Friday , July 20 2018
Home / Top Stories / تریپورہ میں سی پی آئی (ایم) کو بی جے پی سب سے بڑا چیلنج

تریپورہ میں سی پی آئی (ایم) کو بی جے پی سب سے بڑا چیلنج

سی پی آئی ( ایم) کو ریاست میں دوبارہ برسراقتدار آنے کا یقین ‘ بی جے پی اور سی پی آئی (ایم) قائدین کی پریس کانفرنسیں
اگرتلا۔4فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) تریپورہ میں آئندہ اسمبلی انتخابات امکان ہے کہ سی پی آئی (ایم) زیرقیادت بایاں بازو محاذ اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلے کی صورت میں برسرعام آئیں گے ۔ ریاست میں ماضی میں انتخابی جنگ سی پی آئی ایم اور کانگریس کے درمیان ہوتی رہی ہے ۔ سدیپ رائے برمن سابق صدر پردیش کانگریس اور ایک رکن اسمبلی جو بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں کہا کہ کانگریس سی پی آئی (ایم) سے مقابلہ کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں تھی ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی مارکسیوں کو اسمبلی انتخابات میں شکست دے گی۔ برمن جو 2013ء اسمبلی انتخابات کے وقت صدر پردیش کانگریس تھے ‘ کہا کہ 2013ء میں سی پی آئی ( ایم) کو سخت مخالف حکومت چیلنج درپیش تھا لیکن کانگریس کی مرکزی قیادت میں خفیہ طور پر ریاستی سی پی آئی ( ایم) کی مدد کی اور اس طرح وہ پارٹی کی پارلیمنٹ میں تائید حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔ سی پی آئی ( ایم) پولیٹ بیورو رکن پرکاش کرت نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس بار یہ بائیں محاذ اور بی جے پی کے درمیان 18فبروری کے انتخابات میں سخت مقابلہ ثابت ہوگا ۔ قبل ازیں ریاست کے تمام انتخابات بایاں محاذ اور کانگریس کے درمیان ہوتے رہے ہیں لیکن اس بار بی جے پی اور بایاں محاذ کے درمیان سخت مقابلہ ہے کیونکہ کانگریس قائدین اور کانگریس کے حامی بھگوا پارٹی سے اتحاد کرچکے ہیں ۔ پرکاش کرت نے یہ بھی کہا کہ جنوبی تریپورہ میں جمعہ کے دن جو انتخابی جلسہ ہوا تھا وہ یہی بات کہہ چکے ہیں کہ کانگریس ارکان اسمبلی بشمول برمن کانگریس سے انحراف کرکے بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں اور پہلی بار انہوں نے اپنی طاقت بی جے پی کی تائید کیلئے لگائی ہے ۔ کیونکہ انہیں پتہ چل گیا ہے کہ کانگریس سی پی آئی ( ایم) سے مقابلہ میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ برمن نے دعویٰ کیا کہ تریپورہ کانگریس کے نائب صدر تپس رائے نے بھی کہا ہے کہ بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی ریاست میں مستحکم ہوتی جارہی ہے اور ناقص حکمرانی اور سی پی آئی ( ایم) کے جانبدارانہ رویہ کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے ۔ سی پی آئی (ایم) نے کبھی بھی عوام کے جائز مطالبات کی تکمیل نہیں کی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی پی آئی ( ایم) کا رویہ دشمنی جیسا ہے ‘ اسی لئے عوام اس کی تائید نہیں کریں گے ۔ سی پی آئی ( ایم) کے ترجمان گوتم وکاس نے کہا کہ تریپورہ ایک مثالی ریاست ہے جو ترقی کے اعتبار سے ملک بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہے ۔سی پی آئی ( ایم) کے ترجمان نے کہا کہ بایاں بازو محاذ حکومت کی عوام دوست پالیسیاں خاص طور پر غریبوں اور محنت کشوں کی تائید اسے دوبارہ برسراقتدار لائے گی ۔ قبائلی ووٹوں کے اصول کے بارے میں اس نے کہا کہ ریاست کا 33%علاقہ قبائلی ہے ۔ بی جے پی نے تریپورہ کے عوامی محاذ کے ساتھ اتحاد کیا ہے ۔ بی جے پی اور محاذ کے درمیان اتحاد 20% قبائلی محفوظ حلقوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے ۔ مرنال کانتی دیب بی جے پی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پرکاش کرت زیرقیادت محاذ شورش پسندوں کا نقاب ہے اور اس نے ریاستی عوام کو 15سال قبل تک عوام کا قتل عام کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT