Tuesday , December 11 2018

تشکیل تلنگانہ میں تمام طبقات کی جدوجہد ناقابل فراموش

سدی پیٹ 20 فبروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کیلئے لوک سبھا میںتلنگانہ بل کی منظوری کے ساتھ ہی سربراہ ٹی آر ایس مسٹر کے چندرا شیکھر راو کے آبائی ضلع میدک میں جشن کا ماحول دیکھا گیا۔ سماج کا ہر طبقہ کے سی آر کی طویل جدوجہد نے کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مٹھائیاں تقسیم کی اور جگہ جگہ پارٹی پرچم ل

سدی پیٹ 20 فبروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کیلئے لوک سبھا میںتلنگانہ بل کی منظوری کے ساتھ ہی سربراہ ٹی آر ایس مسٹر کے چندرا شیکھر راو کے آبائی ضلع میدک میں جشن کا ماحول دیکھا گیا۔ سماج کا ہر طبقہ کے سی آر کی طویل جدوجہد نے کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مٹھائیاں تقسیم کی اور جگہ جگہ پارٹی پرچم لہراتے ہوئے ریالیاں نکال رہے ہیں اور جلسے منعقد کررہے ہیں اس کے ساتھ ہی کے چندر شیکھر راو کو تلنگانہ کے دس اضلاع سے تلنگانہ حامیوں کے لامتناہی فون پر مبارکبادیاں پیش کی گئی ان دنوں سربراہ ٹی آر ایس دہلی میں تشکیل تلنگانہ کیلئے پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کرنے کے علاوہ قومی سطح پر مختلف قائدین کے ساتھ مشاورت میں مصروف ہیں اس کے علاوہ ٹی آر ایس پارٹی کے ارکان اسمبلی و کونسل بھی دہلی میں قیام کئے ہوئے ہیں جن میں رکن اسمبلی سدی پیٹ، ٹی آر ایس پارٹی مسٹر ٹی ہریش راو نے بھی دہلی میں رہ کر تلنگانہ کی تشکیل کے مرحلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے نمائندہ سیاست سدی پیٹ مسٹر کلیم الرحمن سے ٹیلیفون پر ربط رکھتے ہوئے تشکیل تلنگانہ پر مبارکباد پیش کی اور تلنگانہ کے دس اضلاع بالخصوص ضلع میدک کے سدی پیٹ کے عوام کو بھی تلنگانہ تحریک میں تعاون کرنے پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ لوگوں کی محنت بلاآخر کامیابی کا ضامن بنی اور علحدہ ریاست تلنگانہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ کئی برسوں سے تشکیل تلنگاہ کیلئے ایک طویل پرامن تحریک چلائی گئی جو بے مثال ہے کیونکہ اس میں کسی قسم کا تشدد ہوا اور نہ ہی کسی قسم کی گڑ بڑ جیسے واقعات پیش آئے ۔ تحریک تلنگانہ میں بلا مذہب و ملت تلنگانہ کا ہر طبقہ بڑھ چڑھ کر احتجاج اور ریالیوں میں شریک رہے جن کی جدوجہد ناقابل فراموش ہے انہوں نے ہر طبقے کافرداً فرداً شکریہ کا اظہار کیا ۔ مسٹر ہریش راو نے مزید کہا کہ 1969 میں بھی تلنگانہ تحریک کافی عروج پر پہنچ چکی تھی لیکن اس وقت آندھرائی لابی اقتدار کے نشے میں اپنی طاقت کے بل بوتے پر پولیس فائرنگ کروائی گئی جس میں سینکڑوں نوجوان اپنی جانوں کی قربانیاں دیں جس کے بعد مسٹر کے سی آر نے ایک دہے سے بھی زائد عرصے سے ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کے ذریعہ تلنگانہ کے ساتھ ہونے والی مسلسل نا انصافیوں اور آندھرائی حکمرانوں کی اجارہ داری، حق تلفی ، زور زبردستی سے تنگ آکر تحریک میں شامل ہوگئے سینکڑوں نوجوان نے تشکیل تلنگانہ میں تاخیر پر مایوس ہوکر خودکشی کرلی آج جبکہ تشکیل تلنگانہ بل آخری مرحلے پر پہنچ گیا ہے ایسے میں ہم شہدائے تلنگانہ کو یاد کرتے ہوئے ان کی شہادت کو خراج پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ نئی ریاست تلنگانہ میں فرقہ پرستی کا خاتمہ ہوگا لوگوں کو روزگار کے مواقع دستیاب ہوں گے اور تلنگانہ سے ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے بل کی پیشکشی کے موقع پر پارلیمنٹ میں آندھرا کے قائدین نے جس انداز میں جمہوریت کا مذاق اڑا یا اس کی مذمت کرتے ہیں۔ تلگو عوام کی ایک اور ریاست وجود میں آئی ہے ایسے میں ہم پڑوسی ریاست کے ساتھ دوستانہ ماحول اورخلوص حسن سلوک کو برقرار رکھتے ہوئے تلنگانہ کی تاریخی تہذیب و سماجی روایات کا بھر پور مظاہرہ کریں گے۔ آخر میں انہوں نے صدر کل ہند کانگریس شریمتی سونیا گاندھی کی وعدے کی تکمیل پر بھی شکریہ کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ راجیہ سبھا میں بھی تلنگانہ بل کی منظوری مل جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT