Wednesday , December 13 2017
Home / عرب دنیا / ترکی کے 14 بحری جنگی جہاز غائب،حکومت بھی لاعلم

ترکی کے 14 بحری جنگی جہاز غائب،حکومت بھی لاعلم

استنبول ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ترکی میں ناکام بغاوت کے اثرات تاحال مکمل طور پر ختم نہیں کئے جا سکے۔ اس وقت بھی ترکی میں خوف کا ماحول ہے اور ترک باشندوں سے صدر طیب اردغان نے جمہوریت کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف اس ناکام بغاوت کے بعد سے ترکی کے نیول چیف ایڈمرل ویسل کوسلی منظر عام سے غائب ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ان کے بارے میں تاحال علم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں ہیں ان کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو یرغمال بنایا گیا ہے یا وہ حکومت کی حراست میں ہیں۔ اس کے علاوہ صدر اردغان کیلئے ایک اور پریشان کن خبر یہ ہے کہ ترک نیوی کے متعدد جہاز بھی غائب ہیں۔ ان میں سے 14جہاز جنگی ہیں جن پر کافی زیادہ جنگی سازوں سامان لدا ہوا ہے۔ ان کے بارے میں یہ خبر آئی ہے کہ یہ جنگی جہاز یونان کی سمندر حدود میں بحیرہ ایجینن میں موجود ہیں اور ان جہازوں کے پائلٹس نے ترکی کے نیول ہیڈ کوارٹر سے واپسی کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا یہ جنگی جہاز مکمل طور پر کام کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بحیرہ ایجینن ترکی، یونان، مقدونیہ اور بلغاریہ کے درمیان واقع ہے۔ یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ ترک بحریہ کے سربراہ اس بغاوت میں شریک تھے یا نہیں لیکن ان کی روپوشی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

ترک صدر کی پہلی مرتبہ انقرہ آمد
انقرہ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام)صدر ترکی رجب طیب اردغان ناکام فوجی بغاوت کے بعد پہلی مرتبہ دارالحکومت انقرہ پہنچے ہیں۔ آج چہارشنبہ کو وہ انقرہ میں ملکی سکیورٹی کونسل اور کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ گزشتہ جمعہ کو ہوئی ناکام فوجی بغاوت کے بعد وہ پہلی مرتبہ ملکی دارالحکومت آئے ہیں۔ وہ اس دوران بحیرہ ایجیئن کے ساحلی مقام مارماریس میں مقیم تھے۔ مارماریس میں وہ اپنے حامیوں سے مسلسل رابطے میں رہے تھے۔ ترک صدر آج ہی جارجیا کے وزیر اعظم جیورجی کویری کاشویلی سے بھی ملیں گے۔

 

ترکی میں وکی لیکس پر پابندی
استنبول۔ 20  جولائی (رائٹر) ترکی میں انٹرنیٹ کی خدمات پر نگرانی رکھنے والی تنظیم نے خفیہ دستاویزات کا انکشاف کرنے والی ویب سائٹ ‘وکی لیکس’ کی جانب سے حکمراں اے کے پارٹی کی تقریبا ًتین لاکھ ای میل جاری کئے جانے کے بعد ویب سائٹ پر پابندی لگا دی ہے ۔بورڈ نے آج بتایا کہ وکی لیکس کے خلاف انتظامی قدم اٹھایا گیا ہے . ادارے جب بھی کسی ویب سائٹ کو بلاک کرتی ہے تو اسے انتظامی قدم قرار دیتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT