۔ اس کونسل نے سیاحتی ٹریننگ اسکولس میں بھی شراب نوشی سے متعلق کلاسیس پر امتناع کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ طیب اردغان کا یہ ماننا ہے کہ اسکولس میں ایسے اسباق ضروری ہیں جن سے ہمارے اسلاف کے ساتھ تعلق مضبوط ہوسکے کیونکہ نئی نسل خود اپنے اسلاف کے کتبہ پڑھنے کے قابل نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کوئی غیرملکی زبان نہیں ، یہ ترک زبان کی ایک شکل ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی ۔ وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے تنقید کرنے والوں پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آخر انھیں تاریخ سے الرجی کیوں ہیں ؟ وہ اپنی تہذیب و ثقافت سے نفرت کیوں کرتے ہیں ؟

TOPPOPULARRECENT