Thursday , December 13 2018

تشکیل تلنگانہ میں رکاوٹوں کی سخت مذمت

حیدرآباد ۔ 3 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے سلسلہ میں صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ریاستی اسمبلی کو روانہ کردہ بل میں ترمیمات کے علاوہ بل کی منظوری کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے تلنگانہ پرجا فرنٹ کے زیر اہتمام ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس گول میز کانفرنس کے دوران تلنگانہ حامی تنظیموں کے ذمہ داران

حیدرآباد ۔ 3 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے سلسلہ میں صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ریاستی اسمبلی کو روانہ کردہ بل میں ترمیمات کے علاوہ بل کی منظوری کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے تلنگانہ پرجا فرنٹ کے زیر اہتمام ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس گول میز کانفرنس کے دوران تلنگانہ حامی تنظیموں کے ذمہ داران نے بل کے مختلف نکات بشمول ریاستی اسمبلی کی جانب سے ’ آندھرا پردیش تشکیل جدید بل 2013 ‘ کو مسترد کئے جانے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا ۔ تلنگانہ پرجا فرنٹ نے صدرجمہوریہ کی جانب سے روانہ کردہ بل میں موجود 11 نکات پر عوامی رائے پیش کرتے ہوئے حیدرآباد کو صدر مقام بنائے جانے اور لا اینڈ آرڈر گورنر کے زیر انتظام رکھے جانے کی سختی سے مخالفت کی ۔ علاوہ ازیں علحدہ ہائی کورٹ کے مسئلہ پر بھی بحث کی گئی ۔ اس گول میز کانفرنس کی صدارت صدر تلنگانہ پرجا فرنٹ مسٹر یم ویدکمار نے کی ۔ اس اجلاس کے شرکاء میں پروفیسر ہرا گوپال ، ڈاکٹر گوپال کرشن ، پروفیسر جی لکشمن ، پروفیسر انور خاں ، مولانا حامد محمد خاں کے علاوہ دیگر شامل ہیں ۔ جنہوں نے علحدہ ریاست کی تشکیل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششوں کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف ایک علاقہ کے عوام کے جذبات کے نام پر سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے ۔ تلنگانہ پرجا فرنٹ کی اس اجلاس میں تشکیل تلنگانہ کے بل میں ترمیمات کے سلسلہ میں وصول کی گئی تجاویز میں ہائی کورٹ کے فوری قیام کے علاوہ ملازمین کے تقرر کے لیے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے قیام کے سلسلہ میں نمائندگی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

اجلاس کے شرکاء نے موجودہ بل میں ترمیم نہ کئے جانے کی صورت میں تلنگانہ کے ساتھ نا انصافیوں کا سلسلہ جاری رہنے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بل موجودہ نقائص کے ساتھ منظور کرلیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ ریاست کو مزید دس سال جدوجہد کرنی پڑے گی ۔ گول میز کانفرنس کے شرکاء نے بتایا کہ حیدرآباد کو 10 سال تک کے لیے مشترکہ صدر مقام بنائے جانے کی صورت میں حالات مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے اسی لیے اس مدت میں کمی کی جانی چاہئے چونکہ ایسا نہ کرنے پر تلنگانہ سیما ۔ آندھرا قائدین کے تسلط سے آزاد ہونے کے باوجود اس کے زیر اثر رہے گا ۔ مسٹر ایم ویدکمار نے اس موقعہ پر بتایا کہ ’ آندھرا پردیش تشکیل جدید بل 2013 ‘ میں 11 ترامیم کے سلسلہ میں تلنگانہ پرجا سمیتی گورنر کے علاوہ مرکزی کابینہ میں موجود تلنگانہ وزراء اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے قائدین ، منتخب عوامی نمائندوں کے علاوہ ریاستی وزراء سے نمائندگی کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فوری طور پر ان 11 نکات پر ترمیم کے لیے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی منصوبہ بندی کی جائے گی تاکہ بل کی موجودہ حالت میں منظوری کے بجائے ترمیم شدہ بل کو منظور کروانے میں کامیابی حاصل کی جاسکے ۔ جناب حامد محمد خاں نے اس موقعہ پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ بل میں ترمیم کے لیے حکومت کو توجہ دلائی جائے گی تاکہ حکومت اس مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ کرسکے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ علحدہ ریاست کی تشکیل کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کی جانب سے روانہ کردہ بل میں تلنگانہ حامی تنظیموں کے علاوہ سیاسی جماعتوں نے بھی ترمیم کی درخواستیں روانہ کی ہیں جنہیں قبول کیا جانا چاہئے چونکہ موجودہ صورت میں بل کی منظوری تلنگانہ عوام کے نقصان کے مترادف ثابت ہوگی ۔ انہوں نے بتایا کہ بل میں پولاورم پراجکٹ کا تذکرہ موجود نہیں ہے جب کہ اس کے ڈیزائن میں ترمیم کے بغیر اس کی تعمیر کو منظوری نہیں دی جانی چاہئے ۔ اس موقعہ پر مسٹر ین کرشنا ، مسز دیویندرا ، مسٹر ثنا اللہ خاں ، مسٹر ساجد خاں ، مسٹر اسلم عبدالرحمن کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT