Tuesday , September 25 2018
Home / ہندوستان / تشدد پر اظہار رنج‘وادی کشمیر میںپُرامن موسم گرما کی امید

تشدد پر اظہار رنج‘وادی کشمیر میںپُرامن موسم گرما کی امید

مرکز کے خصوصی قاصد برائے کشمیر دنیشور شرما کی بات چیت
نئی دہلی ۔ 11مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکز کے خصوصی قاصد برائے مذاکرات برائے وادی کشمیر دنیشور شرما نے آج کہا کہ انہیں وادی کشمیر میں مسلسل تشدد پر رنج پہنچا ہے ‘ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ موسم گرما وادی کشمیر میں پُرامن رہے گا ‘ کیونکہ کئی افراد خاص طور پر نوجوانوں نے انہیں تیقن دیا ہے کہ وہ ریاست میں امن کے پیغامبروں کی حیثیت سے کام کریں گے ۔ لیہہ اور کارگل کے اپنے اولین دورہ سے قبل شرما نے کہا کہ نوجوان امن کیلئے کام کریں گے کیونکہ وہ سمجھ چکے ہیں کہ مسائل کی یکسوئی اُسی وقت ممکن ہے جب کہ ماحول پُرامن ہو ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ نوجوان پیغامبر امن کا کردار ادا کریں گے ۔ وہ پی ٹی آئی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے وادی کشمیر میں تشدد کے حالیہ واقعات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں مسلسل تشدد پر دکھ پہنچا ہے تاہم انہیں اُمید ہے کہ وادی کشمیر میں موسم گرما پُرامن رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ انہیں جموں و کشمیر کے عوام خاص طور پر نوجوانوں پر یقین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کے دورہ سے قبل وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ مرکز کے وادی کشمیر کیلئے چھٹے قاصد ہیں ‘ تاہم محکمہ سراغ رسانی کے سابق سربراہ نے کہا کہ وہ وادی کشمیر میں تشدد کے حالیہ اضافہ پر رنجیدہ ہیں اور فوج کو مشورہ دیتے ہیں کہ انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے ۔ یکادکا پُرتشدد واقعات پر فوری ردعمل ظاہر نہ کریں ۔ انہوں نے واضح کردیا کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلہ میں فوجیوں کا کردار خاص طور پر سرحدی علاقوں میں قابل ستائش ہیں ۔ جنوبی کشمیر کے علاقہ شوپیان کے گذشتہ ماہ دورہ کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو شکایات ہیں اور ان کی یکسوئی ضروری ہے ۔ تبادلہ خیال کے دوران انہوں نے کہا کہ عوام میں تلخی پائی جاتی ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے زخموں کا اندمال ہو‘ انہیں اب بھی امید ہے کہ فوجی ایسا کرسکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے نتیجہ میں تشدد ہی پیدا ہوتا ہے ۔ ایسی کوئی دخل اندازی آئندہ سیاحت کے موسم میں نہیں ہونی چاہیئے ۔ کیونکہ کئی گھرانوں کی زندگی سیاحت پر ہی منحصر ہے ۔ شکارہ والے ‘ ہاؤز بورڈ والے ‘ ڈرائیورس ‘ ہوٹلس وغیرہ وغیرہ کی زندگی سیاحوں پر ہی منحصر ہوتی ہیں ۔ وہ امید رکھتے ہیں کہ درست ذہنیت کے لوگ سیاحت کیلئے آئیں گے لیکن ان کی آمد پر عوام کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں ۔ شرما نے کہا کہ لوگوں کو غلط تشہیر کا شکار نہیں بننا چاہیئے بلکہ سرحد پار کے مفادات حاصلہ کی مزاحمت کرنی چاہیئے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT