تشکیل تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا کوئی عمل دخل نہیں

کریم نگر۔/16اپریل، ( سید محی الدین کی رپورٹ ) کل ہند کانگریس پارٹی صدر مسز سونیا گاندھی کا دورہ کریم نگر پانچویں مرتبہ ہے لیکن ریاست تلنگانہ کے قیام کے اعلان کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ ضلع مستقر پر منعقدہ جلسہ عام کامیابی جشن یا اظہار تشکر انتخابی مہم پروگرام میں ان کی شرکت کے سلسلہ میں بڑے پیمانے پر کانگریس پارٹی نے امبیڈکر اسٹیڈی

کریم نگر۔/16اپریل، ( سید محی الدین کی رپورٹ ) کل ہند کانگریس پارٹی صدر مسز سونیا گاندھی کا دورہ کریم نگر پانچویں مرتبہ ہے لیکن ریاست تلنگانہ کے قیام کے اعلان کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ ضلع مستقر پر منعقدہ جلسہ عام کامیابی جشن یا اظہار تشکر انتخابی مہم پروگرام میں ان کی شرکت کے سلسلہ میں بڑے پیمانے پر کانگریس پارٹی نے امبیڈکر اسٹیڈیم میں انتظامات کئے ہیں اور انتہائی والہانہ انداز میں ان کا خیرمقدم کیا گیا۔ ضلع کریم نگر انقلابی تحریک کا گڑھ رہا ہے۔ مسز سونیا گاندھی ٹھیک 4بجے بذریعہ ہیلی کاپٹر کریم نگر کلکٹریٹ ہیلی پیاڈ پر اُترنے کے بعد خصوصی کار کے ذریعہ امبیڈکر اسٹیڈیم کے جلسہ گاہ میں داخل ہوئیں اور شہ نشین پر پہنچ کر 13اسمبلی حلقوں سے آئے ہوئے امبیڈکر اسٹیڈیم میں موجود عوام اور قائدین کی جانب سے کئے جانے والے استقبال کا دونوں ہاتھ جوڑ کر اور ہاتھ ہلاکر جواب دیا۔

بعد ازاں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ابتدائی کلمات سونیا گاندھی کی ستائش کرنے کے بعد سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا نے مخاطب کیا۔ انہوں نے مخاطب کرتے ہوئے بتایاکہ تلنگانہ کن دشوار کن حالات سے نمٹتے ہوئے دیا گیا اور اس سلسلہ میں مسز سونیا گاندھی اور کانگریس کے کردار کا ذکر کیا۔ انہوں نے کے سی آر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جھوٹے اور دھوکہ باز قائد ہیں۔انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے پہلے تو اعلان کیا کہ تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر دلت ہوگا اور ڈپٹی چیف منسٹر مسلمان ہوگا لیکن اب خود چیف منسٹر بن جانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔مسٹر دامودر راج نرسمہا نے مسز سونیا گاندھی کو خطاب کرنے کی دعوت دی۔مسز سونیا گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے عوام60سال سے جو خواب دیکھتے آرہے تھے وہ خواب اب حقیقت میں بدل چکا ہے۔2جون کو ملک کی 29ویں ریاست تلنگانہ کا قیام عمل میں آجائے گا۔سونیا گاندھی نے کہا کہ کسانوں، خواتین ، وکلاء، ملازمین سبھی کو جو بھی تلنگانہ تحریک میں حصہ لے چکے ہیں انہیں ان کے جذبہ اور قربانیوں کی میں قدر کرتی ہوں اور ان کے جذبہ کو سلام کرتی ہوں۔ سونیا گاندھی نے کہاکہ مجھے تلنگانہ کے قیام کیلئے دیگر سیاسی پارٹیوں کو سمجھانے اور منانے میں کافی وقت لگا اور بہت ساری رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا اور یہی سیما آندھرا کے علاقہ کے قائدین کو بہت کچھ سمجھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں علاقوں کے عوام میرے دل کے قریب ہیں اس لئے میں نے سیما آندھرا کے عوام سے جو وعدے کئے ہیں انہیں پورا کرنا ہے اور اسے پورا کیا جائے گا۔

