Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / تشکیل تلنگانہ سے اقلیتوں کے حوصلے بلند

تشکیل تلنگانہ سے اقلیتوں کے حوصلے بلند

پروفیسر سلیمان صدیقی کو مولانا آزاد ایوارڈ ، جناب محمود علی کا خطاب

پروفیسر سلیمان صدیقی کو مولانا آزاد ایوارڈ ، جناب محمود علی کا خطاب
حیدرآباد۔/11نومبر، ( سیاست نیوز) تشکیل تلنگانہ سے اقلیتوں کے حوصلوں میں اضافہ ہوا ہے اور اقلیت خود کو محفوظ تصور کررہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ تمام طبقات کی یکساں ترقی کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے آج محکمہ اقلیتی بہبود کے زیر اہتمام منعقدہ ’’ یوم اقلیتی بہبود ‘‘ سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ یوم اقلیتی بہبود کے موقع پر پروفیسر سلیمان صدیقی کو مولانا آزاد یادگار ایوارڈ پیش کیا گیا جوکہ سند کے علاوہ ایک لاکھ 25ہزار رقم پر مشتمل ہے۔ جناب محمود علی نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے خطیر بجٹ مختص کئے ہوئے ہے اور اس بجٹ کے مکمل استعمال کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ حکومت نے2013-14کیلئے جو بجٹ مختص کیا تھا اس میں صرف 500کروڑ روپئے خرچ کئے گئے لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوگا بلکہ 1034 کروڑ روپئے کی رقم کو خرچ کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس موقع پر مولانا ابوالکلام آزاد کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی میں سب سے اہم و سیکولر کردار مولانا آزاد کا رہا ہے اور مولانا آزاد صرف ایک سیاسی قائد یا مدرس نہیں بلکہ انہوں نے بحیثیت صحافی بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کی آزادی میں مولانا آزاد کی جانب سے 1912 میں شروع کے گئے اخبار ’ الہلال‘ کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ مولانا آزاد کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اور وہ کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے جن کی کئی کتابیں آج بھی طلبہ کیلئے مشعل راہ ثابت ہورہی ہیں۔ جناب محمود علی نے بتایا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کا قیام عام آدمی کی خدمت کیلئے عمل میں لایا گیا ہے اور پارٹی اپنے مقصد قیام پر گامزن رہتے ہوئے حکومت چلارہی ہے۔ انہوں نے گزشتہ 57برسوں کے دوران تلنگانہ کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دور کرنے کیلئے سرکاری طور پر اقدامات کئے جائیں گے۔ جناب محمود علی نے اس موقع پر مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ حصول علم پر توجہ مرکوز کریں تاکہ ملازمتوں میں ملنے والے مواقعوں سے استفادہ کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال حکومت تلنگانہ 100طلبہ کو اسکالر شپ و فیس بازادائیگی کو یقینی بنائے گی۔ جناب محمد فاروق حسین نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران چیف منسٹر تلنگانہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر خواہ وہ کسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں لیکن وہ جو اعلان کرتے ہیں اس پر عمل آوری یقینی بناتے ہیں اسی لئے ان کی ستائش کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ مولانا آزاد کی شخصیت کو مشعل راہ بناتے ہوئے تعلیمی میدان میں اپنی کامیابی کے نشان چھوڑیں۔ جناب محمد فاروق حسین نے حکومت کی جانب سے مثبت ردعمل اور آئندہ برس سے ایوارڈز سے متعلق کمیٹی کے اعلان پر خیرمقدم کیا۔ سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ آج ملک میں جو آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم کا تعلیمی نظام و ادارہ جات موجود ہیں وہ مولانا آزاد کے دور وزارت کا ہی منصوبہ ہے جو اب قابل عمل ہوپایا ہے جس سے مولانا آزاد کی دوراندیشی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا نے 11برس تک ملک کی انتہائی اہم وزارتِ تعلیم کے عہدہ پر فائز رہے۔ جناب احمد ندیم نے اس موقع پر موجود شرکاء کو مشورہ دیا کہ وہ تعلیم پر وقت اور پیسہ دونوں خرچ کریں تاکہ اس سرمایہ کاری کے بہترین فوائد حاصل ہوسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے بھی جاریہ مالی سال کے بجٹ میں 60فیصد محکمہ اقلیتی بہبود کا بجٹ تعلیم کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی تعلیمی امداد کے ساتھ ساتھ ہمیں تعلیمی ترقی کیلئے اپنے طور پر بھی کوشش کرنی چاہیئے۔ اس موقع پر جناب مکیش کمار مینا ضلع کلکٹر حیدرآباد، جناب جلال الدین اکبر ڈائرکٹر اقلیتی کمشنریٹ، پروفیسر ایس اے شکور کے علاوہ مولانا محمد عثمان نقشبندی امام مکہ مسجد اور دیگر موجود تھے۔ جناب ارشد زبیری نے جلسہ کی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔

TOPPOPULARRECENT