Saturday , August 18 2018
Home / Top Stories / تریپورہ میں بی جے پی کی شاندار کامیابی ، ناگالینڈ میں معلق اسمبلی ، میگھالیہ میں حکومت بنانے کانگریس کوشاں

تریپورہ میں بی جے پی کی شاندار کامیابی ، ناگالینڈ میں معلق اسمبلی ، میگھالیہ میں حکومت بنانے کانگریس کوشاں

اگرتلہ / کوہیما / شیلانگ ۔ 3 ۔ مارچ : (سیاست ڈاٹ کام ) : مودی لہر کی دوش پر سوار ہو کر بی جے پی نے آج تریپورہ کے کمیونسٹ قلعہ کو مسمار کردیا ۔ اس نے یہاں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ اپنی حلیف آئی پی ایف ٹی کے ساتھ اس نے اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی سی پی آئی ایم زیر قیادت بائیں بازو محاذ کے 25 سالہ دور حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا ۔ زعفرانی پارٹی نے جس کا تریپورہ میں ایک بھی کونسلر نہیں تھا ۔ 2013 کے انتخابات میں صرف دو فیصد ووٹ لیے تھے ۔ ناگا لینڈ میں اگرچیکہ بی جے پی ، این ڈی پی پی اتحاد کو اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی ہے اس سے اسمبلی معلق رہی ہے حکومت سازی کے امکانات موہوم دکھائی دیتے ہیں ۔ حکمراں این پی ایف جو سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھری ہے ۔ بی جے پی کو دعوت دی ہے کہ وہ اس کے ساتھ اتحاد کرے اور ریاست میں نئی طاقت بن کر ابھرے ۔اگرچیکہ بی جے پی ، این ڈی پی پی اتحاد میں حکومت بنانے کے قابل ہے اور وہ دیگر چھوٹی پارٹیوں سے مدد لے سکتی ہیں ۔ میگھالیہ میں بھی منقسم رائے دہی کی وجہ سے حکومت سازی کا مسئلہ درپیش ہے جبکہ اس ریاست کی حکمراں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اسے 21 نشستیں حاصل ہوئی ہیں ۔ سادہ اکثریت کے لیے کانگریس کو صرف 9 نشستوں کی کمی ہے ۔ تمام تینوں ریاستوں کی اسمبلیاں 60 رکنی ہیں تاہم مختلف وجوہات کے باعث 59 نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے ہیں ۔ میگھالیہ میں معلق اسمبلی تشکیل پائی ہے جہاں کانگریس 21 نشستوں کے ساتھ واحد بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھری ہے اور علاقائی جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کا اشارہ دی ہے ۔ ناگالینڈ میں بی جے پی کو 11 اور اس کی حلیف این ڈی پی پی کو 18 نشستیں ملی ہیں اور یہ دونوں کسی تیسری جماعت کی تائید کے بغیر حکومت تشکیل دے سکتی ہیں لیکن مرکزی وزیر کرن رجیجو نے سابق حلیف این پی ایف سے دوبارہ اتحاد کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ واضح رہے کہ اسمبلی انتخابات کے اعلان تک بی جے پی اس ریاست میں این پی ایف حکومت میں شامل تھی لیکن انتخابات کے اعلان کے بعد نو تشکیل شدہ این ڈی پی پی کے ساتھ مفاہمت کی تھی ۔ کانگریس کو تریپورہ اور ناگالینڈ میں ایک نشست پر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے ۔ اس دوران کانگریس ہائی کمان نے منی پور اور گوا انتخابات میں پیش آئے واقعات کے میگھالیہ میں اعادہ کو روکنے کیلئے اپنے دو سینئر قائدین احمد پٹیل اور کمل ناتھ کو شیلانگ روانہ کردیا ہے ۔ ناگالینڈ میں بھی بی جے پی نے اپنی حکومت کے قیام کی امید ظاہر کی ہے ۔ تریپورہ میں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعت کو اگرچہ 53 فیصد فوٹ ملے ہیں لیکن شکست خوردہ سی پی آئی ایم نے بھی حیرت انگیز طور پر زائد از 47 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں ۔ جس سے دیہی علاقوں میں اس کاووٹ بینک بدستور محفوظ رہنے کے اشارے ملے ہیں۔ چیف منسٹر مانک سرکار حلقہ دھن پور سے اطمینان بخش اکثریت کے ساتھ منتخب ہوچکے ہیں ۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ڈیپلپ حلقہ بن عملی سے منتخب ہوگئے ہیں ۔ کانگریس کی توجہ میگھالیہ پر مرکوز ہے اور اپنے نو منتخب ارکان کو انحراف سے بچانے کیلئے سینئر قائدین کو روانہ کرچکی ہے ۔

 

 

 

3 ریاستوں کے اسمبلی نتائج
تریپورہ 60/59 نشستیں
بی جے پی 43
سی پی آئی ایم 16
میگھالیہ
کانگریس 21
این پی ٹی 19
دیگر 17
بی جے پی 2
ناگالینڈ
بی جے پی 29
این پی ایف 29
دیگر 2
TOPPOPULARRECENT