کانگریس کیلئے علحدہ ریاست تلنگانہ کا قیام کافی مشکل تھا لیکن میں نے اسے پورا کرنے کی ٹھان لی تھی اور اسے پورا کردکھایا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہی تلنگانہ علحدہ ریاست بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے بل تیار کیا اور دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں منظور کروالیا۔ حالانکہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے مشکلات کھڑی کی اور ٹی آر ایس ۔ تشکیل تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ تلنگانہ کی تحریک جدوجہداور تلنگانہ کے قیام کے سلسلہ میں ستمبر 2000ء میں کانگریس کے 40سے زائد ارکان اسمبلی نے علحدہ تلنگانہ کیلئے تحریری مکتوب حوالے کیا تھا۔کانگریس نے علحدہ تلنگانہ ریاست کا قیام کرتے ہوئے 10اضلاع کے چار کروڑ عوام کی خواہش کو پورا کیا ہے۔ سماجی انصاف کے تحت کانگریس نے اپنے پکے ارادے اور فیصلہ پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ میں دلت ، قبائیل، خواتین اور نوجوانوں، غریب عوام کے ساتھ مکمل انصاف کیا جائے گا۔اس موقع پر مسز سونیا گاندھی نے کہا کہ آنجہانی اندرا گاندھی اور آنجہانی راجیو گاندھی نے جمہوریت کی حفاظت و استحکام کیلئے ہمیشہ عوام کو جوڑنے کا کام کیا ۔ لیکن بی جے پی عوام کے دلوں کو توڑنے اور فرقہ پرستی کی حوصلہ افزائی کی ہے اس لئے عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ کس طرح کی حکومت ہونی چاہیئے۔

انہوں نے عوام سے کہا کہ کسی کے بہکاوے میں نہ آتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ انہوں نے کانگریس کے مرتب کردہ منشور کا ذکر کرتے ہوئے اس کی حفاظت اور عمل آوری کا تیقن دیا۔مسز سونیا گاندھی نے تیقن دیا کہ تلنگانہ کی ہر طرح سے ترقی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ 4000میگا واٹ برقی پلانٹ کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ آئندہ دس برسوں تک صنعتوں کے قیام اورپیداوار کی فروخت پر ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سے حاصل تمام تر آمدنی میں صرف تلنگانہ کا حصہ ہوگا کسی اور کا نہیں۔کانگریس منشور میں کسانوں کے قرض میں کمی کرنے ، آبپاشی پراجکٹوں کی تعمیر کو رکھا گیا ہے۔ تلنگانہ کے ساتھ ساتھ علاقہ آندھرا اور رائل سیما کی بھی ترقی کیلئے پوری توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس جو وعدے کرتی ہے اسے بہر صورت پورا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ دونوں علاقوں کیلئے بھائیوں کی طرح مل جل کر رہنے اور خوشگوار حالات پیدا کئے جائیں گے۔

مسز سونیا گاندھی نے کہا کہ اب جدوجہد کے دن ختم ہوچکے ہیں، ناانصافیاں نہیں ہوں گی اور اب ذمہ دارانہ حکومت کرنے ملک و ریاست کو خوشحالی کی سمت لے جانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے سبھی سے کام لیا جائے گا اور مشورہ لیا جائے گا اور جمہوری طرز پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دوسروں کی طرح بڑے بڑے جھوٹے وعدے نہیں کرتی بلکہ جو وعدے کرتی ہے وہ پورا کرتی ہے۔ مسز گاندھی نے عوام سے کہا کہ 30اپریل یعنی انتخابات کے دن آپ اپنی قسمت کا فیصلہ کریں کہ آئندہ پانچ سال کے لئے آپ کو کس طرح کی حکومت چاہیئے۔ یہ فیصلہ کرنا آپ کے ہاتھ ہے، اس لئے آپ اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنے وعدوں کی تکمیل کرنے میں یقین رکھتی ہے اور وعدے پورے کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT