Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / ترک ۔ روس باہمی تعلقات کا نیا موڑ، آج اردغان ۔ پوتین ملاقات

ترک ۔ روس باہمی تعلقات کا نیا موڑ، آج اردغان ۔ پوتین ملاقات

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد صدر اردغان کا پہلا بیرونی دورہ۔ نومبر میں روسی طیارہ کو مارگرانے کے بعد مصالحتی سعی
استنبول ۔ 8 اگست (سیاست ڈاٹ کام) صدر رجب طیب اردغان منگل کو روس کیلئے روانہ ہورہے ہیں جو گذشتہ سال ایک روسی جنگی طیارہ کو ترکی کی جانب سے مار گرائے جانے کے سبب شکستہ باہمی روابط کو ازسرنو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے جبکہ ترکی کے روایتی حلیفوں امریکہ اور یوروپ کے ساتھ تعلقات میں تلخی آ گئی ہے کیونکہ انقرہ نے فوجی بغاوت کو شدت سے ناکام بنادیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ بات چیت کیلئے سینٹ پیٹرس برگ کو منگل کا دورہ اردغان کا 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے پہلا بیرونی سفر رہے گا۔ اس بغاوت میں بعض ترک ملٹری آفیسرس نے لڑاکا جیٹ طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کرلینے کی کوشش کی اور وہ رات تشدد بھری ثابت ہوئی جس میں زائد از 270 افراد ہلاک ہوگئے۔ ترکی اور روس دونوں کبھی جنگی نقطہ نظر سے اہمیت کے حامل شراکت دار باور کئے جاتے تھے۔ ان کے تعلقات گذشتہ لگ بھگ 7 ماہ سے کشیدہ ہوئے۔ اس لئے اب اردغان اور پوتین دونوں کی دلچسپی ہیکہ باہمی روابط کی کشیدگی ختم کرتے ہوئے معاشی اور تجارتی تعلقات کا احیاء کیا جائے

اور اس عمل کی شروعات جون میں ہوئی جب انقرہ نے روسی طیارہ کو مار گرانے پر معذرت خواہی کی تھی۔ وہ طیارہ پوسی شام میں بمباری کی پروازوں پر تھا۔ اردغان نے روسی سرکاری نیوز ایجنسی تاس کو انٹرویو میں کہا کہ یہ تاریخی دورہ رہے گا اور ایک نئی شروعات ہوگی۔ میرے دوست ولادیمیر کے ساتھ بات چیت میں میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے تعلقات میں ایک نیا باب رقم کیا جائے گا۔ ہمارے ملکوں کو مل کر بہت کچھ کرنا ہے۔ طیارہ مار گرائے جانے کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان شام کے معاملہ پر بھی تلخی پیدا ہوئی ہے۔ ماسکو اور انقرہ دونوں نے شام کی لڑائی میں متحارب فریقوں کی تائید و حمایت کی۔ یوں تو شام کے تعلق سے کسی بھی ملک کے موقف میں بنیادی طور پر تبدیلی نہیں آئی لیکن یہ مسئلہ روس ۔ ترکی کے درمیان روایتی تعلقات کی بحالی میں شاید رکاوٹ نہیں بنے گا۔ کریملن نے ترکی میں فوجی بغاوت ناکام ہونے کے فوری بعد اردغان کی تائید و حمایت میں آواز اٹھائی تھی۔ اس کے برخلاف یوروپی یونین نے مابعد بغاوت حکومتی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ یہ حقیقت ہیکہ ترکی کی سیاسی قیادت کو معلوم ہیکہ اس کے مفادات ماسکو سے کہیں زیادہ مغرب کے ساتھ جڑے ہیں لیکن روس عالمی منظر پر ایک طاقت کے طور پر مسلمہ حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے اردغان چاہیں گے کہ موجودہ حالات میں روس کے ساتھ ان کی حکومت کے تعلقات بحال ہوجائیں۔

ممبئی میں فتح اللہ کے ادارے بند کردیں: ترکی
دریں اثناء ترکی نے آج زور دیا کہ فتح  اللہ کے دہشت گرد نیٹ ورک سے جڑے ممبئی میں قائم ادارے بند کردیئے جانے چاہئے جس کے تعلق سے اس نے دعویٰ کیا کہ وہی ان کے ملک میں گذشتہ ماہ کی ناکام فوجی بغاوت کے پس پردہ کارفرما رہا۔ ممبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب ترکی کے قونصل جنرل اردال صابری ارگن نے ممبئی میں میڈیا والوں کو بتایا ہم نے ہندوستانی اور مہاراشٹرا کی حکومت سے درخواست کی ہیکہ ممبئی اور دیگر مقامات پر ایسے تمام ادارے بند کردیں جن کا تعلق اس نیٹ ورک سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ غیرقانونی نیٹ ورک ہے جو ناپاک عزائم رکھتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT